اشاعتیں

نعت لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

راہ تکتا ہے تری دیدہء محزوں میرا

راہ تکتا ہے تری دیدہء محزوں میرا  دردِ ہجراں ہے کہ افزوں سے ہے افزوں میرا میں جو بھٹکا بھی تو بھٹکا ہوں تیری گلیوں میں  طالبِ دشت ہوا کب دلِ مجنوں میرا دل ہے بے تاب کوئی ان کا سندیسہ آئے حال ہے ہجرِ مدینہ میں دگرگوں میرا تیری الفت کے سوا کچھ مجھے درکار نہیں  تو جو میرا ہے زمیں میری ہے گردوں میرا اس کو بھی طاعتِ سرکارﷺ کا اعجاز کہیں رشکِ خورشید ہے مقسومِ سحر گوں میرا  اے خدا فقر کی دولت ہو میسر مجھ کو  زر میں پس جائے نہ تن، صورتِ قاروں میرا شافعِ محشر ﷺ مرے فن کی ضیا ہیں راسخؔ ان کی توصیف پسندیدہ ہے مضموں میرا  شاعر: راسخ عرفانیؔ  از حدیثِ جاں​

رہی عمر بھر جو انیسِ جاں وہ بس آرزوئے نبی رہی

رہی عمر بھر جو انیسِ جاں وہ بس آرزوئے نبی ﷺ رہی کبھی اشک بن کے رواں ہوئی کبھی درد بن کے دبی رہی شہِ دِیں کے فکرونگاہ سے مٹے نسل و رنگ کے تفرقے نہ رہا تفاخُرِ منصبی نہ رعونتِ نسبی رہی تھی ہزار تیرگئِ فتن نہ بھٹک سکا مرا فکر وفن مری کائناتِ خیال پر نظرِ شہِ عربی ﷺ رہی وہ صفا کا مہرِ منیر ہے طلب اُس کی نُورِ ضمیر ہے یہی رُوزگارِ فقیر ہے یہی التجائے شبی رہی  شاعر:  حفیظ تائب

مرا وجود عبارت اندھیری رات سے ہے

مرا وجود عبارت اندھیری رات سے ہے مگر وہ ایک تعلق جو انﷺ کی ذات سے ہے جمالِ ذات کو پیکر اگر ملا ہے کوئی تو منعکس اسی آئینہء صفاتؐ سے ہے نہ بددعا ہے کسی کے لیے نہ بدخواہی اگر چہ دکھ بھی انہیں دشمنوں کی ذات سے ہے درود  بھیجنا لازم ہے انؐ کے نام کے ساتھ کہ فرطِ شوق یہاں اتنی احتیاط سے ہے   شاعر: مرتضی برلاس انتخاب و طباعت: ناچیز​

مری زباں پر ثنائے محبوب ومرسل ِ رَبُّ العالَمِیں ہے​

  مری زباں پر ثنائے محبوب ومرسل ِ رَبُّ العالَمِیں ﷺہے ​ وہ جس کا ثانی کبھی نہیں تھا، وہ جس کا ہمسر کہیں نہیں ہے ​ ​ وہ جس کی صورت بھی مثالی، وہ جس کی سیرت بھی ہے مثالی ​ جو روزِ اول سے صادق الوعد وطاہر و عادل و امیں ہے ​ ​ امامِ پیغمبرانِ سابق، پیمبرِ امّتانِ عالم ​ وہ پرچم افشائے اولیں ہے ، وہ لشکر آرائے آخریں ہے ​ ​ کلامِ حق ہے کلام جس کا، پیامِ حق ہے پیام جس کا ​ نظامِ حق ہے نظام جس کا، نظام جو امن کا امیں ہے ​ ​ کتاب و حکمت سکھانے والا ، وہ راہِ جنت دکھانے والا ​ فلاحِ ہر دو جہاں کی ضامن حضورکی سنت ِ مبیں ہے ​ ​ اسی کی طاعت میں جنّتی ہیں رحیق ِ مختوم پانے والے ​ وہ جن کا انعام قصر و ایواں، نخیل وعُنّابِ انگبیں ہے ​ ​ علیمِؔ ناداں کو اس کی تعلیم نے بچایا ہے گمرہی سے ​ وہ جس کی تعلیم جاں فزا ہے، وہ جس کی گفتار دل نشیں ہے ​ ​ شاعر: علیم ناصری رحمہ اللہ ​

