اشاعتیں

علیم ناصری لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مری زباں پر ثنائے محبوب ومرسل ِ رَبُّ العالَمِیں ہے​

  مری زباں پر ثنائے محبوب ومرسل ِ رَبُّ العالَمِیں ﷺہے ​ وہ جس کا ثانی کبھی نہیں تھا، وہ جس کا ہمسر کہیں نہیں ہے ​ ​ وہ جس کی صورت بھی مثالی، وہ جس کی سیرت بھی ہے مثالی ​ جو روزِ اول سے صادق الوعد وطاہر و عادل و امیں ہے ​ ​ امامِ پیغمبرانِ سابق، پیمبرِ امّتانِ عالم ​ وہ پرچم افشائے اولیں ہے ، وہ لشکر آرائے آخریں ہے ​ ​ کلامِ حق ہے کلام جس کا، پیامِ حق ہے پیام جس کا ​ نظامِ حق ہے نظام جس کا، نظام جو امن کا امیں ہے ​ ​ کتاب و حکمت سکھانے والا ، وہ راہِ جنت دکھانے والا ​ فلاحِ ہر دو جہاں کی ضامن حضورکی سنت ِ مبیں ہے ​ ​ اسی کی طاعت میں جنّتی ہیں رحیق ِ مختوم پانے والے ​ وہ جن کا انعام قصر و ایواں، نخیل وعُنّابِ انگبیں ہے ​ ​ علیمِؔ ناداں کو اس کی تعلیم نے بچایا ہے گمرہی سے ​ وہ جس کی تعلیم جاں فزا ہے، وہ جس کی گفتار دل نشیں ہے ​ ​ شاعر: علیم ناصری رحمہ اللہ ​

ترانۂ توحید

ترانۂ توحید  توحید سے ہے قائم نام و نشاں ہمارا  موجود ہے از ل سے یہ کارواں ہمارا  اللہ کی عبادت ہے زندگی ہماری  بندے ہیں ہم اسی کے وہ مہرباں ہمارا غیروں کے در پہ جھکنا ہم شرک جانتے ہیں  کرتا ہے رب کو سجدہ خوردوکلاں ہمارا  مشکل کشا وہی ہے حاجت روا وہی ہے  اس کا کرم ہمیشہ ہے پاسباں ہمارا  ملتی ہے اس کے در سے ہم کو ہر ایک نعمت  رب کریم ہی ہے روزی رساں ہمارا اس کانبی محمد ﷺ لاکھوں درود اس پر  محبوب ہے خدا کا اور جانِ جاں ہمارا  طاعت ہے اس کی بے شک اللہ کی اطاعت ہے مُتّبع اسی کا پیروجواں ہمارا گلدستۂ ہدایت ہیں اس کی سب حدیثیں  جن سے مہک رہا ہے یہ گلستاں ہمارا جس نے سکھائی آ کر ہم کو کتاب و حکمت  تعلیم سے ہے اس کی روشن جہاں ہمارا  منشور ہے ہمارا علمِ کتاب و سنّت پرچم یہی ہمارا یہ ہی نشاں ہمارا  مسلک جو ہے ہمارا وہ مسلکِ سلف ہے  یارب رہے سلامت یہ کارواں ہمارا  شاعر: علیم ناصری ؔ رحمہ اللہ

فکرِ اقبال اور قادیانی تحریک​

فکرِ اقبال   اور قادیانی   تحریک ​ تحریر :  علیم ناصری رحمہ اللہ ، مدیر الاعتصام  ​ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں انگریز فاتح کی حیثیت سے مختارِکل بن گیا ۔ اس نے مغل سلطنت کے تاروپود بکھیر دِیے اور ہندو ریاستوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا ۔اس کو مسلمان قوم سے بہرحال خطرہ درپیش تھا کیوں کہ اس قوم میں جذبہء جہاد   کسی بھی وقت ابھر آنے کی توقع تھی۔ اس لیے اس نے اس کے فکری محاذ اور دینی عقائد پر ضربِ کاری لگانے کی ڈپلومیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور انگلستان اور دیگر یورپی ممالک سے عیسائی مشنری  [مبلغین اور دانشور] یہاں درآمد کرنے شروع کیے۔ یہی وہ صورتِ حال تھی جس پر اکبرالہ آبادی مرحوم نے کہا تھا ۔۔ ​ توپ   کھسکی پروفیسر پہنچے اب بسولا   ہٹا تو رندا ہے ​ یعنی حرب و ضرب [توپ و تفنگ] کے سامان کے بعد تعلیم و تبلیغ کے ہتھیار سے کام لینے کا وقت آ گیا۔ بسولا یعنی تیشہ کو سامانِ حرب سے تشبیہ دی ہے اور رندا کو تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنے کے عمل کے لیے بطورِاستعارہ استعمال کیا گیا ہے ۔ ​ ان مشنریوں کے مقابلے می...

