اشاعتیں

اقبال لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اقبال کے نام پر

چند دن قبل اقبال   کے نام پر چلنے والے ایک بین الاقوامی "تحقیقی" ادارے کی لائبریری میں جانے کا اتفاق ہوا۔ استقبالیہ پر کلام اقبال کے  نیلے پیلے فریم لگے دیکھے۔ ایک شعر   یوں رقم تھا : حسنِ کردار سے نورِ مجسم ہو جا کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہو جائے ​ کونے میں شاعر کا نام انگریزی میں علامہ اقبال درج تھا گویا شعر کو اردو   میں درج کرنے سے ادارے کی بین الاقوامی شان میں جو کمی آئی تھی اسے لاطینی حروف کے بگھار سے مٹایا گیا ہو۔ کسی تحقیقی ادارے کا استقبالیہ ایسی جگہ ہے جہاں روزانہ  آنے والے محققین کی نظر لازما پڑتی ہو گی۔ اس ایک فریم کو دیکھ کر ادارے کی حالت زار کا اجمالی  اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ اگر سوشل میڈیا پر اس طرح کے اشعار اقبال کے ہیش ٹیگ یا ہینڈل کے ساتھ شئیر ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ عوام کی علمی حالت کا سب کو اندازہ ہے لیکن یہ کسی المیے سے کم نہیں کہ ایک آزاد ملک میں اقبال کے نام پر بننے اور امداد لینے والے تحقیقی اداروں میں بھی کلام اقبال سے یہ سلوک کرنے کی آزادی ہو، جب کہ شہر میں اہل علم کا کوئی قحط نہیں۔ ...

مسئلہ قادیانیت پر سٹیٹسمین کے جواب میں۔ علامہ محمد اقبال کی ایک تاریخی تحریر

مسئلہ قادیانیت پر سٹیٹسمین کے جواب میں تحریر: علامہ محمد اقبال   ​ (اخبار سٹیٹسمین،{دہلی} نے اپنی ۱۴ مئی ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں حضرت علامہ کا بیان ، قادیانی   اور جمہور مسلمان شائع کیا اور ساتھ ہی اس پر ایک تنقیدی اداریہ بھی لکھا ۔ اقبال رحمہ اللہ کا یہ مضمون دراصل اسی اداریہ کا جواب ہے جو ۱۰ جون ۱۹۳۵ء کو اخبار مذکور میں طبع ہوا۔) ​ میرے بیان مطبوعہ ۱۴ مئی پر آپ نے تنقیدی اداریہ لکھا ، اس کے لیے میں آپ کا ممنون ہوں ۔ جو سوال آپ نے اپنے مضمون میں اٹھا یا ہے وہ فی الواقعہ بہت اہم ہے اور مجھے مسرت ہے کہ آپ نے اس سوال کی اہمیت کو محسوس کیا ہے ۔ میں نے اپنے بیان میں اسے نظر انداز کر دیا تھا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے خود حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی اقدام اٹھائے اور اس کا انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب مطالبہ کرتے ہیں اور مجھے اس احساس میں حکومت کے سکھوں کے متعلق رویہ سے اور بھی تقویت ملی۔...

علامہ اقبال کے حضور

علامہ اقبال کے حضور  تحریر: پروفیسر حکیم   عنایت اللہ نسیم سوہدروی علیگ مارچ۲۷ ء کا وہ دن میری زندگی کا ایسا دن تھا جس کی چاندنی آج بھی میرے محسوسات کو جگمگائے ہوئے ہے ۔ یہ وہ دن تھا جب مجھ ایسے ہیچمدان کو زندگی میں پہلی بار نابغہءروزگار حکیم الامت علامہ اقبال کے حضور حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ راقم ان دنوں علی گڑھ   مسلم یونیورسٹی   طبیہ کالج   میں زیر تعلیم تھا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملتِ اسلامیہ کے دلوں میں قادیانیوں کے دل آزار و خود ساختہ معتقدات اور ان کی ژاژ خائیوں کے باعث اشتعال وبیزاری کا ایک طوفان برپا تھا اور پورے برعظیم میں نفرت کی فضا تھی ۔ پنجاب میں انجمن حمایتِ اسلام لاہور  نے اپنے ایک اجلاس میں جو علامہ اقبال رح کی صدارت میں ہوا باضابطہ اعلان کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر انجمن کے اداروں سے الگ کر دیا تھا ۔ پنجاب کے بعد علی گڑھ میں بھی طلبہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے اور الگ کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا اور اس سلسلے میں مولانا ظفر علی خان   اور سید عطاءاللہ شاہ  بخاری جیسی قومی شخصیات ...