سرمایۂ جاں ہیں شہ ِابرار کی باتیں

سرمایۂ جاں ہیں شہ ِابرارﷺ کی باتیں کس درجہ سکوں دیتی ہیں سرکارﷺ کی باتیں ہاں کیسے ہیں وہ کوچہ و بازار وہ گلیاں کچھ اور کرو شہرِ پُرانوار کی باتیں ہاں کیسے برستا ہے وہاں نور کا بادل کچھ اور کرو گنبدِ ضو بار کی باتیں واں کیسے غبارِ دل وجاں دُھلتا ہے زائر کچھ اور کرو ابرِ گہر بار کی باتیں ہاں کیسے وہاں چلتی ہیں تھم تھم کے ہوائیں کچھ او ر مچلتی ہوئی مہکار کی باتیں جی چاہے کہ ہر آن سنوں ذکرِ پیمبرﷺ ہوتی رہیں کونین کے سردارﷺ کی باتیں ​ شاعر: بشیر منذر 

حب رسول

حب رسولﷺ سما سکتی ہے کیونکر حبِ دُنی کی ہوا دل میں بسا ہو جب کہ نقش حبِ محبوب خدا دل میں محمد ﷺکی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے محمدﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی محمدﷺ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے محمدﷺ ہے متاعِ عالم ِایجاد سے پیارا پدر، مادر، برادر، مال، جان، اولاد سے پیارا ​ شاہنامہ اسلام: حفیظ جالندھری 

رب کعبہ ہے اعتماد مرا

رب کعبہ ہے اعتماد مرا  دینِ مرسلﷺ ہے اعتقاد مرا نعت بہر ِثواب لکھتا ہوں فن نہیں ہے رہینِ داد مرا مدحِ سرورﷺ رہے گی پائندہ  نام رکھے گا کون یاد مرا  کیا کروں گا میں لوٹ کر گھر کو  دل ہے طیبہ میں شاد باد مرا فیصلہ ہے کلام وسنت پر  کون ٹھکرائے اجتہاد مرا مرا خامہ ہے کفر کو شمشیر  لفظِ توحید ہے جہاد مرا عشق احمد ﷺ میں مست رہتا ہوں فقر اس پر ہے مستزاد مرا جب بھی حمد و ثنا لکھوں راسخ ٹوٹ جاتا ہے انجماد مرا  شاعر: راسخ عرفانی  اقتباس از نسیمِ منی 

قلب صمیم

قلبِ صمیم  از عبدالعزیز خالد وہ دُرِّ یتیم یمِ موج افگن ِ امکاں  پہنائے مکاں جس کی شعاعوں سے درخشاں دے خود کو نہ گو یونس متی پہ فضیلت  ہے واقعۃً شہپرِ اکلیلِ رسولاں رکھے جو نہ ہر شے سے عزیز اس  ﷺ کو تو سمجھو  پس مردِ مسلماں کا ابھی خام ہے ایماں  ہیں نوکِ زباں اس کے جو ہر دم ، دمِ گفتار  ملتے نہیں اوراق میں وہ معنئ پنہاں  بعثت ہوئی جس کی پئے تکمیلِ مکارم ظلماتِ جہالت میں کیا جس نے چراغاں  فحّاش نہ سخّاب نہ عیّاب نہ مدّاح  افضال و محامد میں جو ہے آیتِ قرآں ظالم کی نہ کی جس نے کبھی پشت پناہی  بیکس کا طرفدار، مددگارِ غریباں دنیا میں کرے نامِ خدا کی وہ  ﷺ منادی  قول اس کا ہے دعوی تو عمل اس کا ہے برہاں میں رہروِ درماندہ ہوں وہ صاحبِ منزل  ﷺ میں تفتہ و تفسیدہ وہ سرچشمہء حیواں وہ شاہدِ احوال ہے میں قائلِ اقوال میں مورِ فرومایہ وہ صد رشکِ سلیماں مجھ میں کوئی خوبی نہ جِبلّی ہے نہ کسبی  اک شخص ہوں میں دربدروبے سروساماں ہر موجِ نفس میں گھلی خوشبوئے حضوری  اس کا سرِداماں مجھے سرمایہء ِغفراں اظہارِتشکر سے منور مری آنکھی...