حلیہ مطہرہ بزبان ام معبد رضی اللہ عنہا

نبي كريم حضرت محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے حليہ مباركہ کے سلسلے ميں مروى حديث ام معبد رضي اللہ عنہا، طالبان علم كے نزديك معروف ہے۔ محترم عليم ناصرى حفظہ اللہ نے اپنی رزميہ مسدس "بدر نامہ" ميں اس كو بہت خوب صورتى سے نظم كيا ہے۔ " بولى عفيفہ مادرِ معبد كہ كيا كہوں؟ حيران ہوں كيسے اس ﷺ كا سراپا بياں كروں ؟ اوصاف اس حبيب ﷺ كے ميں كس طرح گنوں ؟ اس كے حسيں وجود كو تشبيہ كس سے دوں ؟ وہ پیكرِ جميل سراپا جمال ہے ! ميرى زباں سے اس كى ستائش محال ہے ! پاكيزہ رو، كشادہ جبيں، چشم سرمگیں گردن بلند، پتلياں روشن، قد حسيں شيريں كلام، جادو بياں، نطق انگبين پیوستہ ابرو، غاليہ مو، زلف عنبريں دل بستگی ليے ہوئے خاموش و پروقار  آواز پر جلال و ہمہ تمكنت شعار! ديکھیں جو دور سے تو وہ زيبا دكھائى دے ! بولے تو كھینچتا ہوا دل كو سنائى دے !  گفتار موتيوں كى لڑى سى سجھائى دے مظلوم اس كے پاس پنہ كى دہائى دے  اس كے رفيق سنتے تو ہیں بولتے نہیں فرمان پر زبان كبھی كھولتے نہیں" شاعر: علیم ناصری اقتباس از : بدر نامہ ، رزميہ مسدس ص 74 

مجھ سے بياں ہو كس طرح عظمت و شان عبده

مجھ سے بياں ہو كس طرح عظمت و شان عبده صاحب عبد آپ ہے مرتبہ دانِ عبده عابد ربِ ذوالجلال عبد شكورِ كبريا نقش عبوديت تمام نطق و بيان عبده‘ كس كو خبر، كسے ہے علم، كون ہے جو سمجھ سكے؟ صاحب عبد سے ہے كيا قرب و قران عبده فتح پہ ديدنى رہيں سيلِ كرم كى وسعتيں جاں كے عدوّ بھى پاگئے حفظ و امانِ عبده زير و زبرہوئيں تمام قيصر و جم كى سطوتيں فارس و شام پر اڑا ايسے نشانِ عبده ہے ابوجہل آج بھى بے خبر مقامِ عبد بولہبى سے ہے ورا حرف و زبانِ عبده سامنے فوجِ كفر كے كافى ہے ذاتِ حق اُسے كاٹ دے بڑھ كے صف پہ صف تيغ فسانِ عبده كافه ٴ ناس دھر ميں، شافع ناس حشر ميں يہ بھى جہانِ عبده ، وہ بھى جہانِ عبده مدحت شاہكار بھى مدحت كار ساز ہے ميں ہوں  عليم  اسى لئے زمزمہ خوانِ عبده شاعر: علیم ناصری

محمد عربى صادق و سعيد و اميں

محمد عربى صادق و سعيد و اميں سكون قلب پريشاں قرار جانِ حزيں رفيق دازدگان غمگسارِ غمناكاں خليق و خوش نظر و خوبرو و خنده جبيں رسالت ابدى پر ہے جس كى مہرِ دوام وہ جس كے بعد نبى و رسول كوئى نہيں وہ صادق ازلى صدق كا رہا قاسم اگرچہ كثرت كذاب تھى يسار و يميں وہ قلب مخزن عرفاں وہ ذات معدن نور وہ سينہ مصدر وحى خفى و وحى مبيں وہ جس كے عہد ميں شامل ہيں سب سنين و دھور وہ جس كے درپہ ہے خم ہر قديم و نو كى جبيں وہ ذات جس كے مقامات ہيں ورائے شعور كبھى ہے زينت منبر كبھى ہے تخت نشيں وہ جس كى كنہ كا محرم ہے خالق ازلى بشر كا زور تخيل فقط ظن و تخميں مرا تو فرض ہے بھيجوں درود، نعت كہوں طلب ہے داد كى مجھ كو نہ خواہش تحسيں عليم  شعر ميں كيونكر كرے ثنائے حضور اس آسماں كے لئے تنگ ہے سخن كى زميں شاعر: علیم ناصری