اشاعتیں

حفیظ جالندھری لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام

کیا نمرود نے بابل میں جب دعوی خدائی کا ​ جہاں میں عام شیوہ ہو گیا جب خود ستائی کا ​ ​ اندھیرا ہی اندھیرا کفر نے ہر سمت پھیلایا ​ تو ابراہیم کو اللہ نے مبعوث فرمایا ​ ​ مٹا ڈالے بتوں کو توڑ کر اوہام مرسل نے ​ دیا بندوں کو پھر اللہ کا پیغام مرسل نے ​ ​ کیا شیطان کو رسوا عدوِ جان و دیں کہہ کر ​ کیا سینوں کو روشن لا احب الآفلیں کہہ کر ​ ​ مگر نمرود کو بھائیں نہ یہ باتیں بھلائی کی ​ کہ مسند چھوڑنی پڑتی تھی کافر کو خدائی کی ​ ​ ہوا یہ بندۂ شیطان، خلیل اللہ کا دشمن ​ چراغِ حق بجھانے کو کیا آتش کدہ روشن ​ ​ خلیل اللہ کو اس نے بھڑکتی نار میں ڈالا ​ مگر اللہ نے نمرود کا منھ کر دیا کالا ​ ​ بروئے کار آیا آج پھر وہ نورِ پیشانی ​ ہوئی آگ ایک پل میں کوثر و تسنیم کا پانی ​ ​ شاعر: ابوالاثر حفیظ جالندھری

حب رسول

حب رسولﷺ سما سکتی ہے کیونکر حبِ دُنی کی ہوا دل میں بسا ہو جب کہ نقش حبِ محبوب خدا دل میں محمد ﷺکی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے محمدﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی محمدﷺ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے محمدﷺ ہے متاعِ عالم ِایجاد سے پیارا پدر، مادر، برادر، مال، جان، اولاد سے پیارا ​ شاہنامہ اسلام: حفیظ جالندھری