اشاعتیں

نظم لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بہ ظاہر تو یہ دنیا خوب صورت ہے سہانی ہے

بہ ظاہر تو یہ دنیا خوب صورت ہے سہانی ہے بقا اس کو نہیں حاصل یہ دنیا دار  فانی   ہے کبھی اترا کے چلتا ہے کبھی بل کھا کے چلتا ہے تو جس پر ناز کرتا ہے یہ دو روزہ جوانی ہے کہاں قارون کی دولت کہاں شداد کی جنت کہاں فرعون کی وہ جابرانہ حکمرانی ہے نہ ہو مغرور دولت کے نشے میں اے مرے بھائی  نہیں رہتی کسی کے پاس دولت آنی جانی ہے فلاح و کامرانی نے قدم اس کے ہی چومے ہیں محمدﷺ مصطفی کی بات جس انساں نے مانی ہے وہی اللہ کے محبوب کا محبوب ہے محسنؔ  کہ جس مومن کی پیشانی پہ سجدوں کی نشانی ہے ​ شاعر :  احسان محسن

ِآیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان

آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان فجر سے گھنٹوں پہلے ہر گھر ميں ہے بيدارى  نيند سے سب كو نفرت ہے اور سحرى سب كو پيارى  بچے تك اٹھ بیٹھے اللہ كى ديكھو شان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان  آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  قبر ميں كام نہ آئیں گے يہ سونا چاندى نوٹ اب بھی وقت ہے كر لو تم دور عمل كا كھوٹ اس رمضان ميں پڑھ لو تم تفسير القرآن ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  عصبيت كے جھگڑے اور سب فرقے بازى چھوڑو لادينى سازش كى سارى زنجيروں كو توڑو  روز تراويحوں ميں يہی كہتا ہے قرآن  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  سندھی، پنجابى و مہاجر اور بلوچ پٹھان  سب كا ايك نبى ہے اك كعبہ ہے اك قرآن  اك اللہ کے بندے بن كر سب اہل ايمان  روزے ركھو نفرت چھوڑو بن جاؤ انسان  دعا كرو سب مل كر ميرا جيوے پاكستان دعا كرو سب مل كر ميرا جيوے پاكستان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ا...

امن و اخوت عدل ومحبت وحدت کا پرچار کرو

امن   و اخوت   عدل ومحبت وحدت   کا پرچار کرو انسانوں کی اس نگری میں انسانوں سے پیار کرو آگ کے صحراؤں سے گزرو، خون کے دریا پار کرو جو رستہ ہموار نہیں ہے، اس کو بھی ہموار کرو دین بھی سچا تم بھی سچے، سچ کا ہی اظہار کرو تاریکی میں روشن اپنی عظمت کے مینار کرو نفرت کے شعلوں کو بجھا دو، پیار کی ٹھنڈی شبنم سے  ہم دردی کی فصل اگاؤ، صحرا کو گل زار کرو سچے روشن حرف لکھو، یہ ظلمت خود کٹ جائے گی اپنے قلم کو تِیشہ کر لو، لہجے کو تلوار کرو عزت، عظمت، شہرت یارو دامن میں اسلام   کے ہے وقت یہی ہے سنگ زنوں کو آئینہ کردار کرو دنیا ہو یا دین کی منزل یکجہتی سے ملتی ہے وحدت کا پیغام سنا کر ذہنوں کو بے دار کرو انساں کو راحت نہ ملے گی، دنیا بھر کے "ازموں" سے  اس دنیا میں نافذ لوگو حکم شہ ابرارﷺ کرو سرخ سمندر والی لہریں دور بہا لے جائیں گی  ہوش میں آؤ سبزہلالی پرچم کو پتوار کرو سورج بننا مشکل ہے تو جگنو ہی بن جاؤ تم  بھائی ہو تو بھائی کی خاطر اتنا تو ایثار کرو  کچھ تو اپنے ہمسائے سے پیار کا رشتہ رہنے دو اعجاز اپنے گھر کی اونچی اتن...

