اشاعتیں

قرآن لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

محبت جو دل بدل دے

  رمضان المبارک قریب آنے پر ہر مسلمان روحانی لحاظ سے خاص قسم کی خوش گوار کیفیت سے گزرتا ہے۔ علوم اسلامیہ کی تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان دنوں لوگ  رمضان سے متعلق سوالات پوچھتے ہیں تو اہل اسلام کی اس مہینے سے محبت دیکھ کر اور بھی خوشی ہوتی ہے۔  شعبان کے  مبارک دن جب آپ اللہ سبحانہ وتعالی سے اس عظیم مہینے کی برکتوں تک پہنچنے کی دعا مانگ رہے ہوں اور گزشتہ رمضان کی حسین یادیں آپ کو اس سال مزید بہتر بننے کی کوشش کی ہمت دلا رہی ہوں، اس عالم میں آپ کو اچانک  طلبہ و طالبات سے ایسے سوالات موصول ہوں  جو  سوال کم اور معاشرے کے اخلاقی زوال کا اشارہ زیادہ ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے معطر فضا میں یکایک بدبو کا بھبکا آپ تک آ پہنچے۔ اس سے زیادہ دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ اتنے کم عمر،معصوم بچے اور بچیاں ایسے الم ناک مسائل کا شکار ہیں؟ وہ عمر جس میں والدین،تعلیمی ادارے اور درسی کتابیں ہی کل عالم ہوتی ہیں، اس میں انہوں نے کیسی فکریں پال لی ہیں؟ یہ ایک دن میں نہیں ہوا۔ ان کے والدین، اساتذہ،  علماء، حکمرانوں، تعلیمی اداروں اور  ذرائع ابلاغ نے نئی نسل کو یہاں پہن...

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

             سورۃ یوسف آیت 3 میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَ ـ ٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ ﴿ ٣ ﴾  یہاں احسن القصص کا ترجمہ بہت سے اردو مترجمین نے اچھا قصہ یا بہترین قصہ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ غلط فہمی عام ہوتی جا رہی ہے کہ "حضرت یوسف کی کہانی سب سے بہترین کہانی ہے"۔ اردو میں اس آیت کا سب سے درست ترجمہ جو مجھے ملا، مولانا محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ کا ہے جو لکھتے ہیں: "ہم آپ کے سامنے   بہترین بیان   پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا اور یقیناً آپ اس سے پہلے بے خبروں میں سے تھے ۔" یعنی احسن القصص کا مطلب ہے بہترین بات، سب سے اچھا بیان۔ یہ ترجمہ امام ابن تیمیہ سمیت کئی مفسرین کی اس رائے کے عین مطابق ہے جس میں انہوں نے واضح فرمایا ہے کہ  احسن القصص کی تفسیر ایک دوسرے قرآنی مقام سے کی جائے گی  جہاں اسے احسن الحدیث  کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب اچھا قصہ سمجھنے والے اسے زیر سے قِص...

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:  قَالُوا إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَاللَّ ـ هُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ آیت 77 ترجمہ: بھائیوں نے کہا: "اگر اس نے چوری کی تو یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ اس سے پہلے اس کا (حقیقی) بھائی بھی چوری کر چکا ہے"۔ تب یوسف نے (جس کے سامنے اب معاملہ پیش آیا تھا) یہ بات اپنے دل میں رکھ لی۔ ان پر ظاہر نہ کی (کہ میرے منہ پر مجھے چور بنا رہے ہو) اور (صرف اتنا) کہا کہ "سب سے بری جگہ تمہاری ہوئی ( کہ اپنے بھائی پر جھوٹا الزام لگا رہے ہو) اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ اسے بہتر جاننے والا ہے۔(آیت 77) تفسیر: جھوٹوں کا قاعدہ ہے کوئی موقع کوئی بات ہو جھوٹ بولنے سے نہیں رکتے۔ اگر مدح کا موقع ہو تو جھوٹی مدح کر دیں گے۔ مذمت کا موقع ہو تو کوئی جھوٹا الزام لگا دیں گے۔  جب بن یمین کی خرجی میں سے پیالہ نکل آیا تو بھائیوں کا سوتیلے پن کا حسد جوش میں آ گیا۔ جھٹ میں بول اٹھے۔ اگر اس  نے چوری کی تو کوئی عجیب بات نہیں۔ اس کا بھائی یوسف بھ...

