اشاعتیں

درود لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مرا وجود عبارت اندھیری رات سے ہے

مرا وجود عبارت اندھیری رات سے ہے مگر وہ ایک تعلق جو انﷺ کی ذات سے ہے جمالِ ذات کو پیکر اگر ملا ہے کوئی تو منعکس اسی آئینہء صفاتؐ سے ہے نہ بددعا ہے کسی کے لیے نہ بدخواہی اگر چہ دکھ بھی انہیں دشمنوں کی ذات سے ہے درود  بھیجنا لازم ہے انؐ کے نام کے ساتھ کہ فرطِ شوق یہاں اتنی احتیاط سے ہے   شاعر: مرتضی برلاس انتخاب و طباعت: ناچیز​
پیمبروں کی ہر ایک عظمت ہوئی ہے بے شک تمام ان پر  سلام ان پر درود ان پر درود ان پر سلام ان پر  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ ان پہ سدا درود بھیج اور اسے کبھی نہ گن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ ان پہ درود بھیج کر ملتا ہے جو سکون دل  مجھ کو کبھی نہ مل سکا عمر میں وہ درود بِن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ میری یہی ہے آرزو میری زبان پر رہے  لمحہ بہ لمحہ روز وماہ اور تمام سال و سِن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ دل کے سکون لیے جتنا بھی پڑھ سکو پڑھو  پیشتر اس کے جس گھڑی جسم سے جان جائے چھن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ جب سے رسول پاک پر بھیج رہا ہوں میں درود  بزمی مرا خدا گواہ میرا یہ دل ہے مطمئن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ شاعر : خالد بزمی

چلے نہ اِیمان اک قدم بھی اگر ترا ہم سفر نہ ٹھہرے

چلے نہ اِیمان اک قدم بھی اگر ترا ﷺ ہم سفر نہ ٹھہرے تِرا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے حقیقتِ بندگی کی راہیں مدینہ طیبہ سے گزریں  ملے نہ اس شخص کو خدا بھی جو تیریؐ دہلیز پر نہ ٹھہرے کھلی ہوں آنکھیں کہ نیند والی ، نہ جائے کوئی بھی سانس خالی درود جاری رہے لبوں پر ، یہ سلسِلہ لمحہ بھر نہ ٹھہرے میں تجھؐ کو چاہوں اور اتنا چاہوں کہ سب کہیں تیراؐ نقشِ پا ہوں  ترے نشانِ قدم کے آگے کوئی حسِیں رہگزر نہ ٹھہرے یہ میرے آنسُو خِراج میرا ، مِرا تڑپنا عِلاج میرا َمَرَض مِرا اُس مَقام پر ہے جہاں کوئی چارہ گر نہ ٹھہرے شاعر: مظفرؔ وارثی