عشقِ محمدی کی جو توفیق چاہیے

عشقِ محمدی کی جو توفیق چاہیے  انساں کے دل میں جذبہء صدیق چاہیے  تعلیمِ مصطفی  ﷺ کا تقاضا یہی تو ہے  اسلام اور کفر میں تفریق چاہیے  اسرارِ کائنات معمہ نہیں کوئی  قرآن کہہ رہا ہے کہ تحقیق چاہیے  فرد عمل تو ہو گی جبھی قابل قبول  اللہ کے رسول  ﷺ کی تقدیس چاہیے  مانا کہ پرکشش ہیں خدوخالِ ظاہری  اوصافِ باطنی کی بھی تخلیق چاہیے  اعجاز قصدِ کوئے محمد ﷺ تو ہے مگر  اللہ کی طرف سے بھی توفیق چاہیے  اعجاز رحمانی ​

وہ ایک نام جو سرمایہء حیات بھی ہے

وہ ایک نام جو سرمایہء حیات بھی ہے  وہ ایک ذات جو محبوبِ کائنات بھی ہے   ہر ایک رُخ سے ہے کامل حضورﷺ کی سیرت اجل کا ذکر بھی ہے زندگی کی بات بھی ہے  پہنچ سکا نہ کوئی اور مصطفی ﷺکے سوا  وہاں کہ ختم جہاں حدِّ کائنات بھی ہے  ہزار صبحیں تصدّق ہیں جس کی عظمت پر  تری ﷺ حیات میں شامل وہ ایک رات بھی ہے نویدِ خلد یہاں ہر قدم پہ ملتی ہے  نبی ﷺ کی راہ گزر ہی رہِ نجات بِھی ہے  درِ رسولﷺ پہ سجدہ گزارنے والو بجز خدا کوئی حلاّلِ مشکلات بھی ہے ؟  عبث ہے خواب میں ارمانِ دیدِ شاہِ امم دل و نگاہ میں ربطِ مواصلات بھی ہے  میں کس سے پوچھوں یہ اعجاز مصطفی ﷺ  کے سوا کہ میرا شعر کوئی وجہِ التفات بھی ہے  شاعر: اعجاز رحمانی کلام شاعر بزبان شاعر 

باعثِ رحمت ذکر ہے ان ﷺ کا اسمِ گرامی راحتِ جاں

باعثِ رحمت ذکر ہے ان ﷺ   کا اسمِ گرامی راحتِ جاں مدح ِمحمد ﷺدل کی تڑپ ہے اور یہی ایمان بھی ہے محسن ِاعظم، رحمتِ عالم ،خُلقِ مجسم ،حسنِ اتم شاہ ِامم کے بعد بتاو اور کوئی انسان بھی ہے دنیا میں ہم اور کسی کی کاہے کو تقلید کریں پاس ہمارے سرورِ دیں ﷺ کے قول بھی ہیں قرآن بھی ہے بدر و احد کا میداں بھی ہے امن وسکوں کی وادی بھی پیروئ سرکار دو عالم ﷺمشکل بھی آسان بھی ہے کیوں نہ لکھیں ہم ان کے قصیدے کیوں نہ پڑھیں ہم ان پہ درود مدحِ شہِ ابرارﷺ ہماری بخشش کا سامان بھی ہے ہم بھی تو اعجاز سرِفہرست ہیں ایسے لوگوں میں کوئی عمل دامن میں نہیں اور جنّت کا بھی ارمان بھی ہے شاعر : اعجاز رحمانی

ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں

ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں قولِ نبیﷺ دلیلِ قرآن بن گئے ہیں تعلیمِ مصطفی ﷺنے ایسا شعور بخشا جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں آدم سے تا بہ عیسی ، عیسی سے مصطفی ﷺتک اس داستاں کے کتنے عنواں بن گئے ہیں اسلام چاہتا ہے اس واسطے اخوت جب مل گئے ہیں قطرے طوفان بن گئے ہیں اخلاقِ مصطفی ﷺہیں کردار کی کسوٹی اقوالِ مصطفی ﷺسے میزان بن گئے ہیں کیا حشر اپنا ہو گا اعجاز روز محشر ہر بات جان کر ہم انجان بن گئے ہیں ​ شاعر: اعجاز رحمانی شاعر: اعجاز رحمانی 

