اشاعتیں

آزادی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اے وطن پاک وطن روح روان احرار

وطن جوش ملیح آبادی اے وطن پاک وطن روح روان احرار اے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہار اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقار اے کہ ہر  خار ترا  روکش صد روئے نگار ریزے الماس کے تیرے خس و خاشاک میں ہیں ہڈیاں اپنے بزرگوں کی تری خاک میں ہیں پائی غنچوں میں ترے رنگ کی دنیا ہم نے تیرے کانٹوں سے لیا درس تمنا ہم نے تیرے قطروں سے سنی قرات دریا ہم نے تیرے ذروں میں پڑھی آیت صحرا ہم نے کیا بتائیں کہ تری بزم میں کیا کیا دیکھا ایک آئینے میں دنیا کا تماشہ دیکھا پہلے جس چیز کو دیکھا وہ فضا تیری تھی پہلے جو کان میں آئی وہ صدا تیری تھی پالنا جس نے ہلایا  وہ ہوا تیری تھی جس نے گہوارے میں چوما وہ صبا تیری تھی اولیں رقص ہوا مست گھٹائیں تیری بھیگی ہیں اپنی مسیں آب و ہوا میں تیری اے وطن آج سے کیا ہم تیرے شیدائی ہیں آنکھ جس دن سے کھلی تیرے تمنائی ہیں مدتوں سے ترے جلووں کے تماشائی ہیں ہم تو بچپن سے ترے عاشق و سودائی ہیں بھائی طفلی سے ہر اک آن جہاں میں تیری بات تتلا کے جو کی بھی تو زباں میں تیری حسن تیرے ہی مناظر نے دکھایا ہم کو تیرے ...

ماؤں بہنوں کی عزت کے رکھوالے

ایمان داری سے تجزیہ کریں تو مجھے پاکستان کے دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسند رہنماؤں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ دونوں طرف خواتین کی تصاویر کو نازیبا انداز میں ایڈٹ کر کے سیاسی جلن نکالنے والے موجود ہیں۔ دونوں طرف کے لوگ مرد رہنماؤں کے ہر قسم کے سکینڈل ان کی سماجی حیثیت کے سبب دبا دیتے ہیں جب کہ خواتین کے انتہائی ذاتی معاملات میں ناک گھسیڑنا اور ان کو کردار کی سند جاری کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایک زمانے میں دائیں بازو والوں نے  ایک ذہین اور باصلاحیت خاتون رہنما کی عزت پر اس لیے حملے کیے کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی جائز نہیں، کچھ دہائیوں بعد اسی دائیں بازو کی خواتین ایوان نمائندگان میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر بھی نظر آئیں اور کونسلرز کے انتخابات بھی لڑتی نظر آئیں۔ ایک جماعت کے رہنما کی ہر بیوی کے متعلق دائیں بازو کی اسلامی صحافت اور اسلامی سیاست نے جس انداز میں خبریں پھیلائیں، اس کو دیکھ کر بڑے بڑے اسلام پسند ان کی حمایت سے تائب ہو گئے۔ بائیں بازو کے   روشن خیالوں کے دھرنے اور جلسے میں ماؤں بہنوں سے جو سلوک ہوا وہ الگ،خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کا حسن اخلاق...

دائیں اور بائیں بازو کے چہیتوں کی گمشدگی

کچھ سال پہلے سوشل میڈیا   پر دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسندوں کو دیکھ کر خیال آتا تھا کہ " پاکستان میں بہت ہی زیادہ آزادی   ہے"۔ اللہ کا شکر ہے کہ 2015 تا 2016 میں ریاست کے ادارے کچھ جاگتے ہوئے نظر آئے، دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی، اہل وطن نے بہت عرصے بعد ایک پرامن موسم سرما کا لطف اٹھایا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر فسادیوں اور ملحدوں (دشمنان وطن و دشمنان دین) کی ویب سائٹس کا زور بھی کچھ کم ہوا۔ البتہ آج کل ایک نئی پراسرار لہر نے کئی لوگوں کو ٹھٹھرا کر رکھ دیا ہے۔ یہ لہر ہے گمشدگیوں کی۔ دائیں بازو کے لوگ ہوں یا بائیں بازو کے اپنے اپنے چہیتوں کی گمشدگی کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ افسوس کیا جا رہا ہے کہ صرف بات کرنے پر  لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افسوس ان پر ہے جو بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کسی وطن میں رہیں، اور اس کی سرحدیں گرانے کی دعوت بھی دیں، اس کے محافظوں کا مذاق اڑائیں، ان کی قربانیوں پر انگلیاں اٹھائیں، یا جو سمجھتے ہیں کہ وہ خود کو ایک دین کا نام لیوا ظاہر کریں اور پھر اس کے قوانی...