غزہ

غزہ حالات دگرگوں ہیں ، میں جس سمت بھی دیکھوں  امت   پہ کرم ہو ، ذرا امت پہ کرم ہو  افطار کروں کیسے ؟ گو دستر ہے کشادہ  غزہ میں ہر اک بھائی مرا وقفِ الم ہو  خاموش کیا رہ سکتی ہے ؟ تقدیر بتا دے  انسان کا انسان پہ جب اتنا ستم ہو  کیا فائدہ ایماں نہ ہو اور ہاتھ میں بم ہو پٹرول کی دولت ہو یا جمشید کا جم ہو  تو چاہے تو ممکن ہے کہ نااہل قیادت ہاتھوں میں لیے اپنے زمانے کا علم ہو  قوموں کے ابھرنے میں مگر لگتا ہے کچھ وقت ایمان میں اخلاق میں تھوڑا سا تو دم ہو  کٹ جاتی ہے اک عمر اگر یادِ خدا ہو مٹ جاتی ہے تکلیف جو حددرجہ الم ہو  روزے سے ہوں رمضان کے ،مغرب میں مسافر مقبول مناجات کا سامان بہم ہو  ​ شاعر: جناب خلیل الرحمن چشتی   نیویارک ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۳۵ھ ۱۴ جولائی ۲۰۱۴ء

مسجد اقصی

ایسا اندھیر تو پہلے نہ ہوا تھا لوگو لو چراغوں کی تو ہم نے بھی لرزتے دیکھی آندھیوں سے کبھی سورج نہ بجھا تھا لوگو آئینہ اتنا مکدر ہو کہ اپنا چہرہ  دیکھنا چاہیں تو اغیار کا دھوکہ کھائیں ریت کے ڈھیر پہ ہو محمل ارما ں کا گماں  ادا جعفری

خدا خاموش کب ہے؟ ​

خدا خاموش کب ہے؟  ​ از ​ ڈاکٹر صابر آفاقی ​ ندا فاضلی کی نظم " خدا خاموش ہے" کے جواب میں  ​ ندا صاحب خداخاموش کب ہے؟  ندا دیتا رہا پہلے ندا دیتا ہے وہ اب بھی  صدا دیتا ہے وہ اب بھی  خدا خاموش کب ہے خدا تو بولتا ہے پر ہمارے کان بہرے ہیں  کہ آوازیں نہیں سنتے  یہ ہم ہیں جو  یہاں خاموش رہتے ہیں یہ ہم ہیں جو سدا مدہوش رہتے ہیں  جو سب نغموں کا، حرفوں کا، جو سب لفظوں کا خالق ہے اسے خاموش کہتے ہو؟ سبھی نغمے اسی کے ہیں زبانیں ساری اس کی ہیں بنوں میں ساری مہکاریں، سبھی چہکاریں اس کی ہیں اسے خاموش کہتے ہو ( ۲ ) خدا کے کام تھے جتنے  وہ اس نے کر دیے سارے کہ پھیلائی زمیں اس نے درختوں کو اگایا ہے پہاڑوں کو قرینے سے لگایا ہے ستارے جڑ دئیے اس نے  یہ سارے کردئیے روشن ہواؤں کو چلایا ہے پرندوں کو عطا کی نغمگی اس نے لبوں کو مسکراہٹ دی  سڑک پر "ڈولتی پرچھائیوں" کو زندگی دے دی  یہ سارے کام تھے اس کے  سو اس نے کر دئیے سارے ( ...

ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام

کیا نمرود نے بابل میں جب دعوی خدائی کا ​ جہاں میں عام شیوہ ہو گیا جب خود ستائی کا ​ ​ اندھیرا ہی اندھیرا کفر نے ہر سمت پھیلایا ​ تو ابراہیم کو اللہ نے مبعوث فرمایا ​ ​ مٹا ڈالے بتوں کو توڑ کر اوہام مرسل نے ​ دیا بندوں کو پھر اللہ کا پیغام مرسل نے ​ ​ کیا شیطان کو رسوا عدوِ جان و دیں کہہ کر ​ کیا سینوں کو روشن لا احب الآفلیں کہہ کر ​ ​ مگر نمرود کو بھائیں نہ یہ باتیں بھلائی کی ​ کہ مسند چھوڑنی پڑتی تھی کافر کو خدائی کی ​ ​ ہوا یہ بندۂ شیطان، خلیل اللہ کا دشمن ​ چراغِ حق بجھانے کو کیا آتش کدہ روشن ​ ​ خلیل اللہ کو اس نے بھڑکتی نار میں ڈالا ​ مگر اللہ نے نمرود کا منھ کر دیا کالا ​ ​ بروئے کار آیا آج پھر وہ نورِ پیشانی ​ ہوئی آگ ایک پل میں کوثر و تسنیم کا پانی ​ ​ شاعر: ابوالاثر حفیظ جالندھری

