اشاعتیں

پاکستان لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اے وطن پاک وطن روح روان احرار

وطن جوش ملیح آبادی اے وطن پاک وطن روح روان احرار اے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہار اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقار اے کہ ہر  خار ترا  روکش صد روئے نگار ریزے الماس کے تیرے خس و خاشاک میں ہیں ہڈیاں اپنے بزرگوں کی تری خاک میں ہیں پائی غنچوں میں ترے رنگ کی دنیا ہم نے تیرے کانٹوں سے لیا درس تمنا ہم نے تیرے قطروں سے سنی قرات دریا ہم نے تیرے ذروں میں پڑھی آیت صحرا ہم نے کیا بتائیں کہ تری بزم میں کیا کیا دیکھا ایک آئینے میں دنیا کا تماشہ دیکھا پہلے جس چیز کو دیکھا وہ فضا تیری تھی پہلے جو کان میں آئی وہ صدا تیری تھی پالنا جس نے ہلایا  وہ ہوا تیری تھی جس نے گہوارے میں چوما وہ صبا تیری تھی اولیں رقص ہوا مست گھٹائیں تیری بھیگی ہیں اپنی مسیں آب و ہوا میں تیری اے وطن آج سے کیا ہم تیرے شیدائی ہیں آنکھ جس دن سے کھلی تیرے تمنائی ہیں مدتوں سے ترے جلووں کے تماشائی ہیں ہم تو بچپن سے ترے عاشق و سودائی ہیں بھائی طفلی سے ہر اک آن جہاں میں تیری بات تتلا کے جو کی بھی تو زباں میں تیری حسن تیرے ہی مناظر نے دکھایا ہم کو تیرے ...

ایک جیسے بدنیت، ایک جیسا کھیل!

- " پاکستان   خطرے میں ہے   اسلام   کی وجہ سے، ملا   کو نکال باہر کرو"۔ - " اسلام خطرے میں ہے پاکستان کی وجہ سے،ہم تو پہلے ہی ڈرتے تھے یہ ملک نہ بنایا جائے !" پاکستان دشمن اور   اسلام دشمن، ایک جیسا کھیل، ایک جیسے دلائل، ایک جیسا شورشرابہ، ایک جیسے بدنیت ۔۔۔ کبھی آپ نے سوچا؟ اسلام کی   حفاظت   کے لیے پاکستان کو   گالی   دینا ضروری کیوں ہے؟ پاکستان کی حفاظت کے لیے اسلام کو گالی دینا ضروری کیوں ہے؟ خدا اسلام اور پاکستان سے بیک وقت محبت کرنے والوں کو میدان عمل میں آنے کی توفیق دے !

دائیں اور بائیں بازو کے چہیتوں کی گمشدگی

کچھ سال پہلے سوشل میڈیا   پر دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسندوں کو دیکھ کر خیال آتا تھا کہ " پاکستان میں بہت ہی زیادہ آزادی   ہے"۔ اللہ کا شکر ہے کہ 2015 تا 2016 میں ریاست کے ادارے کچھ جاگتے ہوئے نظر آئے، دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی، اہل وطن نے بہت عرصے بعد ایک پرامن موسم سرما کا لطف اٹھایا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر فسادیوں اور ملحدوں (دشمنان وطن و دشمنان دین) کی ویب سائٹس کا زور بھی کچھ کم ہوا۔ البتہ آج کل ایک نئی پراسرار لہر نے کئی لوگوں کو ٹھٹھرا کر رکھ دیا ہے۔ یہ لہر ہے گمشدگیوں کی۔ دائیں بازو کے لوگ ہوں یا بائیں بازو کے اپنے اپنے چہیتوں کی گمشدگی کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ افسوس کیا جا رہا ہے کہ صرف بات کرنے پر  لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افسوس ان پر ہے جو بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کسی وطن میں رہیں، اور اس کی سرحدیں گرانے کی دعوت بھی دیں، اس کے محافظوں کا مذاق اڑائیں، ان کی قربانیوں پر انگلیاں اٹھائیں، یا جو سمجھتے ہیں کہ وہ خود کو ایک دین کا نام لیوا ظاہر کریں اور پھر اس کے قوانی...

ِآیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان

آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان فجر سے گھنٹوں پہلے ہر گھر ميں ہے بيدارى  نيند سے سب كو نفرت ہے اور سحرى سب كو پيارى  بچے تك اٹھ بیٹھے اللہ كى ديكھو شان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان  آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  قبر ميں كام نہ آئیں گے يہ سونا چاندى نوٹ اب بھی وقت ہے كر لو تم دور عمل كا كھوٹ اس رمضان ميں پڑھ لو تم تفسير القرآن ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  عصبيت كے جھگڑے اور سب فرقے بازى چھوڑو لادينى سازش كى سارى زنجيروں كو توڑو  روز تراويحوں ميں يہی كہتا ہے قرآن  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ايمان  سندھی، پنجابى و مہاجر اور بلوچ پٹھان  سب كا ايك نبى ہے اك كعبہ ہے اك قرآن  اك اللہ کے بندے بن كر سب اہل ايمان  روزے ركھو نفرت چھوڑو بن جاؤ انسان  دعا كرو سب مل كر ميرا جيوے پاكستان دعا كرو سب مل كر ميرا جيوے پاكستان  ہر نيكى آزاد ہوئى اور قيد ہوا شيطان آيا ہے رمضان ، جاگ اٹھا ا...

دائیں اور بائیں بازو میں سیاسی عدم برداشت پر ایک تبصرہ

حیرت ہے کہ ابوبکر قدوسی صاحب کن "گڈ اولڈ ڈیز" کا ذکر کرتے ہیں جس میں "ہمارے" لوگ علمی اختلافات کے ساتھ چلتے رہتے تھے اور ایک دوسرے کو جماعت سے خارج نہیں کرتے تھے؟   جہاں تک میرا مطالعہ ہے ہم نے انگریز، ہندوؤں اور سکھوں کو نکال کر ملک پاک کیا، اس کے بعد بنگالیوں کو نکالا، اس کے بعد دائیں بازو کی جماعتیں ہوں یا بائیں بازو کی ہر جماعت سے لوگوں نے ایک دوسرے کو نکالا ،نتیجتا ہر جماعت سے دس بیس جماعتیں اورہر شوری سے امیر پہ امیر نکلے۔ جب پورے ملک میں یہ وبا ہے تو اسی مزاج کی تربیت اہل حدیث کے "شاہین بچوں" کی بھی ہوئی۔ ہم نے کس دن نوجوانوں کی ایسی تربیت کرنے کا سوچا کہ وہ ایسے گمراہ ہاتھوں میں نہ پڑیں؟ یہ جو جذباتی لڑکے یہاں وہاں علما پر تنقید کرتے ہیں، اور مدرسے کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھی مجتہد بن جاتے ہیں، یہ انہی جماعتوں کی تربیت ہے۔ ان جماعتوں سے بازو ٹوٹتے ہیں اور امیبا کی طرح ایک نئی جماعت بن جاتی ہے۔ دو ڈھائی سو مذہبی جماعتوں کی تعداد روز افزوں ترقی پر ہے تو سبب یہی عدم برداشت ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ مذہبی رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہماری اتنی طویل و عریض جماع...

فکرِ اقبال اور قادیانی تحریک​

فکرِ اقبال   اور قادیانی   تحریک ​ تحریر :  علیم ناصری رحمہ اللہ ، مدیر الاعتصام  ​ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں انگریز فاتح کی حیثیت سے مختارِکل بن گیا ۔ اس نے مغل سلطنت کے تاروپود بکھیر دِیے اور ہندو ریاستوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا ۔اس کو مسلمان قوم سے بہرحال خطرہ درپیش تھا کیوں کہ اس قوم میں جذبہء جہاد   کسی بھی وقت ابھر آنے کی توقع تھی۔ اس لیے اس نے اس کے فکری محاذ اور دینی عقائد پر ضربِ کاری لگانے کی ڈپلومیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور انگلستان اور دیگر یورپی ممالک سے عیسائی مشنری  [مبلغین اور دانشور] یہاں درآمد کرنے شروع کیے۔ یہی وہ صورتِ حال تھی جس پر اکبرالہ آبادی مرحوم نے کہا تھا ۔۔ ​ توپ   کھسکی پروفیسر پہنچے اب بسولا   ہٹا تو رندا ہے ​ یعنی حرب و ضرب [توپ و تفنگ] کے سامان کے بعد تعلیم و تبلیغ کے ہتھیار سے کام لینے کا وقت آ گیا۔ بسولا یعنی تیشہ کو سامانِ حرب سے تشبیہ دی ہے اور رندا کو تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنے کے عمل کے لیے بطورِاستعارہ استعمال کیا گیا ہے ۔ ​ ان مشنریوں کے مقابلے می...

