اشاعتیں

ابلاغ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فحاشی کی پرزور مذمت میں مصروف گفتار کے غازی

آپ سوشل میڈیا پر موجود ہوں اور عامیانہ زبان سے واسطہ نہ پڑے ممکن نہیں۔ لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب فحاشی کی مذمت کرنے والے مومن حضرات کی زبان بگڑتی ہے۔ پہلے یہ تاک تاک کر آزاد خیال خواتین کے بیانات (اس میں ان کی وڈیو سے بھی کوئی پرہیز نہیں) ڈھونڈتے ہیں، پھر ان کی مذمت کے لیے وہ وہ فحش الفاظ، اور عریاں جملے (سمیت ماں بہن کی گالیوں کے) ڈھونڈ کر لاتے ہیں کہ فحاشی کا باپ بھی شرما جائے۔ روشن خیالوں کے دیدوں کا پانی تو اعلانیہ مر چکا  ہے، ان خضر صورت شرفا کی زبان کو کیا ہوا ہے یہ کوئی معمہ نہیں۔ کیا اسلام کا پہلا رکن یہ ہے کہ فحاشی کو ہر کونے کھدرے میں ڈھونڈا جائے پھر اس کی مذمت میں دن رات ایک کر دیے جائیں؟ سب سے خطرناک معاملہ یہ ہے کہ دوسروں کے اخلاقی زوال پر انگلیاں اٹھاتے ہمیں یہ غور کرنے کا موقع نہیں مل رہا کہ دائیں بازو کے شعلہ بیان مقرر، جوش خطابت میں کیا بول گئے ہیں؟ کہیں یہ اس بات کی علامت تو نہیں کہ بے حیائی کے جراثیم خود آپ کے دماغ تک کام دکھا چکے ہیں۔ جب انسان فحاشی کی مذمت میں بھی ماں بہن کو یاد کرتا ہوا پایا جائے، چاہے اپنی ی...

دائیں اور بائیں بازو کے چہیتوں کی گمشدگی

کچھ سال پہلے سوشل میڈیا   پر دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسندوں کو دیکھ کر خیال آتا تھا کہ " پاکستان میں بہت ہی زیادہ آزادی   ہے"۔ اللہ کا شکر ہے کہ 2015 تا 2016 میں ریاست کے ادارے کچھ جاگتے ہوئے نظر آئے، دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی، اہل وطن نے بہت عرصے بعد ایک پرامن موسم سرما کا لطف اٹھایا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر فسادیوں اور ملحدوں (دشمنان وطن و دشمنان دین) کی ویب سائٹس کا زور بھی کچھ کم ہوا۔ البتہ آج کل ایک نئی پراسرار لہر نے کئی لوگوں کو ٹھٹھرا کر رکھ دیا ہے۔ یہ لہر ہے گمشدگیوں کی۔ دائیں بازو کے لوگ ہوں یا بائیں بازو کے اپنے اپنے چہیتوں کی گمشدگی کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ افسوس کیا جا رہا ہے کہ صرف بات کرنے پر  لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افسوس ان پر ہے جو بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کسی وطن میں رہیں، اور اس کی سرحدیں گرانے کی دعوت بھی دیں، اس کے محافظوں کا مذاق اڑائیں، ان کی قربانیوں پر انگلیاں اٹھائیں، یا جو سمجھتے ہیں کہ وہ خود کو ایک دین کا نام لیوا ظاہر کریں اور پھر اس کے قوانی...

بچے ذرائع ابلاغ سے کیا سیکھ رہے ہیں؟

تہوار، شادی بیاہ کی خوشیوں میں بعض گھروں میں اللہ کی نافرمانی کے کام بہت آسانی سے ہو رہے ہوتے ہیں جیسے یہ ایک معمول کی بات ہو، اس سے بچے  کیا سیکھ رہے ہیں اس کا اندازہ ایک واقعے سے لگائیے کہ عید کے دن اہل خانہ نے خبروں کے لیےٹی وی  لگایا پھر کسی نے آواز بند کر دی۔  ایک بچہ سکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا اچانک بولا "یہ بہت ۔۔۔ ہے ابھی پچھلی عید پر اس نے کسی اور لڑکی سے شادی کی تھی"۔ بڑوں کے مجمع پر سکوت چھا گیا۔ مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کسی ڈرامے کا اشتہار تھا جس میں شادی کا منظر تھا۔ اس واقعے نے وہاں موجود سب لوگوں کو احساس تو دلایا کہ تفریح  کے نام پر ہمارے گھروں میں جو کچھ برداشت کیا جا رہا ہے بچوں کا ذہن اس سے کیسے  متاثر ہو رہا ہے۔ لیکن شاید ہی کوئی نئی نسل کی اچھی تربیت کی خاطر اپنے پرانے نشے چھوڑ دینے کا سوچے۔ سب سے برا مرض احساس زیاں کھو جانے کا ہے اور ہم بحیثیت امت اس میں مبتلا ہیں۔

