اشاعتیں

غزل لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہم نے تجدیدِ زندگی کر لی

ہم نے تجدیدِ زندگی کر لی  اپنے دشمن   سے دوستی   کر لی  بجھ گئے جب ہوا سے گھر کے چراغ ہم نے اشکوں سے روشنی   کر لی تیری تصویر نے کمال کیا چپ رہی اور بات بھی کر لی شہر میں آ گئے ہیں کس کے قدم  ساری بستی نے خود کشی کر لی دیکھ کر وقت کے خداؤں کو  ہم نے خود اپنی بندگی کر لی اب کسی راہ زن کو ڈھونڈیں گے رہبروں نے تو رہبری کر لی کچھ خبر تو ہے تجھے دل ناداں  تو نے کس سے برابری کر لی اب نہ آئیں گے تیری باتوں میں دل بہت تو نے دِل لگی کر لی دیکھیے کیا صلہ ملے اعجازؔ زندگی بھر تو شاعری کر لی شاعر: اعجازؔ رحمانی ​

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں دِیا جلا کے سرِشام چھوڑ آیا ہوں ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے میں اپنے گھر کے دروبام چھوڑ آیا ہوں ​ ​ کوئی چراغ سرِرہ گزر نہیں نہ سہی میں نقشِ پا تو بہ ہر گام چھوڑ آیا ہوں یہ کم نہیں ہے وضاحت میری اسیری کی پروں کے رنگ تہِ دام چھوڑ آیا ہوں ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے  میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں مجھے جو ڈھونڈنا چاہے وہ ڈھونڈ لے اعجاز کہ اب میں کوچہ گمنام چھوڑ آیا ہوں ​ شاعر:   اعجاز رحمانی ​

مرے خدا نے مجھے کتنا سرفراز کیا

مرے خدا نے مجھے کتنا سرفراز کیا  میانِ اہلِ ہوس مجھ کو بے نیاز کیا  تری نگاہ سے اسلوب خامشی سیکھا  اور اپنے آپ کو اہلِ خبر میں راز کیا تمام عمر مروت کی نذر کر ڈالی  ہمیشہ خود سے بچا دوسروں پہ ناز کیا جہاں بھی ذکر چھڑا تری ہمرہی کا وہیں  ہمی نے سلسلہ گفتگو دراز کیا جو اشک عزم مری آنکھ تر نہ کر پائے  انہی سے شام و سحر میں نے دل گداز کیا  عزم بہزاد 

سخن کا فائدہ کوئی نہیں ہے

سخن کا فائدہ کوئی نہیں ہے  کسی کی مانتا کوئی نہیں ہے  خلوص اک لفظ شرمندہء معنی  ریا کی انتہا کوئی نہیں ہے  یہ کیسی صبح کاذب ہے کہ جس میں  صداقت کی صدا کوئی نہیں ہے  حقیقت کس سے پوچھیں کیا بتائیں  کہ سچ تو بولتا کوئی نہیں ہے سبھی ہم بند گلیوں میں کھڑے ہیں  بتاتا راستا کوئی نہیں ہے نجانے کب کھلے گا بند موسم  کسی کو کچھ پتا کوئی نہیں ہے قفس کوتوڑنا پڑتا ہے صاحب  قفس کو کھولتا کوئی نہیں ہے چمن ہو گا تو ہوں گے آشیانے  مگر یہ مانتا کوئی نہیں ہے ہم ایسے قافلے کے راہرو ہیں  کہ جس کا راہرو کوئی نہیں ہے  خدا کے ماننے والے بہت ہیں  خدا کی مانتا کوئی نہیں ہے ​ خورشیدانور رضوی 

انقلاب آیا

کبھی جو روپ بدل کر نیا عذاب آیا  تو سادہ لوح یہ سمجھے کہ انقلاب آیا  یہ جانا تشنہ لبوں نے کہ اب کے آب آیا  قدم سراب سے نکلے تو پھر سراب آیا ورودِ حشر میں اب دیر کس لیے اتنی  کہ زندگی ہی میں جب سر پہ آفتاب آیا جو چور خود ہو کرے گا محاسبہ کیوں کر کہا ہے کس نے کہ اب دور احتساب آیا تمام عمر کٹی اپنی اس طرح کاوِش کہ اک عذاب ٹلا دوسرا عذاب آیا ​  شاعر: محمود کاوش 

روشنی چاہیے کس مول ملے گی صاحب؟

روشنی چاہیے کس مول ملے گی صاحب؟ نقدِ جاں ہے مرے پلو میں، چلے گی صاحب ؟  اے طلب گارِ وفا، یہ ہے اصولِ بازار جنس کم ہو گی، تو قیمت تو چڑھے گی صاحب  زندگی بھر کی مشقت کا صلہ، ایک سوال اب یہ گاڑی کبھی پٹڑی پہ چڑھے گی صاحب ؟ دل کے تالاب کے ٹھہرے ہوئے سناٹوں میں  سنگ پھینکو گے تو ہلچل تو مچے گی صاحب زندگی کیا، کسی مزدور کی بیگار ہوئی  اور اسی طرح سے باقی بھی کٹے گی صاحب اب افسانے کا یہ انجام نہیں بدلے گا  اب یہی فلم ہر اک بار چلے گی صاحب تم چلے جاؤ گے تو بھی یہی منظر ہوں گے  بس یہ دنیا مری دنیا نہ رہے گی صاحب  مسترد دل کی تلافی نہیں ہوتی کچھ بھی  بن بھی جائے گی تو نہ اب بات بنے گی صاحب میری خدمت، مری عزت کے مقابل رکھو پورا تولو گے، تبھی بات بنے گی صاحب سانپ تو آئیں گے اس گھونسلے کی سمت مگر چڑیا مر کر بھی نہ انڈوں سے ہٹے گی صاحب  یہ تو معلوم ہے ڈھل جائے گی یہ رات رضی  کتنی قربانی مگر لے کے ڈھلے گی صاحب ؟ ​شاعر پروفیسر ڈاکٹر سید رضی محمد

کسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دے مجھ کو

کسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دے مجھ کو  ہزار غم دے مگر ان کا توڑ دے مجھ کو  کہیں نہ اور کوئی توڑ پھوڑ دے مجھ کو  کسی کڑی کا میں حصہ ہوں ، جوڑ دے مجھ کو  میں وہ سکوت ہوں جو مدتوں نہیں ٹوٹا  صدائے حشر اٹھے ، اٹھ کے توڑ دے مجھ کو  کیا ہے منصب دریا پہ جب مجھے فائز  سلگتے دشت کی جانب بھی موڑ دے مجھ کو  مرے مزاج کو سختی نہ راس آئے گی  جو موڑنا ہے سلیقے سے موڑ دے مجھ کو  غبارِ قلب کا چھٹنا بہت ضروری ہے  کبھی سسکتا ہوا بھی تو چھوڑ دے مجھ کو  کوئی تو اتنا ہنسے سسکیوں کے بیچ فراغ کہ اس کے کرب کی شدت جھنجھوڑ دے مجھ کو  ​ فراغ روہوی

اتنی خاموشی بھی اچھی نہیں ہے لوگو

یوں اک پل مت سوچ کہ اب کیا ہو سکتا ہے اک لمحے کی اوٹ بھی فردا ہو سکتا ہے ان آنکھوں کے اندر بھی درکار ہیں آنکھیں چہرے کے پیچھے بھی چہرہ ہو سکتا ہے کچھ رُوحیں بھی چلتی ہیں بیساکھی لے کر آدھا شخص بھی پُورے قد کا ہو سکتا ہے کاندھے کَڑیَل کے ہوں اور گٹھڑی بڑھیا کی بوجھ اٹھا کر بھی جی ہلکا ہو سکتا ہے مُجھ سے مِل کر بھی وہ میرا حال نہ پوچھے ساون بھی کیا اتنا سُوکھا ہو سکتا ہے ؟ اتنی خاموشی بھی اچھی نہیں ہے لوگو۔۔۔ سنّاٹوں سے بھی ہنگامہ ہو سکتا ہے اس دنیا میں ناممکن کچھ نہیں مظفر ؔ دودھ بھی کالا شہد بھی کڑوا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ مظفرؔ وارثی ۔۔۔۔۔۔

اب اپنے اپنے مقامات میں ہیں کھوئے ہوئے

اب اپنے اپنے مقامات میں ہیں کھوئے ہوئے جو ایک خون کے رشتے میں تھے پروئے ہوئے خلا کے دشت میں گرم سفر ہے قریۂ خاک بدن میں اپنے زمانوں کا غم سموئے ہوئے اجاڑ دے نہ کہیں آنکھ کو یہ ویرانی گزر گئی ہے اب اک عمر کھل کے روئے ہوئے تم اپنا وار سلامت رکھو کہ ہم نے بھی یہ طور دیکھے ہوئے ہیں، یہ دکھ ہیں ڈھوئے ہوئے کبھی کبھی یہ چراغ آسماں کے دیکھتے ہیں ہماری آنکھ میں یادوں کے زخم دھوئے ہوئے کھڑے تھے ہم سر ساحل یہ دیکھنے کے لیے کہ باخبر ہیں کہاں کشتیاں ڈبوئے ہوئے ​ خالد علیم

خونِ اسلاف جما جاتا ہے شريانوں ميں

خونِ اسلاف جما جاتا ہے شريانوں ميں اب حرارت ہی نہیں سوختہ سامانوں ميں زندگی عيش سے کٹتی ہے پرى خانوں ميں رقصِ ابليس كا منظر ہے شبستانوں ميں نفس بوذرؔ و سلمانؔ كہاں سے لائيں ہوش مندى كا رمق بھی نہیں نادانوں ميں ديكھنے والى نگاہوں نے مسلسل ديكھا  خون جمہور چھلکتے ہوئے پيمانوں ميں خرمن ملت بيضا پہ شرر افشاں ہیں عظمت آدم خاكى كہاں شيطانوں ميں اہل مغرب كى "تصانيف" پہ دم ديتے ہیں اور "قرآن" ہے لپٹا ہوا جزدانوں میں  ابھی رائج ہے حكومت ميں فرنگی قانون ابھی اسلام كا آئين ہے تہہ خانوں ميں  ناظم قوم بھی ہیں تفرقہ پرداز بھی ہیں يہ دو رنگی بھی جنم ليتى ہے انسانوں ميں حوصلہ تنگ ہے، دل تنگ، نظر تنگ مگر وسعت قلب وجگر ديكھیے اعلانوں ميں سرزمين اپنی تو سونا بھی اگل سكتى تھی كام كرنے كا سليقہ بھی ہو دہقانوں ميں زہر دے ديجيے ہم خانماں بربادوں كو  اك اضافہ ہی سہی آپ کے احسانوں ميں خون سے كى ہے غريبوں نے وطن كى تعمير اس حقيقت كو مگر ڈھونڈئیے افسانوں ميں " شكوہ اللہ سے خاكم بدہن ہے مجھ كو " گھر کے مالك بھی گنے جاتے ہیں مہمانوں ميں ​ ش...