زندہ جاوید ​

زندہ جاوید  ​ ​ قائد اعظم کی وفات پر سید ضمیر جعفری  ​ ​ ہمارے دل میں جب تک شعلہء ایقان زندہ ہے ​ ہمارا عہد محکم عزم عالی شان زندہ ہے ​ ہمارا دین زندہ دین پرایمان زندہ ہے ہماری زندگی آزاد پاکستان زندہ ہے ​ ہمارا قائداعظم بہر عنوان زندہ ہے ​ جو منزل اس نے سر کی اور کوئی کر نہیں سکتا دلوں میں اتنا اطمینان کوئی بھر نہیں سکتا ​ یہ کیسے مان لوں وہ مر گیا جو مر نہیں سکتا وہ رُوحِ پاک زندہ وہ عظیم انسان زندہ ہے ​ ہمارا قائداعظم بہر عنوان زندہ ہے ​ وہ طوفانوں سے الجھا اور ساحل دے گیا ہم کو وہ محفل دے گیا ، سامانِ محفل دے گیا ہم کو ​ خود اپنی آگ میں پگھلا ہوا دل دے گیا ہم کو ​ یہ جذبِ بیکراں طوفان در طوفان زندہ ہے ​ ہمارا قائداعظم بہر عنوان زندہ ہے ​ اجل بس اس کے جسمِ ناتو اں کو چھین سکتی ہے ​ فنا کی موج ، مشتِ استخواں کو چھین سکتی ہے ​ مگر کب اس کے جذبِ بیکراں کو چھین سکتی ہے ​ یہ جذبِ بیکراں طوفان در طوفان زندہ ہے ​ ہمارا قائداعظم بہر عنوان زندہ ہے

پاکستانی خواتین میں دین داری کا رجحان

برطانوى جريدے گارڈين نے رواں ماہ كى ابتدا ميں پاکستانی خواتین میں دین داری کے بڑھتے ہوئے رجحان كے متعلق Jason Burke كا مضمون شائع كيا ہے ۔ مضمون كے مطابق گزشتہ دس برس ميں پاكستانى خواتين خاص طور پر امير اور تعليم يافتہ خواتين مذہب اسلام كى جانب زيادہ مائل ہو رہی ہيں ، بتايا گيا ہے كہ كس طرح مساجد ميں خواتين كى حاضرى بڑھی ہے۔ (دوسرے لفظوں ميں وہابی ہو گئی ہيں : ) ) مضمون نگار نے بنيادى طور پر يہ دکھڑا رويا ہے كہ Apple MacBook استعمال كرنے والى خوشحال خواتين، بزنس كالج كى طالبات ، بينك كى آئى ٹی ڈوژن ميں كام كرنے والى تكنيكى ماہر خواتين كو مذہب اسلام بھا گيا ہے۔ وہ قرآن مجيد پڑھنے ميں دل چسپی لے رہی ہيں ، اپنی مرضى سے نقاب ، حجاب يا سكارف پہنتى ہيں ، پنج وقتہ نمازى ہو گئیں ہيں اور قيامت يہ كہ .... ان كا كہنا ہے ان كو كسى نے مجبور نہيں كيا ۔ زيادہ زور اس بات پر ہے كہ مذہب پسندى كى يہ نئى لہر پچھلے دس سال ميں بڑھی ہے۔ اس لہر كا ذمہ دار اس نے سعوديہ اور كويت جيسى خليجى رياستوں كے اثر ونفوذ كو بھی ٹھہرايا ہے۔ (وہی گھسى پٹی باتيں) جيسن نے بينك آف پنجاب كى آئى ٹی ڈوژن كى مثال دى جہاں سارى خا...