سوشل میڈیا کے علامہ، سکالرز اور استاذ

ایک زمانے میں علامہ کا لقب بہت پٹ گیا تھا، اور پٹا ان کی وجہ سے تھا جو خود کو زبردستی علامہ کہلواتے تھے بلکہ طرہ یہ کہ نہ کہنے والے سے ناراض ہو جاتے تھے، پھر زمانے نے کروٹ لی، خود کو علامہ کہلوانے والوں نے سکالر کہلوانے پر اصرار شروع کر دیا، جتنی تیزی سے کیبل چینل اگے اتنی ہی تیزی سے سکالر پھوٹے، جس طرح برسات میں کھمبیاں اگتی ہیں یا کائی لگتی ہے بالکل اسی طرح آج کل  استاذ  پیدا ہو رہے ہیں، کل مسیں بھیگتی ہیں آج استاذ ہو جاتے ہیں۔تفسیر اور تجوید کے ابتدائی ڈپلومےحاصل کرتے ہی استاذہ بننے کا رجحان بھی  زوروں پر ہے۔ جس نے کسی جامعہ کی شکل نہیں دیکھی وہی استاذ ہے۔ طب نبوی اور طب جدید دونوں کا بیڑہ غرق اور مریض کا سوا ستیاناس کرنے والے نیم حکیموں کا جمعہ بازار لگتا جا رہا ہے۔ جس کا بس اپنے میدان میں نہیں چلا وہ بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ ویسے تو میرا میدان اور ہے لیکن میں تم کو تفسیر کتاب اللہ پڑھانے پر مامور ہوں۔ جھاڑ پھونک المعروف امیر خواتین کا بالمشافہ روحانی علاج بھی ایک سائڈ بزنس کے طور پر جاری ہے۔ یوٹیوب پر پانچویں وڈیو آتے ہی "حضرت استاذ" علمی شہرت کے حامل قرار پاتے ہیں۔ ...

مرد مسلمان کا ذوق نظر

 سنا کرتے تھے کہ بھلے زمانوں کے مسلمان مرد   کسی کافرعورت   کو بھی مصیبت میں دیکھتے تو اس کو چادر   سے ڈھانپ دیتے تھے۔ اب  مرد مسلم   نے بہت ترقی کر لی ہے۔ ٹی وی، موبائل، کمپیوٹر، ٹیبلٹ کی رنگین سکرینوں پر ہر قسم کی عورت   دیکھنے کو میسر ہے، کالی ، گوری، زرد، موٹی، پتلی، لمبی، ٹھگنی، لیکن پھر بھی اس کا نظربازی کا شوق پورا ہو کر نہیں دے رہا۔ فلمی اداکارہ اور عام عورت کی تمیز مٹ گئی ہے۔ مسلم   ممالک میں کسی دھماکے کے بعد پریشان حال زخمی عوتوں کی  تصویریں ہوں یا کالج کی معصوم لڑکیوں کا گروپ فوٹو، ہر عمر ہر نسل کی صنف مخالف مسلم نوجوانوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔ ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے انہوں نے تصویر   بنوائی کیوں؟ یہ  خیال شاید ہی آئے کہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے جہاں اپنی نظروں کا حساب دینا ہے صنف مخالف کےلباس   کا نہیں۔ آج کل برما   (اراکان) کی آفت زدہ، اور بے حال خواتین کی نیم برہنہ   وڈیوز بہت تیزی سے شئیر ہو رہی ہیں۔ یہ مظلوم کی حمایت کا نیا انداز ہے۔ سچ ہےہوس   بڑھتی جا...

سوشل میڈیا اور اخلاقی اقدار

سوشل سائٹس سے وابستگی کے دوران جو سوالات میرے ذہن میں شدت سے سر اٹھاتے ہیں ان میں سے ایک اپنے معاشرے کی اخلاقی اقدار کے متعلق ہے ۔  میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ انسانوں پر ذاتی تبصرے کا حق ہمیں کس نے دیا ہے ۔ خواہ وہ انسان کوئی بہت بری شہرت کا حامل سیاست دان ہو؟ مجھے اس سچ کے اظہار کے لیے معاف فرمائیے کہ سیاست دان بھی انسان ہوتے ہیں۔  ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیے گئے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : مسلمان کی جان، مال، عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے سوائے اسلام کے حق کے ۔  کیا کسی انسان کے بری شہرت کا حامل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کی عزت ہم پر حلال ہو گئی ہے ؟ کوئی عورت خواہ شو بز سے تعلق رکھتی ہے اور کتنی ہی بری شہرت رکھتی ہے پھر بھی میرے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ اس کے متعلق بلاثبوت کوئی بات کر دوں؟ ہمیں کیسے یقین ہے کہ ہم جو جی میں آئے اس کے بارے میں کہہ ڈالیں ، ہم سے کوئی حساب نہ ہو گا؟ یوں لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاست دان ، ایکٹر ، کھلاڑی، علماء، مشہور یا غیر معروف انسانوں کے متعلق ہم سب کچھ بلا ثبوت کہنے کی آزادی رکھتے ہیں ۔ اور ا...