ترقی کے ہیں عنوانات اور پستی کے منظر ہیں

زباں صدمے سے ہے خاموش ، آنکھیں میری پتھر ہیں  کبھی بازار گھر سے دور تھے ، اب گھر کے اندر ہیں  کہاں تک ارتقا کی بے لگامی دیکھ پائیں گے  ہم آزادی کے دیوانے پر اپنی حد کے اندر ہیں  ہمارے ہاتھ سے ٹوٹیں گے یہ بت نو تراشیدہ  صنم خانے کا حصہ ہیں مگر ہم ابن آذرؑ ہیں  نہ پاسِ ابن آدم ہے نہ حرمت بنت حوا کی  نشانِ بے لباسی ہیں کہ آزادی کے پیکر ہیں ؟ ہمیں تو پتھروں کا دور پھر محسوس ہوتا ہے  ترقی کے ہیں عنوانات اور پستی کے منظر ہیں  شاعر: فیصل عظیم 

آنے جانے کا کھیل جاری ہے ​

آنے جانے کا کھیل جاری ہے ​ کوئی کیا جانے کس کی باری ہے  آخر ِکار سب جدا ہوں گے  چار دن کی یہ رشتہ داری ہے  ​ یوں تو میٹھا بہت ہے جام حیات ​ آخری گھونٹ اس کا کھاری ہے  ​ سر پہ منڈلا رہا ہے ملک الموت ​ موت کا خوف دل پہ طاری ہے  ​ ایسے آغاز کی خوشی کیسی ؟ ​ جس کا انجام سوگواری ہے  ​ زندگی وقت کیا گزارے گی ​ وقت نے زندگی گزاری ہے  فیض کچھ اہتمام کر اس کا ​ منزل قبر سخت بھاری ہے  ​ شاعر نامعلوم

زہر آلود

تمام سنگلاخ زمینوں میں  محبت کے بیج بونے والے اپنے لہو سے  اپنے وطن اپنے شہر کو  سینچتے ہیں  اور اس میں  رنگ برنگے  پھول سجاتے ہیں  لیکن یہ بھی سچ ہے  کہ کچھ لوگ  ان کی محنت کو  پل بھر میں ضائع کر دیتے ہیں  اور ہنستے گاتے موسم کو  زہرآلود کر دیتے ہیں  سیفی سرونجی ،سرونج بھارت 

قرآں کی تلاوت کا مزا اور ہی کچھ ہے ​

قرآں کی تلاوت کا مزا اور ہی کچھ ہے ​ کیفیتِ تسلیم و رضا اور ہی کچھ ہے ​ دنیا میں بظاہر ہیں دئیے کتنے ہی رَوشن ​ پر رُشدو ہدایت کا دِیا اور ہی کچھ ہے ​ جسمانی و روحانی مرض اس سے ہیں جاتے ​ اے صاحبو قرآں کی دوا اور ہی کچھ ہے ​ کانوں کو بھلا لگتا ہے ہر حُسنِ تکلم ​ قرآن کو پڑھنے کی ادا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن کی شِیرینی ہے شیرینی حقیقی ​ شیرینی قرآں کا مزا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن ہے اِک رختِ سفر راہِ وفا کا ​ سب راہوں میں اِک راہِ وفا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن جہاں بھر کی کتابوں سے جدا ہے ​ رُتبے میں یہ اِک نورِ خدا اور ہی کچھ ہے شاعر: نامعلوم