سرطور کوئی جائے اسے آپ کیا کہیں گے

سرِ طور کوئی جائے اسے آپ کیا کہیں گے ؟  جسے خود خدا بلائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو ہوا کا رخ بدل دے ہمیں دعوتِ عمل دے  جو شعور کو جگائے اسے آپ کیا کہیں گے  شب وروز دشمنوں کو جو دعاوں سے نوازے  جو ستم پہ مسکرائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو کرے کلام رب سے وہ لقب کلیم پائے  جو کلامِ رب سنائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو مریض کو شفا دے اسے کہتے ہیں مسیحا  جو مسیحا کو بچائے اس آپ کیا کہیں گے  جو خطا معاف کردے وہ خدائے لم یزل ہے جو خطائیں بخشوائے اسے آپ کیا کہیں گے  وہ خدا ہے خلق جس نے کیا گلشن دو عالم  جو بہار بن کے آئے اسے آپ کیا کہیں گے  کوئی اس کی عظمتوں کی نہ مثال ہے نہ ہو گی  جو خدا سے مل کے آئے اسے آپ کیا کہیں گے  جو قمر کو توڑتا ہو جو دلوں کو جوڑتا ہو  جو یہ معجزے دکھائے اسے آپ کیا کہیں گے  وہ ہے کون مہربانی جو کرے کسی کسی پر  وہ جو سب کے کام آئے اسے آپ کیا کہیں گے  جو خدا سے دور کر دے اسے کیا کہیں گے اعجاز  ہمیں رب سے جو ملائے اسے آپ کیا کہیں گے  اعجاز رحمانی...
پیمبروں کی ہر ایک عظمت ہوئی ہے بے شک تمام ان پر  سلام ان پر درود ان پر درود ان پر سلام ان پر  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ ان پہ سدا درود بھیج اور اسے کبھی نہ گن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ ان پہ درود بھیج کر ملتا ہے جو سکون دل  مجھ کو کبھی نہ مل سکا عمر میں وہ درود بِن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ میری یہی ہے آرزو میری زبان پر رہے  لمحہ بہ لمحہ روز وماہ اور تمام سال و سِن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ دل کے سکون لیے جتنا بھی پڑھ سکو پڑھو  پیشتر اس کے جس گھڑی جسم سے جان جائے چھن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ جب سے رسول پاک پر بھیج رہا ہوں میں درود  بزمی مرا خدا گواہ میرا یہ دل ہے مطمئن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ شاعر : خالد بزمی

جی رہے ہیں اسی محبت میں

جی رہے ہیں اسی محبت میں جو گنی جائے گی عبادت میں دشمنوں پر بھی ہے کرم ان ﷺ کا وہ ہیں بے مثل اپنی رحمت میں نفرتوں کا وہاں گزر ہی نہیں ہم ہیں جس بارگاہ الفت میں اک عجب سرخوشی میں رہتے ہیں ہم ثنا خوان ان ﷺ کی مدحت میں ورنہ ہم کیا ہماری ہستی کیا ساری عظمت ہے ان ﷺ سے نسبت میں اس محبت نے جڑ دئیے گویا چاند تارے ہماری قسمت میں ​شاعرہ: نورین طلعت عروبہ 

یہ کس نے تیرہ شبی میں چراغ دکھلایا

یہ کس نے تیرہ شبی میں چراغ دکھلایا یہ کون نور کی مشعل لیے ہوئے آیا یہ کس نے ظلم کی آنکھوں میں ڈال دی آنکھیں یہ کون جبر کے طوفاں سے آ کے ٹکرایا قدم قدم پہ ہوا کون ظلم سے دو چار یہ کس نے زخم سہے زندگی کا غم کھایا ستم کے بدلے ہمیشہ دعائیں دی کس نے ؟َ یہ کس کی بخشش و رحمت سے کفر شرمایا حواس کھوئے ہوئے آبروؔ زمانہ تھا جو آپ ﷺ آئے تو انسانیت کو ہوش آیا شاعر:شعیب آبروؔ

