اشاعتیں

راسخ عرفانی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

راہ تکتا ہے تری دیدہء محزوں میرا

راہ تکتا ہے تری دیدہء محزوں میرا  دردِ ہجراں ہے کہ افزوں سے ہے افزوں میرا میں جو بھٹکا بھی تو بھٹکا ہوں تیری گلیوں میں  طالبِ دشت ہوا کب دلِ مجنوں میرا دل ہے بے تاب کوئی ان کا سندیسہ آئے حال ہے ہجرِ مدینہ میں دگرگوں میرا تیری الفت کے سوا کچھ مجھے درکار نہیں  تو جو میرا ہے زمیں میری ہے گردوں میرا اس کو بھی طاعتِ سرکارﷺ کا اعجاز کہیں رشکِ خورشید ہے مقسومِ سحر گوں میرا  اے خدا فقر کی دولت ہو میسر مجھ کو  زر میں پس جائے نہ تن، صورتِ قاروں میرا شافعِ محشر ﷺ مرے فن کی ضیا ہیں راسخؔ ان کی توصیف پسندیدہ ہے مضموں میرا  شاعر: راسخ عرفانیؔ  از حدیثِ جاں​

تیرے اِیما پہ ہے موقوف ارادہ میرا

حمد تیرے اِیما پہ ہے موقوف ارادہ میرا تیرے محبوبؐ کا دِیں منزل و جادہ میرا میرے سانسوں سے تیرے نام کی خوش بو آئے حمد و مدحت میں کٹے وقت زیادہ میرا میرے باطن کو بھی اُجلا میرے مولا کر دے جس طرح صاف ہے ظاہر کا لبادہ میرا مخزنِ غیب سے وافر ہو میسر روزی بہرِ ایثار و سخا دِل ہو کشادہ میرا اپنا عرفاں بھی عطا تونے کیا ہے ورنہ سنگ پاروں پہ فِدا تھا دلِ سادہ میرا تُو ہی جانے میری ذات کا مصرف کیا ہے میری نظروں سے تو اوجھل ہے افادہ میرا یہ بھی ایقانِ کرم کی ہے علامت راسخ دل گناہوں میں جو کرتا ہے اعادہ میرا ​ شاعر: راسخ عرفانی از: ارمغانِ حرم انتخاب و طباعت ناچیز 

ماورا فکر و تخیل سے ہے پیکر تیرا​

ماورا فکر و تخیل سے ہے پیکر تیرا​ کیسے اک جھیل میں اترے گا سمندر تیرا ​ تیری عظمت کے نشانات ہیں کتنے روشن​ تابعِ حکم ہے خورشیدِ منور تیرا ​ آمدِ صبح کا جب دیتی ہے پیغام صبا​ ذکر ہوتا ہے گلی کوچہ میں گھر گھر تیرا ​ ثبت ہے جس پہ ابراہیمؑ کی مہرِ تعمیر​ ہم نے سجدوں سے بسایا ہے وہ محور تیرا ​ مدح خواں تیرے ہیں پیغمبرؐ مکی مدنی​ کیوں نہ لیں نام وضو کر کے سخنور تیرا ​ صحنِ کعبہ میں کہیں نصب مجھے بھی کر دے​ سنگِ اسود بھی تِرا میں بھی ہوں پتھر تیرا ​ پھر شرف تجھ کو ملا دیدِ حرم کا راسخ​ اوجِ گردوں پہ چمکتا ہے مقدر تیرا ​ شاعر: راسخ عرفانی از : ارمغانِ حرم انتخاب : ناچیز 

رب کعبہ ہے اعتماد مرا

رب کعبہ ہے اعتماد مرا  دینِ مرسلﷺ ہے اعتقاد مرا نعت بہر ِثواب لکھتا ہوں فن نہیں ہے رہینِ داد مرا مدحِ سرورﷺ رہے گی پائندہ  نام رکھے گا کون یاد مرا  کیا کروں گا میں لوٹ کر گھر کو  دل ہے طیبہ میں شاد باد مرا فیصلہ ہے کلام وسنت پر  کون ٹھکرائے اجتہاد مرا مرا خامہ ہے کفر کو شمشیر  لفظِ توحید ہے جہاد مرا عشق احمد ﷺ میں مست رہتا ہوں فقر اس پر ہے مستزاد مرا جب بھی حمد و ثنا لکھوں راسخ ٹوٹ جاتا ہے انجماد مرا  شاعر: راسخ عرفانی  اقتباس از نسیمِ منی 

دعائیہ

تو کرم کیش ہے تقصیر وخطا کام مرا تیری بخشش سے ہے کم ظرف مِرا ،جام مِرا محوِ حیرت ہوں کروں کیسے مخاطب تجھ کو کج ہیں الفاظ مِرے ، طرزِ سُخن خام مِرا حج کے میداں میں بھی ہوں شر م سے پانی پانی گرد آلود گناہوں سے ہے  احرام  مِرا لاکھ محتاط چلا ہوں میں تری راہوں میں  پھر بھی لرزیدہ رہا عزم بہرگام مرا اپنی رحمت کے سحابوں میں چھپا لینا مجھے جب کھلے نامہء اعمال سرِ عام مرا روزِ محشر جو حوالوں سے پکارا جائے  تیرے محبوب ﷺکے خدّام میں ہو نام مرا عِجز سے بار گہہِ حق میں  دعا  ہے راسخ ؔ دہر سے اٹھوں تو بالخیر ہو انجام مِرا راسخ عرفانی   از مجموعہءکلام: نکہتِ حرا