نشان عزم ملت یوم تکبیر

چٹانوں ميں بپا ہے زلزلہ سا  كيا ذرے نے كہساروں كو تسخير مقام شكر ہے الحمد للہ وطن كے خواب نے پائى ہے تعبير كھلا كس شان سے اللہ اكبر  نشان عزم   ملت   يوم تكبير  ​ __شاعر_ خورشيد رضوى ___ ​

ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے

ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے یہاں اسلام کا پرچم کبھی جھکنے نہیں دیں گے يہ ارض پاك ہے مسكن فدايان محمدﷺ كا  كوئى قانون باطل كا يہاں چلنے نہیں دیں گے ہزاروں سازشيں کر لو اے مغرب کے پرستارو شہیدوں کی وراثت کو کبھی لٹنے نہیں دیں گے دلوں سے دین كى الفت مٹائى جا نہیں سكتى  محبت غير كى سينوں ميں ہم بسنے نہیں ديں گے  ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے یہاں اسلام کا پرچم کبھی جھکنے نہیں دیں گے شاعر:نامعلوم

حضور کا فرمان

۔۔۔ہالینڈ ميں پہنچ كر محكمہ پروٹوكول كے ايك افسر نے مجھے برسبيل تذكرہ يہ بتايا كہ اگر ہم سور (خنزير) كے گوشت (پورک،ہیم، بيكن وغيرہ) سے پرہیز كرتے ہیں تو بازار سے بنا بنايا قيمہ نہ خريديں كيونكہ بنے ہوئے قيمے ميں اكثر ہر قسم كا ملا جلا گوشت شامل ہوتا ہے۔ اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالينڈ كے استقباليوں كے ايك من بھاتا کھاجا قيمے كى گولياں   ( Meat Balls) سے پرہیز كرتے تھے۔ايك روز قصرِ امن    ميں بين الاقوامى عدالت عاليہ كا سالانہ استقباليہ تھا ۔ چودھری ظفر اللہ خان (قاديانى ) بھی اس عدالت كے جج تھے۔ ہم نے ديكھا كہ وہ قيمے كى گولياں سِرکے اور رائى كى چٹنی ميں ڈبو ڈبو كر مزے سے نوش فرما رہے ہیں۔ ميں نے عفت سے كہا: آج تو چودھرى صاحب ہمارے ميزبان ہیں، اس ليے قیمہ بھی ٹھیک ہی منگوايا ہو گا۔ وہ بولى : ذرا ٹھہرو، پہلے پوچھ لينا چاہیے۔ ہم دونوں چودھری صاحب كے پاس گئے۔سلام كر كے عفت نے پوچھا : چودھرى صاحب یہ تو آپ كى ريسپشن ہے۔قيمہ تو ضرور آپ كى ہدايت كے مطابق منگوايا گيا ہو گا؟ جواب ديا: ريسپشن كى انتظاميہ كا محكمہ الگ ہے۔ قيمہ اچھا ہی لائے ہوں گے ۔لو يہ كباب چکھ كر ديكھو۔ عقت نے...

ميرے وطن تيرى خاك ميں بھی روشنى ہے

يہ سچ ہے وسعت افلاك ميں بھی روشنى ہے  ميرے وطن تيرى خاك ميں بھی روشنى ہے وطن كى خاك پر انوار ہے لباس مرا  سو میرے دامن صد چاک ميں بھی روشنى ہے وطن كے سُكھ بھی ہمارے تھے ، دکھ بھی اپنے ہیں سو ديکھ ديدہء نم ناك ميں بھی روشنى ہے   پیرزادہ  قاسم