اولاد کے درمیان عدل ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ فرماتے ہیں : باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد میں عدل کرے، جہاں تک ممکن ہو، اگر اولاد میں سے کوئی ایک زیادہ توجہ کا مستحق ہو تو کوشش کرے کہ اپنی توجہ کو ظاہر نہ ہونے دے تاکہ اولاد کے درمیان نفرت پیدا نہ ہو۔ "   اولاد کے درمیان غیرت کبھی ان کو ایک دوسرے کو نقصان اور تکلیف پہنچانے تک لے جا سکتی ہے۔ جیسے یوسف کے بڑے بھائیوں نے ان سے غیرت کھائی تو ان کو تکلیف پہنچانے کی پوری کوشش کی۔   یہ غیرت صرف تکلیف پہنچانے کی خواہش تک ہی نہیں رہتی، منصوبہ بندی اور قتل تک آمادہ کر سکتی ہے، جیسا کہ ان لوگوں کو باپ کی توجہ کے مسئلے نے اس حدتک پہنچا دیا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے قتل کی کوشش کی۔ (اقتلوا یوسف اوطرحوہ ارضا یخل لکم وجہ ابیکم) یوسف  کو قتل کر دو یا کسی جگہ پھینک دو کہ تمہارے باپ کی توجہ صرف تمہارے لیے ہو جائے۔ فائدہ 5، 8، 9: مائۃ فائدۃ من سورۃ یوسف از شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ۔ اردو ترجمہ : عائشہ

زندگی کے نشیب و فراز کے متعلق ایک دل نشین نکتہ ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

اذھبوا بقمیصی ھذا۔۔۔ آیت 93 مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ ترجمان القرآن میں لکھتے ہیں:  " جب بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کی ہلاکت کی خبر باپ کو سنائی تھی تو خون آلود کُرتا جا کر دکھایا تھا۔ اب وقت آیا کہ زندگی و وصال کی خوش خبری سنائی جائے تو اس کے لیے بھی کُرتے ہی نے نشانی کا کام دیا۔ وہی چیز جو کبھی فراق کا پیام لائی تھی اب وصال کی علامت بن گئی۔ "

گناہ سے پہلے توبہ کا منصوبہ بنانا : سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ فائدہ نمبر 10 میں لکھتے ہیں۔  " گناہ کرنے سے پہلے توبہ کا منصوبہ بنا لینا غلط ہے۔ ایسی توبہ فاسد ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کہے کہ چلو ہم گناہ کر لیں پھر توبہ کر لیں گے اور نیک بن جائیں گے یہ توبہ فاسدہ ہے۔ کیوں؟ إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿ ٨ ﴾ اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ ﴿ ٩ ﴾ ترجمہ: جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں ۔تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم نیک بن جانا ۔۔ ( سورۃ یوسف 12: آیت 8 تا 9) یہ توبہ اس لیے فاسد ہے کہ گناہ کرنے والے کو کیا معلوم کی ایک مرتبہ نیکی اور دین سے دور نکل جانے کے بعد ان کو دوبارہ واپسی نصیب ہو گی یا نہیں؟ شیطان بعض لوگوں سے یہی کہتا ہے کہ ا...

نیک کاموں کے لیے منتخب افراد ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ صالح المنجد لکھتے ہیں : " اس سورۃ سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے کسی نعمت کے لیے چن لیتا ہے۔ آپ غور کریں کہ کیسے اللہ نے آپ کو بے جان چیز کی بجائے انسان بنایا۔ سوچیے کہ کیسے اللہ سبحانہ وتعالی نے آپ کو کافر نہیں بنایا بلکہ مسلمان بنایا۔ مزید سوچیے کہ اللہ نے آپ کو کبیرہ گناہ کرنے والے مجرموں میں سے نہیں بنایا، یا اہل بدعت میں سے نہیں بنایا، اہل سنت میں سے بنایا۔ اگر آپ کبائر کا ارتکاب نہیں کرتے تو سوچیے کہ کیسے اللہ تعالی نے آپ کو اہل کبائر میں سے بنانے کی بجائے اہل استقامت میں سے بنایا، اللہ کے فرماں بردار اور دین داروںمیں سے بنایا۔ اگر آپ طالب علم ہیں تو اللہ نے آپ کو ایک اور نعمت کے لیے چنا ہے جو علم ہے۔ اگر آپ دین کی دعوت میں مصروف ہیں تو یہ اللہ کی جانب سے ایک اور انتخاب ہے۔ اس نے آپ کو صرف اہل علم میں سے نہیں بنایا بلکہ علم پھیلانے والوں میں سے بنا دیا۔ یہ اللہ عزوجل کے اپنے بندے کے لیے انتخاب ہیں۔ مزید کہتے ہیں : سورۃ یوسف سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے گھر سے اچھے بیٹے نکلتے ہیں۔ جیسا کہ آیت نمبر 6 میں ہے وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبّ...