اقبال کے نام پر

چند دن قبل اقبال   کے نام پر چلنے والے ایک بین الاقوامی "تحقیقی" ادارے کی لائبریری میں جانے کا اتفاق ہوا۔ استقبالیہ پر کلام اقبال کے  نیلے پیلے فریم لگے دیکھے۔ ایک شعر   یوں رقم تھا : حسنِ کردار سے نورِ مجسم ہو جا کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہو جائے ​ کونے میں شاعر کا نام انگریزی میں علامہ اقبال درج تھا گویا شعر کو اردو   میں درج کرنے سے ادارے کی بین الاقوامی شان میں جو کمی آئی تھی اسے لاطینی حروف کے بگھار سے مٹایا گیا ہو۔ کسی تحقیقی ادارے کا استقبالیہ ایسی جگہ ہے جہاں روزانہ  آنے والے محققین کی نظر لازما پڑتی ہو گی۔ اس ایک فریم کو دیکھ کر ادارے کی حالت زار کا اجمالی  اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ اگر سوشل میڈیا پر اس طرح کے اشعار اقبال کے ہیش ٹیگ یا ہینڈل کے ساتھ شئیر ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ عوام کی علمی حالت کا سب کو اندازہ ہے لیکن یہ کسی المیے سے کم نہیں کہ ایک آزاد ملک میں اقبال کے نام پر بننے اور امداد لینے والے تحقیقی اداروں میں بھی کلام اقبال سے یہ سلوک کرنے کی آزادی ہو، جب کہ شہر میں اہل علم کا کوئی قحط نہیں۔ ...

ترقی کے ہیں عنوانات اور پستی کے منظر ہیں

زباں صدمے سے ہے خاموش ، آنکھیں میری پتھر ہیں  کبھی بازار گھر سے دور تھے ، اب گھر کے اندر ہیں  کہاں تک ارتقا کی بے لگامی دیکھ پائیں گے  ہم آزادی کے دیوانے پر اپنی حد کے اندر ہیں  ہمارے ہاتھ سے ٹوٹیں گے یہ بت نو تراشیدہ  صنم خانے کا حصہ ہیں مگر ہم ابن آذرؑ ہیں  نہ پاسِ ابن آدم ہے نہ حرمت بنت حوا کی  نشانِ بے لباسی ہیں کہ آزادی کے پیکر ہیں ؟ ہمیں تو پتھروں کا دور پھر محسوس ہوتا ہے  ترقی کے ہیں عنوانات اور پستی کے منظر ہیں  شاعر: فیصل عظیم 

فکرِ اقبال اور قادیانی تحریک​

فکرِ اقبال   اور قادیانی   تحریک ​ تحریر :  علیم ناصری رحمہ اللہ ، مدیر الاعتصام  ​ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں انگریز فاتح کی حیثیت سے مختارِکل بن گیا ۔ اس نے مغل سلطنت کے تاروپود بکھیر دِیے اور ہندو ریاستوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا ۔اس کو مسلمان قوم سے بہرحال خطرہ درپیش تھا کیوں کہ اس قوم میں جذبہء جہاد   کسی بھی وقت ابھر آنے کی توقع تھی۔ اس لیے اس نے اس کے فکری محاذ اور دینی عقائد پر ضربِ کاری لگانے کی ڈپلومیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور انگلستان اور دیگر یورپی ممالک سے عیسائی مشنری  [مبلغین اور دانشور] یہاں درآمد کرنے شروع کیے۔ یہی وہ صورتِ حال تھی جس پر اکبرالہ آبادی مرحوم نے کہا تھا ۔۔ ​ توپ   کھسکی پروفیسر پہنچے اب بسولا   ہٹا تو رندا ہے ​ یعنی حرب و ضرب [توپ و تفنگ] کے سامان کے بعد تعلیم و تبلیغ کے ہتھیار سے کام لینے کا وقت آ گیا۔ بسولا یعنی تیشہ کو سامانِ حرب سے تشبیہ دی ہے اور رندا کو تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنے کے عمل کے لیے بطورِاستعارہ استعمال کیا گیا ہے ۔ ​ ان مشنریوں کے مقابلے می...