فکرِ اقبال اور قادیانی تحریک​

فکرِ اقبال   اور قادیانی   تحریک ​ تحریر :  علیم ناصری رحمہ اللہ ، مدیر الاعتصام  ​ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں انگریز فاتح کی حیثیت سے مختارِکل بن گیا ۔ اس نے مغل سلطنت کے تاروپود بکھیر دِیے اور ہندو ریاستوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا ۔اس کو مسلمان قوم سے بہرحال خطرہ درپیش تھا کیوں کہ اس قوم میں جذبہء جہاد   کسی بھی وقت ابھر آنے کی توقع تھی۔ اس لیے اس نے اس کے فکری محاذ اور دینی عقائد پر ضربِ کاری لگانے کی ڈپلومیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور انگلستان اور دیگر یورپی ممالک سے عیسائی مشنری  [مبلغین اور دانشور] یہاں درآمد کرنے شروع کیے۔ یہی وہ صورتِ حال تھی جس پر اکبرالہ آبادی مرحوم نے کہا تھا ۔۔ ​ توپ   کھسکی پروفیسر پہنچے اب بسولا   ہٹا تو رندا ہے ​ یعنی حرب و ضرب [توپ و تفنگ] کے سامان کے بعد تعلیم و تبلیغ کے ہتھیار سے کام لینے کا وقت آ گیا۔ بسولا یعنی تیشہ کو سامانِ حرب سے تشبیہ دی ہے اور رندا کو تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنے کے عمل کے لیے بطورِاستعارہ استعمال کیا گیا ہے ۔ ​ ان مشنریوں کے مقابلے می...

استشراق کے متعلق اقبال کے تاثرات

پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ   مشہور مستشرق اور فلسفے میں اقبال   کے استاد تھے ۔ سید نذیر نیازی   نے ایک جگہ آرنلڈ کی وفات کے بعد ہونے والی گفتگو کا یوں ذکر کیا ہے : " ۱۷ کی صبح کو میں لاہور پہنچا ۔ حضرت علامہ ایک طرح سے منتظر ہی تھے ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو اول ڈاکٹر انصاری مرحوم اور غازی موصوف کی خیریت مزاج دریافت کرتے رہے ، پھر احباب جامعہ بالخصوص ذاکر صاحب، عابد صاحب اور مجیب صاحب کا پوچھا ۔ باتوں باتوں میں ترکوں اور ترکی سیاست کا ذکر آ گیا اور پھر اس سلسلے میں نہ معلوم کس طرح اس روز کے اخبار کا ۔ میں نے عرض کیا آرنلڈ کاتو آپ نے سن ہی لیا ہو گا۔ متعجب ہو کر فرمایا: کیا؟ میں نے کہا صبح کے اخبار میں ان کے انتقال کی ۔۔۔ بس اتنا کہنا تھا کہ حضرت علامہ کی آنکھیں اشکبا ر ہو گئیں اور پھر سر جھکا کر چند لمحے خوب روئے ۔ یوں ان کے دل کا بخار ہلکا ہوا تو فرمایا : Iqbal has lost his friend and teacher. اقبال اپنے استاد اور دوست سے محروم ہو گیا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اتنے گہرے روابط اور تعلقِ خاطر کے باوجود جب میں نے آرنلڈ کے مرتبہء استشراق   اور اسلام...
دل در سخنِ محمدی بند اے پورِ علی ز بو علی چند چوں دیدہ ء راہ بیں نداری قاید قرشی بہ از بخاری اے اولاد علی ( خلیفہ راشد حضرت علي رضي اللہ عنہ ) تو کب تک بوعلی (سینا) کے فلسفے سے چمٹا رہے گا ؟ تو اپنا دل سخن محمدی ــــ حدیث رسول ــــ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لگا ۔ چونکہ تیرے پاس راستہ پہچاننے والی آنکھ نہیں ، اس لیے کسی بخاري( بوعلی سینا) کوراہبر بنانے سے بہتر ہے کہ قریشی ( صلى اللہ عليہ وسلم ) کو راہنما بنا ۔ فارسی شاعرافضل الدین خاقانی کی مثنوی تحفہ العراقین کے ان اشعار کو اقبال نے اپنی نظم ’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام ‘ کے آخر میں شامل کیا ہے ۔