2500 میں خوشیوں کی ضمانت ​

2500 میں خوشیوں کی ضمانت ​ ایک پاكستانى چینل پر چلنے کرشماتی لاکٹ کے اشتہار کا علم ہوا۔ بقول بنانے والوں کے یہ کرشماتی لاکٹ سونے اور ہیرے سے بنا ہے اور اس كو پہننے والے كے ليے زندگی کی سارى خوشيوں كى ضمانت دى جاتى ہے۔ لاکٹ کا "ہدیہ " صرف 2500 روپے ہے۔  سمجھ نہيں آتى كہ جن كے پاس زندگی كى سب خوشياں فراہم كرنے والا لاکٹ ہے وہ كاروباراور اشتہار كى محنت ميں كيوں لگے ہيں ؟ ان كے گھر تو نوٹوں کے درخت لگنے چاہئیں؟ اور سونے اور ہيرے والے زيور صرف 2500 ميں دست ياب ہو سكتے ہيں تو ملك بھر کے صرافہ بازاروں ميں کيوں لوٹ مچی ہے؟ كيا ایک مسلمان قوم كى ان تمام احمقانہ باتوں كى وجہ يہی نہيں کہ ہم اس بنيادى عقيدے سے انحراف كر بيٹھے ہيں کہ نفع و نقصان عطا کرنے والی صرف اللہ سبحانہ و تعالى كى ذات ہے : وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ‌ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِ‌دْكَ بِخَيْرٍ‌ فَلَا رَ‌ادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ‌ الرَّ‌حِيمُ ﴿١٠٧﴾ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّكُمْ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنّ...

شعائر اسلام کا استہزا اور آزادئ اظہار کی حدود

بسم اللہ الرحمن الرحيم ​ گزشتہ کچھ سالوں سے دنيا بھر ميں اہانت مقدسات (blasphemy) كے افسوس ناك واقعات ايك تسلسل سے رونما ہو رہے ہیں ، ان واقعات ميں خاص طور پر دين اسلام كے متعلق جرائم زيادہ نماياں ہیں۔ اس صورت حال ميں ہوناتو يہ چاہیے تھا كہ مسلمان اپنے دين متين كے ليے پہلے سے زيادہ حساس ہوجاتے اور اس كا جوانمردى سے دفاع كرتے مگر دكھ كى بات يہ ہے کہ بعض نام نہاد "تعليم يافتہ" مسلمان رفتہ رفتہ دينى حميت كى دولت سے محروم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر آزادى اظہار كا يہ معنى ہے كہ انسان بلا سوچے سمجھے كچھ بھی کہہ سكے تو يہ آزادى معاشرے کے ليے زہر قاتل ہے۔ ايك مقولہ ہے کہ: " تمہیں چھڑی گھمانے کی آزادی ہے مگر جہاں كسى كى ناک شروع ہوتی ہے وہاں تمہاری آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔" آزادى اظہار كے نام پر دوسروں كى ذاتيات ميں مخل ہونے ، ان كے مذہبى جذبات كو مجروح كرنے اور ان كى مقدسات كا مذاق اڑانے كى اجازت قطعا نہیں دى جا سكتى۔  بحيثيت ايك مسلمان اور پاكستانى ميرے ليے بہت دكھ كا مقام ہے كہ اسلام اور دوقومى نظريے کے حامى ہونے كا دعوى كرنے والے ايك نظرياتى اشاعتى گروپ کے  آرگن اخبار ...

صارف معاشرے کی لعنت

مادیت ایک طرز حیات ہے ، ایک شیطانی مذہب ہے جو انسان کو اصل دین سے دور لے جا رہا ہے ، ملٹی نیشنل کمپنیاں اس کی مبلغ اور اشتہارات اس کی تبلیغ ؟ لوگ فرنچائز ہونے کو کیوں بے قرار ہیں ؟ مزید سے مزید کی تلاش میں سر گرداں ہیں ۔۔۔ معیار زندگی کی دوڑ ختم ہونے کو نہیں آ رہی ۔ انسان اپنے کردار ، علم اور سیرت کی بجائے اپنے جوتے، لباس ، بالوں کے انداز اور سیل فون ، آئی پوڈ ، لیپ ٹاپ اور گاڑی کے ماڈل سے پہچانا جاتا ہے ۔یہ سب کس وجہ سے ہے ؟ آج سے پچاس سال پہلے کا مشرقی اسلامی معاشرہ یہ سب نہ جان کر بھی پر سکون تھا، آج اس کا چَین کون چرا لے گیا ؟  سنیے مغرب کے بیٹے کی زبانی ، جس نے محض 22 برس کی عمر میں مغربی مادیت پرست معاشرے کی بے سکونی سے تنگ آ کر اسلام کی آغوش میں پناہ لی ۔ یہ خطاب اس نے بھارت میں مشرقی مسلمانوں سے کیا ۔  سنیے ۔ http://www.tubeislam.com/video/5090/Your-Desires-will-End-When-Youre-Dead