زندہ جاوید ​

زندہ جاوید  ​ ​ قائد اعظم کی وفات پر سید ضمیر جعفری  ​ ​ ہمارے دل میں جب تک شعلہء ایقان زندہ ہے ​ ہمارا عہد محکم عزم عالی شان زندہ ہے ​ ہمارا دین زندہ دین پرایمان زندہ ہے ہماری زندگی آزاد پاکستان زندہ ہے ​ ہمارا قائداعظم بہر عنوان زندہ ہے ​ جو منزل اس نے سر کی اور کوئی کر نہیں سکتا دلوں میں اتنا اطمینان کوئی بھر نہیں سکتا ​ یہ کیسے مان لوں وہ مر گیا جو مر نہیں سکتا وہ رُوحِ پاک زندہ وہ عظیم انسان زندہ ہے ​ ہمارا قائداعظم بہر عنوان زندہ ہے ​ وہ طوفانوں سے الجھا اور ساحل دے گیا ہم کو وہ محفل دے گیا ، سامانِ محفل دے گیا ہم کو ​ خود اپنی آگ میں پگھلا ہوا دل دے گیا ہم کو ​ یہ جذبِ بیکراں طوفان در طوفان زندہ ہے ​ ہمارا قائداعظم بہر عنوان زندہ ہے ​ اجل بس اس کے جسمِ ناتو اں کو چھین سکتی ہے ​ فنا کی موج ، مشتِ استخواں کو چھین سکتی ہے ​ مگر کب اس کے جذبِ بیکراں کو چھین سکتی ہے ​ یہ جذبِ بیکراں طوفان در طوفان زندہ ہے ​ ہمارا قائداعظم بہر عنوان زندہ ہے

شعائر اسلام کا استہزا اور آزادئ اظہار کی حدود

بسم اللہ الرحمن الرحيم ​ گزشتہ کچھ سالوں سے دنيا بھر ميں اہانت مقدسات (blasphemy) كے افسوس ناك واقعات ايك تسلسل سے رونما ہو رہے ہیں ، ان واقعات ميں خاص طور پر دين اسلام كے متعلق جرائم زيادہ نماياں ہیں۔ اس صورت حال ميں ہوناتو يہ چاہیے تھا كہ مسلمان اپنے دين متين كے ليے پہلے سے زيادہ حساس ہوجاتے اور اس كا جوانمردى سے دفاع كرتے مگر دكھ كى بات يہ ہے کہ بعض نام نہاد "تعليم يافتہ" مسلمان رفتہ رفتہ دينى حميت كى دولت سے محروم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر آزادى اظہار كا يہ معنى ہے كہ انسان بلا سوچے سمجھے كچھ بھی کہہ سكے تو يہ آزادى معاشرے کے ليے زہر قاتل ہے۔ ايك مقولہ ہے کہ: " تمہیں چھڑی گھمانے کی آزادی ہے مگر جہاں كسى كى ناک شروع ہوتی ہے وہاں تمہاری آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔" آزادى اظہار كے نام پر دوسروں كى ذاتيات ميں مخل ہونے ، ان كے مذہبى جذبات كو مجروح كرنے اور ان كى مقدسات كا مذاق اڑانے كى اجازت قطعا نہیں دى جا سكتى۔  بحيثيت ايك مسلمان اور پاكستانى ميرے ليے بہت دكھ كا مقام ہے كہ اسلام اور دوقومى نظريے کے حامى ہونے كا دعوى كرنے والے ايك نظرياتى اشاعتى گروپ کے  آرگن اخبار ...

محمد علی جناح

محمد علی جناح سید سلیمان ندوی یہ نظم 1916 ء ميں لکھی گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد على جناح رحمہ اللہ پر لکھی گئی پہلی نظم ہے۔  اک زمانہ تھا کہ اسرارِ دروں مستور تھے كوہِ شملہ جن دنوں ہم پایہ ء سِینا رہا  جب كہ داروئے وفا ہر درد كا درماں رہی  جب كہ ہر ناداں بو على سينا رہا جب ہمارے چارہ فرما زہر كہتے تھے اسے جس پر اب موقوف سارى قوم كا جينا رہا  بادہ ء حبّ وطن کچھ کیف پیدا کرسکے  دور ميں یوں ہی اگر یہ ساغرو مِينا رہا  علتِ ديرينہ سے اصل قوىٰ بے كار ہیں گوشِ شنوا ہے ہم میں ، نہ دیدہ ء بِینا رہا  پر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید  ڈاکٹر اس کا اگر محمد علی جِینا رہا