چلے نہ اِیمان اک قدم بھی اگر ترا ہم سفر نہ ٹھہرے

چلے نہ اِیمان اک قدم بھی اگر ترا ﷺ ہم سفر نہ ٹھہرے تِرا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے حقیقتِ بندگی کی راہیں مدینہ طیبہ سے گزریں  ملے نہ اس شخص کو خدا بھی جو تیریؐ دہلیز پر نہ ٹھہرے کھلی ہوں آنکھیں کہ نیند والی ، نہ جائے کوئی بھی سانس خالی درود جاری رہے لبوں پر ، یہ سلسِلہ لمحہ بھر نہ ٹھہرے میں تجھؐ کو چاہوں اور اتنا چاہوں کہ سب کہیں تیراؐ نقشِ پا ہوں  ترے نشانِ قدم کے آگے کوئی حسِیں رہگزر نہ ٹھہرے یہ میرے آنسُو خِراج میرا ، مِرا تڑپنا عِلاج میرا َمَرَض مِرا اُس مَقام پر ہے جہاں کوئی چارہ گر نہ ٹھہرے شاعر: مظفرؔ وارثی 

سارے لفظوں میں ایک لفظ یکتا بہت اور پیارا بہت

سارے لفظوں میں ایک لفظ یکتا بہت اور پیارا بہت سارے ناموں میں اک نام ﷺ سوہنا بہت اور ہمارا بہت اس کی شاخوں پہ آ کر زمانوں کے موسم بسیرا کریں اک شجر ﷺ جس کے دامن کا سایا بہت اور گھنیرا بہت ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں اس زمیں آسماں کی حدیں ایک آواز دیتی ہے پہرا بہت اور گہرا بہت  جس دیے کی توانائی ارض و سما کی حرارت بنی اس دیے ﷺ کا ہمیں بھی حوالہ بہت اور اجالا بہت میری بینائی اور مرے ذہن سے محو ہوتا نہیں میں نے روئے محمد ﷺ کو سوچا بہت اور چاہا بہت  میرے ہاتھوں اور ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں  میں نے اسم محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت  شاعر: سلیمؔ کوثر

جو ان کی سیرت میں ڈھل گیا ہے دلیل و برہان ہو گیا ہے

وہ ﷺ آ گئے ہیں تو زندگی کا نظام آسان ہو گیا ہے انہی کے صدقے میں آدمی آپ اپنی پہچان ہو گیا ہے جو ان کی سیرت میں ڈھل گیا ہے دلیل و برہان ہو گیا ہے علیؓ و عثمانؓ بن گیا ہے بلالؓ و سلمانؓ ہو گیا ہے برس گئے ہیں وہ زندگی پر حقیقتوں کا سحاب بن کر ہم اپنی ہستی سمجھ گئے ہیں خدا کا عرفان ہو گیا ہے نہ کوئی کالا رہا نہ گورا نہ کوئی ادنی رہا نہ اعلی اضافتوں سے بلند و بالا وجودِ انسان ہو گیا ہے جو ان سے منسوب ہو گئی ہے وہ بات ایمان بن گئی ہے جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے وہ لفظ قرآن ہو گیا ہے شاعر: حکیم سید محمود احمد سرو سہارنپوری  انتخاب از ’’ ثنائے خواجہ ﷺ ‘‘

رسولِ خدا كی محبت كا جذبہ ہمارے دلوں ميں اگر زندہ ہو گا

رسولِ خدا ﷺ كی محبت كا جذبہ ہمارے دلوں ميں اگر زندہ ہو گا تو پھرزندگی كا ہر آئندہ لمحہ درخشندہ تابندہ پائندہ ہو گا وہ اخلاق و انسانيت کے پیمبر ﷺ وہ انسان كے سب سے ہمدرد رہبر ﷺ كوئی ان كا ہم پايہ ماضی میں گزرا نہ اس دور میں ہے نہ آئندہ ہو گا حضورِ گرامی ﷺ كے روئے پرانوار كو چاند سے بھی نہ تشبیہ دو تم میں یہ بات اس واسطے كہہ رہا ہوں كہ اس طرح سے چاند شرمندہ ہو گا عرب، تركیا ، مصر، ايران، اردن، مراكش، يمن، شام، ہند، الجزائر جو اس رہبرِحق ﷺ كى عظمت كا منكر ہو كيا كوئى ايسا بھی باشندہ ہو گا؟ كبھی تم جو اس محسنِ دو جہاں ﷺ كے كسى نام ليوا سے جا كر ملو گے تو اپنى صفات و محاسن ميں وہ بھی رسول خدا ﷺ كا نمائندہ ہو گا وہ جن كے صحابہ ہيں بام فلك كے ستاروں كى مانند ضَو بار بزمىؔ ذرا غور كيجے كہ خود ان ﷺ كى عظمت كا معيار كتنا درخشندہ ہو گا ؟  شاعر- خالد بزمیؔ