اشاعتیں

حمد لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جو تیری یاد کا مسکن ہو مولا میرے دل کو ایسا دل بنا دے

بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے میرے دل کو کسی قابل بنا دے اسے دنیا نے گھیرا ہے خدایا تو اپنے ذکر کا شاغل بنا دے بنا دے مولا میرا دل بنا دے بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے پھنسا ہے دلدل ِعصیاں کے اندر تو اس طوفان کو ساحل بنا دے بنا دے مولا میرا دل بنا دے ہوا ہے نفس ِامارہ کے تابع تو اطمینان کا حامل  بنا دے بنا دے مولا میرا دل بنا دے میرے دل کو کسی قابل بنا دے میں محروم بصارت ہوں خدایا بصیرت جلوہ منزل بنا دے بنا دے مولا میرا دل بنا دے رہے جو ذکر سے ہر دم منور خدایا ایسا میرا دل بنا دے بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے میرے دل کو کسی قابل بنا دے عطا کر آنکھ مجھ کو رونے والی اسی کو زیست کا حاصل بنا دے بہت بگڑا ہے میرا دل بنا  دے میرے دل کو کسی قابل بنا  دے رسول اللہ کے صدقے میں یا رب ہمیں فردوس کے قابل بنا دے بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے میرے دل کو کسی قابل بنا دے ہمیں جو علم کی دولت عطا کی تو اپنے فضل سے عامل بنا دے بنا دے مولا میرا دل بنا دے جو تیری یاد  کا مسکن ہو مولا دل محسن کو ایسا دل بنا دے  شاعر: احسان م...

کارسازِما بہ فکر کارِ ما

گزشتہ دنوں خلیفہ عبدالحکیم کے مجموعہ کلام "کلامِ حکیم" کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ خوب صورت حمد نظر سے گزری تو اسے بیاض کے لیے لکھ ڈالا۔ میرے ابو جان فارسی کا یہ شعر اکثر پڑھا کرتے ہیں۔ ​ خالقِ کونین وہ ربِ قدیر جس نے بچپن میں بہائی جوئے شِیر چھوڑ دے کیوں حاجتِ برنا و پیر کیا نہیں وہ حال کا میرے خبیر "کار ساز ِ ما بہ فکرِ کارِ ما فکرِ ما درکارِ ما آزارِ ما" مور سے لے کر ملائک تک کا رب ایک دم غافل نہیں جو روزوشب ہے سپرد اس کے یہ نظم ونسق سب بدگمانی ہے یہاں ترکِ ادب "کار ساز ِ ما بہ فکرِ کارِ ما فکرِ ما درکارِ ما آزارِ ما" جو خزاں کے بعد لاتا ہے بہار خیر میں ہے صرف جس کا اختیار چاہے تو صحرا کو کردے لالہ زار کافرِ نعمت ہے جو ہو سوگوار "کار ساز ِ ما بہ فکرِ کارِ ما فکرِ ما درکارِ ما آزارِ ما" اس کے آگے کیا ہے میری احتیاج جو کرے سارے جہاں کا کام کاج ذرے ذرے میں ہے قائم جس کا راج دکھ دیا جس نے وہی دے گا علاج "کار ساز ِ ما بہ فکرِ کارِ ما فکرِ ما درکارِ ما آزارِ ما" ڈر نہ طوفاں سے کہیں ساحل بھی ہے ہر رہِ دشوار کی منزل بھی ہے کشتِ محنت کا کہی...