مینارپاکستان، تجدید عہد

مینار پاکستان ۔۔ تجدید عہد! یہاں اک عہد کیا تھا ہم نے گویا اک حلف لیا تھا ہم نے الگ اک ملک ہمارا ہوگا جو ہمیں جان سے پیار ہو گا ہو گا اک سبز ہلالی پرچم جس پہ چاند اور ستارہ ہو گا وہاں اک شمع جلائیں گے ہم جس کو آندھی سے بچائیں گے ہم بجھ نہ پائے گی قیامت تک جو راہ نسلوں کو دکھائے گی وہ شمع وہ ہو گئی روشن بے شک اور صد شکر ہے روشن اب تک !  آنکھ یہ دیکھ کے بھر آئی ہے اس کی لو کس لئے تھرائی ہے ؟ کیا ہوا عہد وفا بھول گئے؟ حلف جو ہم نے لیا بھول گئے؟ ہم سے ناراض ہوا ہے کیا‘ رب ؟ یاکہ ہم حرف دعا بھول گئے ؟ یہاں سب بیٹھ کے آؤ سوچیں ایک نکتے پہ ملاؤ سوچیں یہاں اک عہد کیا تھا ہم نے گویا اک حلف لیا تھا ہم نے الگ اک ملک ہمارا ہو گا جو ہمیں جان سے پیارا ہو گا کیا الگ ملک ہمارا ہے یہ؟ کیا ہمیں جان سے پیارا ہے یہ؟ ہے تو پھر آؤگلے لگ جائیں اپنی کھوئی ہوئی طاقت پائیں تھام لیں سبز ہلالی پرچم ہو نہ یکجہتی کی شمع مدھم شاعر: ریاض الرحمن ساغر

محمد علی جناح

محمد علی جناح سید سلیمان ندوی یہ نظم 1916 ء ميں لکھی گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد على جناح رحمہ اللہ پر لکھی گئی پہلی نظم ہے۔  اک زمانہ تھا کہ اسرارِ دروں مستور تھے كوہِ شملہ جن دنوں ہم پایہ ء سِینا رہا  جب كہ داروئے وفا ہر درد كا درماں رہی  جب كہ ہر ناداں بو على سينا رہا جب ہمارے چارہ فرما زہر كہتے تھے اسے جس پر اب موقوف سارى قوم كا جينا رہا  بادہ ء حبّ وطن کچھ کیف پیدا کرسکے  دور ميں یوں ہی اگر یہ ساغرو مِينا رہا  علتِ ديرينہ سے اصل قوىٰ بے كار ہیں گوشِ شنوا ہے ہم میں ، نہ دیدہ ء بِینا رہا  پر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید  ڈاکٹر اس کا اگر محمد علی جِینا رہا 

کیا پاکستان دارالاسلام ہے؟

سوال : دارالاسلام کی کیا تعریف ہے ؟ کیا اس وقت پاکستان دارالاسلام ہے ؟ جواب: دارالاسلام اس سر زمین کو کہتے ہیں جہاں قرآن وحدیث کے قوانین نافذ ہوں اور چونکہ پاکستان اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ یہاں اسلامی قوانین نافذ ہوں ، اور پاکستان بننے کے بعد قرار دادِ مقاصد منظور کر کے اسے بنیادی طور پر دارالاسلام بنا دیا گیا تھا ، جس طرح ایک زمین کو خرید کر برائے مسجد وقف کر دیا جاتا ہے ۔ اگر بعد میں آنے والے اس کو سجدہ وعبادت کے لائق نہیں بناتے تو اس میں مسجد کی بنیاد کا کوئی قصور نہیں ۔جیسا کہ اہل مکہ نے بیت اللہ پر تین سو سے زائد بت نصب کر دیئے تھے ۔  بہر حال پاکستان بنیادی طور پر دارالاسلام بھی ہے اور دارالمسلمین بھی ہے کیوں کہ اس کے باشندے مسلمان ہیں ۔ عملی طور پر دارالاسلام اس وقت بنے گا جب اس میں قرار دادِ مقاصد کے مطابق خالص اسلامی قوانین نافذ کیے جائیں گے ۔ فتوی از علامہ ابوالبرکات احمد ، تصدیق : حافظ محمد گوندلوی رحمہم اللہ ، اقتباس از : فتاوی برکاتیہ ، تالیف ونشر : محمد یحیی طاھر ،جامعہ اسلامیہ گلشن آباد گوجرانوالہ، جنوری 1989 ء ۔