سورۃ یوسف:حاصل مطالعہ

سورۃ   یوسف   قرآن   مجید کی 12 ویں سورۃ ہے۔ اس میں اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام کی سیرت   کے اہم واقعات ذکر ہیں جس میں ان کے بچپن، صالح جوانی، غریب الوطنی،غلامی کی بے بسی اور پھر دوراقتدار میں اختیارات کی آزمائشیں ذکر ہیں۔ ان تمام آزمائشوں میں وہ کس طرح اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے بتائے ہوئے دین پر ثابت قدم رہے، اس میں ہمارے لیے انتہائی قیمتی سبق   موجود ہیں ۔ یہاں وقتا فوقتا اس سورۃ سے حاصل ہونے والے اہم فوائد ذکر کیے جاتے رہیں گے۔ شیخ محمد صالح المنجد رحمہ اللہ نے " مائۃ فائدۃ من  سورۃ یوسف" میں  سیرتِ یوسفی (علیہ السلام) کا ایک خوب صورت خلاصہ بیان کیا ہے : " حضرت یوسف علیہ السلام نے صبر کی تین اقسام کی سعادت حاصل کی۔ 1- اللہ کی اطاعت پر صبر 2- اللہ کی نافرمانی سے صبر 3- اللہ کی تقدیر کی تکلیفوں پر صبر " اللہ ہم سب کو توفیق دے۔

ہوا رہنما جب سے قرآن میرا

ہوا رہنما جب سے قرآن   میرا سفر ہو گیا کتنا آسان میرا حقیقت بتاتا نہ قرآن مجھ کو مجھے خود بھی ہوتا نہ عرفان میرا جوتہذیبِ قرآں نہ ہوتی میسر سلامت نہ رہتا گریبان میرا تلاوت   میں قرآن کی کررہا ہوں بلندی پہ اس دم ہے اِیمان میرا رسولِ خدا (ﷺ)پر ہوا ہے جو نازل وہ قرآن ہے جس پہ ایمان میرا میرے پاس کچھ بھی نہیں بے عمل ہوں ہے قرآنِ ناطق ہی سامان میرا سعادت ملے حفظِ قرآں کی سب کو الہی ہو پورا یہ ارمان میرا سرِ حشر قرآن نے لاج رکھ لی نہ تھا کوئی بخشش کا اِمکان میرا یہ اعجازؔ قرآن کا  معجزہ   ہے گھرانہ نہ ہوتا مسلمان میرا شاعر: اعجازؔ رحمانی ​

ِآیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان

آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان فجر سے گھنٹوں پہلے ہر گھر ميں ہے بيدارى  نيند سے سب كو نفرت ہے اور سحرى سب كو پيارى  بچے تك اٹھ بیٹھے اللہ كى ديكھو شان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان  آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  قبر ميں كام نہ آئیں گے يہ سونا چاندى نوٹ اب بھی وقت ہے كر لو تم دور عمل كا كھوٹ اس رمضان ميں پڑھ لو تم تفسير القرآن ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  عصبيت كے جھگڑے اور سب فرقے بازى چھوڑو لادينى سازش كى سارى زنجيروں كو توڑو  روز تراويحوں ميں يہی كہتا ہے قرآن  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  سندھی، پنجابى و مہاجر اور بلوچ پٹھان  سب كا ايك نبى ہے اك كعبہ ہے اك قرآن  اك اللہ کے بندے بن كر سب اہل ايمان  روزے ركھو نفرت چھوڑو بن جاؤ انسان  دعا كرو سب مل كر ميرا جيوے پاكستان دعا كرو سب مل كر ميرا جيوے پاكستان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ا...