تیرے اِیما پہ ہے موقوف ارادہ میرا

حمد تیرے اِیما پہ ہے موقوف ارادہ میرا تیرے محبوبؐ کا دِیں منزل و جادہ میرا میرے سانسوں سے تیرے نام کی خوش بو آئے حمد و مدحت میں کٹے وقت زیادہ میرا میرے باطن کو بھی اُجلا میرے مولا کر دے جس طرح صاف ہے ظاہر کا لبادہ میرا مخزنِ غیب سے وافر ہو میسر روزی بہرِ ایثار و سخا دِل ہو کشادہ میرا اپنا عرفاں بھی عطا تونے کیا ہے ورنہ سنگ پاروں پہ فِدا تھا دلِ سادہ میرا تُو ہی جانے میری ذات کا مصرف کیا ہے میری نظروں سے تو اوجھل ہے افادہ میرا یہ بھی ایقانِ کرم کی ہے علامت راسخ دل گناہوں میں جو کرتا ہے اعادہ میرا ​ شاعر: راسخ عرفانی از: ارمغانِ حرم انتخاب و طباعت ناچیز 

ماورا فکر و تخیل سے ہے پیکر تیرا​

ماورا فکر و تخیل سے ہے پیکر تیرا​ کیسے اک جھیل میں اترے گا سمندر تیرا ​ تیری عظمت کے نشانات ہیں کتنے روشن​ تابعِ حکم ہے خورشیدِ منور تیرا ​ آمدِ صبح کا جب دیتی ہے پیغام صبا​ ذکر ہوتا ہے گلی کوچہ میں گھر گھر تیرا ​ ثبت ہے جس پہ ابراہیمؑ کی مہرِ تعمیر​ ہم نے سجدوں سے بسایا ہے وہ محور تیرا ​ مدح خواں تیرے ہیں پیغمبرؐ مکی مدنی​ کیوں نہ لیں نام وضو کر کے سخنور تیرا ​ صحنِ کعبہ میں کہیں نصب مجھے بھی کر دے​ سنگِ اسود بھی تِرا میں بھی ہوں پتھر تیرا ​ پھر شرف تجھ کو ملا دیدِ حرم کا راسخ​ اوجِ گردوں پہ چمکتا ہے مقدر تیرا ​ شاعر: راسخ عرفانی از : ارمغانِ حرم انتخاب : ناچیز 

لبیک

لبیک  ​ بلندی ہے شایاں تری ذات کو ’’الٰہا بزرگی سزاوارِ تو‘‘ یہ دل اللہ اللہ دھڑکتا رہے ترا نام لب سے جدا تک نہ ہو میں دل کے مکیں* کا مکاں دیکھ لوں مرے آنسوؤ! مجھ کو رستہ تو دو جو اسود کو چھو لے وہ پارس بنے اسے بوسہ دینے کو آگے بڑھو بسا ہے جہاں نور ہی چار سو اسی وادیِ انتہا میں بسو اسی روشنی سے جلاؤ دیے اسی آگ میں عمر بھر اب جلو جو سوئے حرم لے کے جاتا نہ ہو ذرا سعدؔ اس راستے سے بچو شاعر: سعداللہ شاہ انتخاب از" ایک جگنو ہی سہی "​ * اللہ سبحانہ و تعالی عرش عظیم پر ہیں۔ ان کی یاد دل میں ہوتی ہے۔

رب کعبہ ہے اعتماد مرا

رب کعبہ ہے اعتماد مرا  دینِ مرسلﷺ ہے اعتقاد مرا نعت بہر ِثواب لکھتا ہوں فن نہیں ہے رہینِ داد مرا مدحِ سرورﷺ رہے گی پائندہ  نام رکھے گا کون یاد مرا  کیا کروں گا میں لوٹ کر گھر کو  دل ہے طیبہ میں شاد باد مرا فیصلہ ہے کلام وسنت پر  کون ٹھکرائے اجتہاد مرا مرا خامہ ہے کفر کو شمشیر  لفظِ توحید ہے جہاد مرا عشق احمد ﷺ میں مست رہتا ہوں فقر اس پر ہے مستزاد مرا جب بھی حمد و ثنا لکھوں راسخ ٹوٹ جاتا ہے انجماد مرا  شاعر: راسخ عرفانی  اقتباس از نسیمِ منی 