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا دل میں آیات اترتیں تو اجالا ہوتا  نفرت و بغض کو سینوں میں نہ پالا ہوتا اپنے ہاتھوں سے نہ یوں خود کو مٹایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا بن کے دستور حیات آیا جو انساں کے لیے نسخہ کیمیا ہر درد کے درماں کے لیے  رب کے احکام سے دامن نہ چرایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا تھاما قرآں تو کیے قیصر و کسری نابود  اس سے منہ پھیر کے خطرے میں ہے امت کا وجود درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا ​

اخلاق کے اِیوان کی تعمیر ہے روزہ

روزہ اخلاق کے اِیوان کی تعمیر ہے روزہ بنیاد ِخرافات کی تدمیر ہے روزہ جس میں نہ ریا ہے نہ کوئی مکر نہ دھوکا اس حسنِ عبادت کی یہ تصویر ہے روزہ شیطان تو انسان کا دشمن ہے پرانا شیطان کا زندان ہے زنجیر ہے روزہ وہ روح کا ہو یا کہ مرض ہو وہ جسَد کا ہر ایک مرض کے لیے اکسیر ہے روزہ جو دل کہ مچلتا ہے گناہوں پہ ہمیشہ اس دل کے لیے نسخۂ تسخیر ہے روزہ روزہ سے ضیا ملتی ہے قلب اور نظر کو مومن کے لیے چشمۂ تنویر ہے روزہ  کافی ہے وہ روزے کے فضائل کی ضمانت جس شان سے قرآن میں تحریر ہے روزہ جس نفس کی اصلاح کا امکان نہ ہو عاجز اس نفس کی اصلاح کی تدبیر ہے روزہ عبدالرحمن عاجز مالیر کوٹلوی

كہاں ہے آہ اب وہ مسلموں كى كار پردازی ؟

كہاں ہے آہ اب وہ مسلموں كى كار پردازی ؟ مٹا دى تھی جہاں سے جس نے غيروں كى فسوں سازى  امير و حاكم و شاہ و سپاہی ، صَف شِكن ہم تھے  مجاھد اور منصور و مظفّر، فاتح و غازى  ہمارا كام تھا زُھد و عِبادت، طاعَت و تقویٰ  ہمارا شُغل تھا احسان و حِكمت ، عِلم پَردازى  ہمارى عَقل كرتى تھی طَلِسم و سِحر كو باطل  ہمارے كارناموں سے عَياں تھى شانِ اِعجازى  وہ جرات تھی، وہ ہمّت تھی، وہ اِستَقلال تھا ہم ميں  مُہماتِ زمانہ كو سمجھتے تھے ہم اِک بازى  كہاں اب وہ مساوات و اخُوّت ، وہ مُحبّت ہے ؟ كہاں وہ دوستى ، وہ ہم نشينى اور ہم رازى ؟ كبھی جو تھے بلندى اَوج پر، وہ گر پڑے تھک كر  شِكَستہ بال وپر كو آج كل سُوجھی ہے شَہ بازى كہاں ہے آہ اب وہ مسلموں كى كار پردازی  مٹا دى تھی جہاں سے جس نے غيروں كى فُسوں سازى  شاعر: نامعلوم ​

ہم کیسے مسلمان ہیں کیسے مسلمان

ہے خوف خدا دل ميں نہ تو غيرت ايمان  ہم کیسے مسلمان   ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ دنيا كى ہميں فكر ہے عقبى كا نہیں دھيان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ ہم صرف سنا كرتے ہیں مسجد كى اذانيں  ہوتى ہی نہیں ہم سے ادا پانچ نمازيں آباد ہمارے ہیں مكان ، مسجديں ويران  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ مايوس نظر آتے ہیں مسجد كے منارے آتا ہی نہیں كوئى مؤذن كے پكارے منبر پر ہے خاموشى تو محراب ہیں سنسان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ دنيا كى خرافات ميں مغرور ہوئے ہیں ہم لوگ تلاوت سے بہت دور ہوئے ہیں گھر گھر نظر آتے ہیں طاقوں ميں قرآن  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ ہونٹوں پہ نہیں اب ہیں دين كے ترانے  ذہنوں ميں گونجتے ہیں فقط فلموں كے گانے شيطان كے پابند ہوئے آج مسلمان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ كيا سنت   سركار (ص) ہميں ياد نہیں ہے؟ اصحاب كا كردار ہميں ياد نہیں ہے؟ اب دل ميں كہاں جذبہ ء فاروق وعثمان؟ ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ رسم و رواج ميں سب انسان ہیں ڈوبے دولت كى فراونى ميں ال...