اللہ کو پسند نہیں کہ عورت کا نام قرآن میں آئے

وطن عزیز کے ایک معروف مبلغ فرماتے ہیں: " اللہ کو پسند نہیں کہ عورت کا نام قرآن میں آئے"۔ شکر ہے جناب نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کو عورتیں پیدا کرنا ہی پسند نہیں تھا، وہ تو مردوں کی خاطر بنائی ہیں۔  اللہ نے اس طرح کے مبلغوں  کے سر پر سینگ نہیں اگائے، اس میں  کیا حکمت ہے؟ میرا سوہنا رب ہی جانتا ہے البتہ یہ بات یقینی ہے کہ ایسے جاہل ، اہل علم کی عبرت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ 

توبۃ النصوح

ایسے بارہ گناہ جن سے توبہ   کیے بغیر چارہ نہیں  تحریر: حافظ ابن القیم   رحمہ اللہ  ترجمہ : مولانا عبدالغفار حسن   رحمہ اللہ  ​ قرآن مجید میں بارہ ایسے محرمات  (حرام کام) بیان ہوئے ہیں جن سے باز رہے بغیر کسی انسان پر لفظ تائب کا اطلاق نہیں ہو سکتا : 1.     کفر 2.      شرک 3.     نفاق 4.      فسوق 5.     عصیان 6.     اثم 7.     عدوان 8.     فحشاء 9.     منکر 10. بغی 11.       قول علی اللہ بلا علم  12. مومنوں کی را ہ کے علاوہ کسی دوسری راہ کی پیروی کرنا تمام محرمات شرعیہ کا دارو مدار انہی بارہ پر ہے ، توبۃ النصوح (خالص) اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب کہ انسان ان بارہ گناہوں سے پرہیز کرنے کا پورا ارادہ کرے۔ ان سب کی معرفت (پہچان) ضروری ہے، تا کہ پرہیز کرنے میں آسانی ہو۔  اقتباس از تفسیری نکات وا فادات از حافظ ابن القیم رحمہ اللہ ...

قرآں کی تلاوت کا مزا اور ہی کچھ ہے ​

قرآں کی تلاوت کا مزا اور ہی کچھ ہے ​ کیفیتِ تسلیم و رضا اور ہی کچھ ہے ​ دنیا میں بظاہر ہیں دئیے کتنے ہی رَوشن ​ پر رُشدو ہدایت کا دِیا اور ہی کچھ ہے ​ جسمانی و روحانی مرض اس سے ہیں جاتے ​ اے صاحبو قرآں کی دوا اور ہی کچھ ہے ​ کانوں کو بھلا لگتا ہے ہر حُسنِ تکلم ​ قرآن کو پڑھنے کی ادا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن کی شِیرینی ہے شیرینی حقیقی ​ شیرینی قرآں کا مزا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن ہے اِک رختِ سفر راہِ وفا کا ​ سب راہوں میں اِک راہِ وفا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن جہاں بھر کی کتابوں سے جدا ہے ​ رُتبے میں یہ اِک نورِ خدا اور ہی کچھ ہے شاعر: نامعلوم

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا دل میں آیات اترتیں تو اجالا ہوتا  نفرت و بغض کو سینوں میں نہ پالا ہوتا اپنے ہاتھوں سے نہ یوں خود کو مٹایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا بن کے دستور حیات آیا جو انساں کے لیے نسخہ کیمیا ہر درد کے درماں کے لیے  رب کے احکام سے دامن نہ چرایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا تھاما قرآں تو کیے قیصر و کسری نابود  اس سے منہ پھیر کے خطرے میں ہے امت کا وجود درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا ​

