پیمبروں کی ہر ایک عظمت ہوئی ہے بے شک تمام ان پر سلام ان پر درود ان پر درود ان پر سلام ان پر صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ ان پہ سدا درود بھیج اور اسے کبھی نہ گن صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ ان پہ درود بھیج کر ملتا ہے جو سکون دل مجھ کو کبھی نہ مل سکا عمر میں وہ درود بِن صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ میری یہی ہے آرزو میری زبان پر رہے لمحہ بہ لمحہ روز وماہ اور تمام سال و سِن صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ دل کے سکون لیے جتنا بھی پڑھ سکو پڑھو پیشتر اس کے جس گھڑی جسم سے جان جائے چھن صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ جب سے رسول پاک پر بھیج رہا ہوں میں درود بزمی مرا خدا گواہ میرا یہ دل ہے مطمئن صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ شاعر : خالد بزمی
اشاعتیں
خالد بزمی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
عظیم اور اعلی فقط ایک تو ہے
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
از
Ayesha
بوقت
عظيم اور اعلى فقط ايك تو ہے جہانوں سے بالا فقط ايك تو ہے ہوا بند كيڑے كو پتھر كے اندر وہ جس نے ہے پالا فقط ايك تو ہے وہ جس نے سدا اپنے بندے كے سر سے ہر آفت كو ٹالا فقط ايك تو ہے ہمارے دلوں سے سدا دور كر دے جو كلفت كا جالا فقط ايك تو ہے خطا كار بندے كى سارى خطائيں بھلا دينے والا فقط ايك تو ہے وہ ہے جس كى قدرت كى ہر بات انوكھی وہ سب سے نرالا فقط ايك تو ہے مصائب كى دلدل ميں گھرتے ہوؤں كو وہ جس نے سنبھالا فقط ايك تو ہے گنہ گار بزمی كے تاريک دل كو جو بخشے اجالا فقط ايك تو ہے خالد بزمی
رسولِ خدا كی محبت كا جذبہ ہمارے دلوں ميں اگر زندہ ہو گا
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
از
Ayesha
بوقت
رسولِ خدا ﷺ كی محبت كا جذبہ ہمارے دلوں ميں اگر زندہ ہو گا تو پھرزندگی كا ہر آئندہ لمحہ درخشندہ تابندہ پائندہ ہو گا وہ اخلاق و انسانيت کے پیمبر ﷺ وہ انسان كے سب سے ہمدرد رہبر ﷺ كوئی ان كا ہم پايہ ماضی میں گزرا نہ اس دور میں ہے نہ آئندہ ہو گا حضورِ گرامی ﷺ كے روئے پرانوار كو چاند سے بھی نہ تشبیہ دو تم میں یہ بات اس واسطے كہہ رہا ہوں كہ اس طرح سے چاند شرمندہ ہو گا عرب، تركیا ، مصر، ايران، اردن، مراكش، يمن، شام، ہند، الجزائر جو اس رہبرِحق ﷺ كى عظمت كا منكر ہو كيا كوئى ايسا بھی باشندہ ہو گا؟ كبھی تم جو اس محسنِ دو جہاں ﷺ كے كسى نام ليوا سے جا كر ملو گے تو اپنى صفات و محاسن ميں وہ بھی رسول خدا ﷺ كا نمائندہ ہو گا وہ جن كے صحابہ ہيں بام فلك كے ستاروں كى مانند ضَو بار بزمىؔ ذرا غور كيجے كہ خود ان ﷺ كى عظمت كا معيار كتنا درخشندہ ہو گا ؟ شاعر- خالد بزمیؔ