ہم مسلماں ہیں اک جسم اور ایک جاں

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' مومنوں کی مثال آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے میں، رحم کرنے میں اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور شفقت کرنے میں ایک  جسم   کی طرح ہے، جب اس کا ایک عضو درد کرتا ہے تو  باقی سارا جسم اس کی وجہ سے شب بیداری اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔ '' ( متفق علیہ ) ہم مسلماں ہیں اک جسم اور ایک جاں سارے عالم كو يہ بات بتلائيں گے مبتلائے بلا ہوں مسلماں كہیں دل ہمارے پريشان ہو جائيں گے مذہبی رابطے كا ہے يہ معجزہ وہ  مسلمان   مشرق يا مغرب كا ہو  سب كے احساس وافكار وارمان بھی ايك جيسے جہاں كو نظر آئيں گے  ہم مسلماں ہیں اک جسم اور ایک جاں سارے عالم كو يہ بات بتلائيں گے مبتلائے بلا ہوں مسلماں كہیں دل ہمارے پريشان ہو جائيں گے اك خدا، ايك كعبہ ہے قرآن ايك  كلمہ حق سے اپنی ہے پہچان ايك  خاتم الانبياء اپنے سردار ہیں كيسے ممكن ہے پھر ہم بكھر جائيں گے؟  ہم مسلماں ہیں اک جسم اور ایک جاں سارے عالم كو يہ بات بتلائيں گے _____ شاعر: صابر على پ...

نشان عزم ملت یوم تکبیر

چٹانوں ميں بپا ہے زلزلہ سا  كيا ذرے نے كہساروں كو تسخير مقام شكر ہے الحمد للہ وطن كے خواب نے پائى ہے تعبير كھلا كس شان سے اللہ اكبر  نشان عزم   ملت   يوم تكبير  ​ __شاعر_ خورشيد رضوى ___ ​

ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے

ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے یہاں اسلام کا پرچم کبھی جھکنے نہیں دیں گے يہ ارض پاك ہے مسكن فدايان محمدﷺ كا  كوئى قانون باطل كا يہاں چلنے نہیں دیں گے ہزاروں سازشيں کر لو اے مغرب کے پرستارو شہیدوں کی وراثت کو کبھی لٹنے نہیں دیں گے دلوں سے دین كى الفت مٹائى جا نہیں سكتى  محبت غير كى سينوں ميں ہم بسنے نہیں ديں گے  ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے یہاں اسلام کا پرچم کبھی جھکنے نہیں دیں گے شاعر:نامعلوم

الہی طاقت ایمان پھر ہم کو عطا کر دے

الہی طاقت ایمان پھر ہم کو عطا کر دے خداوندا ہمیں رازِ خودی سے آشنا کر دے کبھی بادِ مخالف سے نہ دل برداشتہ ہوں ہم جو ٹکرا جائے طوفانوں سے وہ ہمت عطا کر دے  گھری ہے کشتیِ اسلام طوفانوں کی گردش میں ہمیں پھر ناخدا فاروق اعظم رض سا عطا کر دے  عطا کر حضرت صدیق رض سا قلب و جگر ہم کو خدایا ہم کو تو عثمان رض جیسا پارسا کر دے بہار آئے الہی گلشن اسلام میں ایسی گل و بلبل کو جو یا رب خزاں نا آشنا کر دے  -شاعر----- مولانا محمد داود راز دہلوی رحمہ اللہ تعالی -----------

ميرے وطن تيرى خاك ميں بھی روشنى ہے

يہ سچ ہے وسعت افلاك ميں بھی روشنى ہے  ميرے وطن تيرى خاك ميں بھی روشنى ہے وطن كى خاك پر انوار ہے لباس مرا  سو میرے دامن صد چاک ميں بھی روشنى ہے وطن كے سُكھ بھی ہمارے تھے ، دکھ بھی اپنے ہیں سو ديکھ ديدہء نم ناك ميں بھی روشنى ہے   پیرزادہ  قاسم