صحابہ کرام : وارثین کتاب میں صف اول کے لوگ

صحابہ کرام : وارثین کتاب میں صف اول کے لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم ​ سورۃ فاطر میں اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :  وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّ ـ هَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ‌ بَصِيرٌ‌ ﴿ ٣١ ﴾ ثُمَّ أَوْرَ‌ثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ   ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ   وَمِنْهُم   مُّقْتَصِدٌ   وَمِنْهُمْ   سَابِقٌ بِالْخَيْرَ‌اتِ   بِإِذْنِ اللَّ ـ هِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ‌ ﴿ ٣٢ ﴾ ترجمہ : ’’جو کتاب ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجی ہے وہ سراسر برحق ہے ۔ وہ اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ، بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں کے حال سے باخبر اور دیکھنے والا ہے ۔ ( ۳۲ ) (پھر پچھلی قوموں کے بعد) ہم نے اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو کتاب الہی (قرآن) کا وارث ٹھہرایا جنہیں ہم نے اپنی خدمت کے لیے اختیار کر لیا (یعنی مسلمانوں کو ) پس ان میں سے  ایک گروہ تو ان کا ہے جو اپنے نفوس پر ترک اعمالِ حسنہ و ارتکاب معاص...

خونِ اسلاف جما جاتا ہے شريانوں ميں

خونِ اسلاف جما جاتا ہے شريانوں ميں اب حرارت ہی نہیں سوختہ سامانوں ميں زندگی عيش سے کٹتی ہے پرى خانوں ميں رقصِ ابليس كا منظر ہے شبستانوں ميں نفس بوذرؔ و سلمانؔ كہاں سے لائيں ہوش مندى كا رمق بھی نہیں نادانوں ميں ديكھنے والى نگاہوں نے مسلسل ديكھا  خون جمہور چھلکتے ہوئے پيمانوں ميں خرمن ملت بيضا پہ شرر افشاں ہیں عظمت آدم خاكى كہاں شيطانوں ميں اہل مغرب كى "تصانيف" پہ دم ديتے ہیں اور "قرآن" ہے لپٹا ہوا جزدانوں میں  ابھی رائج ہے حكومت ميں فرنگی قانون ابھی اسلام كا آئين ہے تہہ خانوں ميں  ناظم قوم بھی ہیں تفرقہ پرداز بھی ہیں يہ دو رنگی بھی جنم ليتى ہے انسانوں ميں حوصلہ تنگ ہے، دل تنگ، نظر تنگ مگر وسعت قلب وجگر ديكھیے اعلانوں ميں سرزمين اپنی تو سونا بھی اگل سكتى تھی كام كرنے كا سليقہ بھی ہو دہقانوں ميں زہر دے ديجيے ہم خانماں بربادوں كو  اك اضافہ ہی سہی آپ کے احسانوں ميں خون سے كى ہے غريبوں نے وطن كى تعمير اس حقيقت كو مگر ڈھونڈئیے افسانوں ميں " شكوہ اللہ سے خاكم بدہن ہے مجھ كو " گھر کے مالك بھی گنے جاتے ہیں مہمانوں ميں ​ ش...

ہم کیسے مسلمان ہیں کیسے مسلمان

ہے خوف خدا دل ميں نہ تو غيرت ايمان  ہم کیسے مسلمان   ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ دنيا كى ہميں فكر ہے عقبى كا نہیں دھيان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ ہم صرف سنا كرتے ہیں مسجد كى اذانيں  ہوتى ہی نہیں ہم سے ادا پانچ نمازيں آباد ہمارے ہیں مكان ، مسجديں ويران  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ مايوس نظر آتے ہیں مسجد كے منارے آتا ہی نہیں كوئى مؤذن كے پكارے منبر پر ہے خاموشى تو محراب ہیں سنسان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ دنيا كى خرافات ميں مغرور ہوئے ہیں ہم لوگ تلاوت سے بہت دور ہوئے ہیں گھر گھر نظر آتے ہیں طاقوں ميں قرآن  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ ہونٹوں پہ نہیں اب ہیں دين كے ترانے  ذہنوں ميں گونجتے ہیں فقط فلموں كے گانے شيطان كے پابند ہوئے آج مسلمان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ كيا سنت   سركار (ص) ہميں ياد نہیں ہے؟ اصحاب كا كردار ہميں ياد نہیں ہے؟ اب دل ميں كہاں جذبہ ء فاروق وعثمان؟ ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ رسم و رواج ميں سب انسان ہیں ڈوبے دولت كى فراونى ميں ال...