اشاعتیں

محمد صالح المنجد لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اولاد کے درمیان عدل ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ فرماتے ہیں : باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد میں عدل کرے، جہاں تک ممکن ہو، اگر اولاد میں سے کوئی ایک زیادہ توجہ کا مستحق ہو تو کوشش کرے کہ اپنی توجہ کو ظاہر نہ ہونے دے تاکہ اولاد کے درمیان نفرت پیدا نہ ہو۔ "   اولاد کے درمیان غیرت کبھی ان کو ایک دوسرے کو نقصان اور تکلیف پہنچانے تک لے جا سکتی ہے۔ جیسے یوسف کے بڑے بھائیوں نے ان سے غیرت کھائی تو ان کو تکلیف پہنچانے کی پوری کوشش کی۔   یہ غیرت صرف تکلیف پہنچانے کی خواہش تک ہی نہیں رہتی، منصوبہ بندی اور قتل تک آمادہ کر سکتی ہے، جیسا کہ ان لوگوں کو باپ کی توجہ کے مسئلے نے اس حدتک پہنچا دیا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے قتل کی کوشش کی۔ (اقتلوا یوسف اوطرحوہ ارضا یخل لکم وجہ ابیکم) یوسف  کو قتل کر دو یا کسی جگہ پھینک دو کہ تمہارے باپ کی توجہ صرف تمہارے لیے ہو جائے۔ فائدہ 5، 8، 9: مائۃ فائدۃ من سورۃ یوسف از شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ۔ اردو ترجمہ : عائشہ

گناہ سے پہلے توبہ کا منصوبہ بنانا : سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ فائدہ نمبر 10 میں لکھتے ہیں۔  " گناہ کرنے سے پہلے توبہ کا منصوبہ بنا لینا غلط ہے۔ ایسی توبہ فاسد ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کہے کہ چلو ہم گناہ کر لیں پھر توبہ کر لیں گے اور نیک بن جائیں گے یہ توبہ فاسدہ ہے۔ کیوں؟ إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿ ٨ ﴾ اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ ﴿ ٩ ﴾ ترجمہ: جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں ۔تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم نیک بن جانا ۔۔ ( سورۃ یوسف 12: آیت 8 تا 9) یہ توبہ اس لیے فاسد ہے کہ گناہ کرنے والے کو کیا معلوم کی ایک مرتبہ نیکی اور دین سے دور نکل جانے کے بعد ان کو دوبارہ واپسی نصیب ہو گی یا نہیں؟ شیطان بعض لوگوں سے یہی کہتا ہے کہ ا...

نیک کاموں کے لیے منتخب افراد ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ صالح المنجد لکھتے ہیں : " اس سورۃ سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے کسی نعمت کے لیے چن لیتا ہے۔ آپ غور کریں کہ کیسے اللہ نے آپ کو بے جان چیز کی بجائے انسان بنایا۔ سوچیے کہ کیسے اللہ سبحانہ وتعالی نے آپ کو کافر نہیں بنایا بلکہ مسلمان بنایا۔ مزید سوچیے کہ اللہ نے آپ کو کبیرہ گناہ کرنے والے مجرموں میں سے نہیں بنایا، یا اہل بدعت میں سے نہیں بنایا، اہل سنت میں سے بنایا۔ اگر آپ کبائر کا ارتکاب نہیں کرتے تو سوچیے کہ کیسے اللہ تعالی نے آپ کو اہل کبائر میں سے بنانے کی بجائے اہل استقامت میں سے بنایا، اللہ کے فرماں بردار اور دین داروںمیں سے بنایا۔ اگر آپ طالب علم ہیں تو اللہ نے آپ کو ایک اور نعمت کے لیے چنا ہے جو علم ہے۔ اگر آپ دین کی دعوت میں مصروف ہیں تو یہ اللہ کی جانب سے ایک اور انتخاب ہے۔ اس نے آپ کو صرف اہل علم میں سے نہیں بنایا بلکہ علم پھیلانے والوں میں سے بنا دیا۔ یہ اللہ عزوجل کے اپنے بندے کے لیے انتخاب ہیں۔ مزید کہتے ہیں : سورۃ یوسف سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے گھر سے اچھے بیٹے نکلتے ہیں۔ جیسا کہ آیت نمبر 6 میں ہے وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبّ...

مستند اسمائے حسنی

بعض نام جو اسماءاللہ الحسنی میں سے نہیں لیکن عام طور پر انہیں اسمائے حسنی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔  ہم اللہ کو انہی ناموں سے پکارتے ہیں جو اس نے خود ذکر کیے ہیں  درست اسمائے حسنی ہیں: المعطی ، الستیر، الجبار، النصیر ۔ جب کہ جونام ثابت نہیں وہ ہیں: العاطی، الستار، الجابر، الناصر نسمي الله بماسمى به نفسه وممالم يثبت العاطي وثبت المعطي ولم يثبت الستار وثبت الستير ولم يثبت الجابر وثبت الجبار ولم يثبت الناصر وثبت النصير   بشکریہ شیخ محمد صالح المنجد اردو ترجمہ: عائشہ بشیر