دعائیہ

تو کرم کیش ہے تقصیر وخطا کام مرا تیری بخشش سے ہے کم ظرف مِرا ،جام مِرا محوِ حیرت ہوں کروں کیسے مخاطب تجھ کو کج ہیں الفاظ مِرے ، طرزِ سُخن خام مِرا حج کے میداں میں بھی ہوں شر م سے پانی پانی گرد آلود گناہوں سے ہے  احرام  مِرا لاکھ محتاط چلا ہوں میں تری راہوں میں  پھر بھی لرزیدہ رہا عزم بہرگام مرا اپنی رحمت کے سحابوں میں چھپا لینا مجھے جب کھلے نامہء اعمال سرِ عام مرا روزِ محشر جو حوالوں سے پکارا جائے  تیرے محبوب ﷺکے خدّام میں ہو نام مرا عِجز سے بار گہہِ حق میں  دعا  ہے راسخ ؔ دہر سے اٹھوں تو بالخیر ہو انجام مِرا راسخ عرفانی   از مجموعہءکلام: نکہتِ حرا

قلزمِ ہستی

قلزمِ ہستی مانا کہ گنہگار ہوں پتلا ہوں خطا کا ​ خوگر ہوں بہرحال تری حمد وثنا کا ​ تجھ سے نہ ہو کیوں گردشِ ایام کا شکوہ ​ خالق ہے کوئی اور بھلا ارض و سما کا ​ اللہ کہاں ہیں وہ زمانے کے رفو گر ​ صد چاک گریباں ہے ملت کی قبا کا ​ وہ دور خراب ہے کہ مرے پاک وطن میں ​ ہر شخص نظر آتا ہے بمبار لڑاکا ​ ہیں ملک خداداد میں امریکا کے صدقے ​ ہر روز ڈرون حملے ہر اک روز دھماکا ​ مرجاتے ہیں وہ اور وں کو مارا نہیں کرتے ​ تازہ جو کیا کرتے ہیں آئین وفا کا ​ دیوانوں کو گزرے ہوئے اک عرصہ ہوا ہے ​ پھر بھی ہے ترے کوچے میں اک شور بلا کا ​ بے خوف جیا کرتے ہیں وہ مردِ خود آگاہ ​ دل میں جو نہیں رکھتے کوئی خوف قضا کا ​ ڈرتے ہیں صنم ضربِ براہیم سے اب بھی ​ فرعون کو ڈر اب بھی ہے موسی کے عصا کا اک اُ س کے سوا اور کسی کو نہ پکارو ​ ٹہرے ہوئے پانی میں نہیں کرتے چھناکا یہ قلزمِ ہستی ہے کہ ہے قطرہء ناچیز ​ صحرائے نفس ہے کہ یہ جھونکا ہے ہوا کا ​ انسان کو جو کچھ بھی دیا تو نے دیا خوب ​ اندازہ بھلا کیا ہو ترے جو دو سخا کا ​...

عظیم اور اعلی فقط ایک تو ہے

عظيم اور اعلى فقط ايك تو ہے جہانوں سے بالا فقط ايك تو ہے ہوا بند كيڑے كو پتھر كے اندر وہ جس نے ہے پالا فقط ايك تو ہے وہ جس نے سدا اپنے بندے كے سر سے ہر آفت كو ٹالا فقط ايك تو ہے ہمارے دلوں سے سدا دور كر دے جو كلفت كا جالا فقط ايك تو ہے خطا كار بندے كى سارى خطائيں بھلا دينے والا فقط ايك تو ہے وہ ہے جس كى قدرت كى ہر بات انوكھی وہ سب سے نرالا فقط ايك تو ہے مصائب كى دلدل ميں گھرتے ہوؤں كو وہ جس نے سنبھالا فقط ايك تو ہے گنہ گار بزمی كے تاريک دل كو جو بخشے اجالا فقط ايك تو ہے خالد بزمی