اشاعتیں

عورت لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ماؤں بہنوں کی عزت کے رکھوالے

ایمان داری سے تجزیہ کریں تو مجھے پاکستان کے دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسند رہنماؤں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ دونوں طرف خواتین کی تصاویر کو نازیبا انداز میں ایڈٹ کر کے سیاسی جلن نکالنے والے موجود ہیں۔ دونوں طرف کے لوگ مرد رہنماؤں کے ہر قسم کے سکینڈل ان کی سماجی حیثیت کے سبب دبا دیتے ہیں جب کہ خواتین کے انتہائی ذاتی معاملات میں ناک گھسیڑنا اور ان کو کردار کی سند جاری کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایک زمانے میں دائیں بازو والوں نے  ایک ذہین اور باصلاحیت خاتون رہنما کی عزت پر اس لیے حملے کیے کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی جائز نہیں، کچھ دہائیوں بعد اسی دائیں بازو کی خواتین ایوان نمائندگان میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر بھی نظر آئیں اور کونسلرز کے انتخابات بھی لڑتی نظر آئیں۔ ایک جماعت کے رہنما کی ہر بیوی کے متعلق دائیں بازو کی اسلامی صحافت اور اسلامی سیاست نے جس انداز میں خبریں پھیلائیں، اس کو دیکھ کر بڑے بڑے اسلام پسند ان کی حمایت سے تائب ہو گئے۔ بائیں بازو کے   روشن خیالوں کے دھرنے اور جلسے میں ماؤں بہنوں سے جو سلوک ہوا وہ الگ،خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کا حسن اخلاق...

فحاشی کی پرزور مذمت میں مصروف گفتار کے غازی

آپ سوشل میڈیا پر موجود ہوں اور عامیانہ زبان سے واسطہ نہ پڑے ممکن نہیں۔ لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب فحاشی کی مذمت کرنے والے مومن حضرات کی زبان بگڑتی ہے۔ پہلے یہ تاک تاک کر آزاد خیال خواتین کے بیانات (اس میں ان کی وڈیو سے بھی کوئی پرہیز نہیں) ڈھونڈتے ہیں، پھر ان کی مذمت کے لیے وہ وہ فحش الفاظ، اور عریاں جملے (سمیت ماں بہن کی گالیوں کے) ڈھونڈ کر لاتے ہیں کہ فحاشی کا باپ بھی شرما جائے۔ روشن خیالوں کے دیدوں کا پانی تو اعلانیہ مر چکا  ہے، ان خضر صورت شرفا کی زبان کو کیا ہوا ہے یہ کوئی معمہ نہیں۔ کیا اسلام کا پہلا رکن یہ ہے کہ فحاشی کو ہر کونے کھدرے میں ڈھونڈا جائے پھر اس کی مذمت میں دن رات ایک کر دیے جائیں؟ سب سے خطرناک معاملہ یہ ہے کہ دوسروں کے اخلاقی زوال پر انگلیاں اٹھاتے ہمیں یہ غور کرنے کا موقع نہیں مل رہا کہ دائیں بازو کے شعلہ بیان مقرر، جوش خطابت میں کیا بول گئے ہیں؟ کہیں یہ اس بات کی علامت تو نہیں کہ بے حیائی کے جراثیم خود آپ کے دماغ تک کام دکھا چکے ہیں۔ جب انسان فحاشی کی مذمت میں بھی ماں بہن کو یاد کرتا ہوا پایا جائے، چاہے اپنی ی...

خواتین کی اصلاح میں مرد حضرات کی شگفتہ تحریریں

حکیم الامت   مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں" میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتوں کو اپنی تصنیف پر نام لکھنے سے کیا مقصود ہوتا ہے۔ اگر ایک مضمون دوسری عورتوں کے کان تک پہونچانا ہے تو اس کے لیے نام کی کیا ضرورت ہے مضمون تو بغیر نام کے بھی پہونچ سکتا ہے پھر نام کیوں لکھا جاتا ہے؟" ا قتباس از اصلاح خواتین یاد رہے کہ حکیم الامت نے جس کتاب میں یہ سطور لکھی ہیں اس پران کا نام بطور مصنف درج ہے!

مسئلہ مبارک اور نامبارک تصویر کا!

کل ایک مرد داعی کا سٹیٹس دیکھا جنہوں نے بڑے درد بھرے الفاظ میں بہنوں کو تصاویر شئیر کرنے سے منع کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی اپنی مبارک تصویر ساتھ ہی لگی تھی۔ مرد حضرات کچھ بھی کر لیں وہ نمونہ اسلام ہی رہتے ہیں۔ ان سے سوال کرنے والی ضرور فیمینسٹ ہوتی ہیں۔

قرآ ن و حدیث میں تحریف جائز نہیں چاہے تبلیغ کی خاطر ہو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعض لوگوں میں تبلیغ کا جذبہ ہوتا ہے لیکن ضروری علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دلائل معلوم نہیں ہوتے۔ بجائے حصول علم کی صبر آزما مشقت کے وہ آسان راستہ منتخب کرتے ہیں۔ تبلیغ کے نیک مقصد کی خاطر جھوٹ بولنے، تحریف   کرنے کا راستہ۔ آپ کو ایسے بہت سے مذہبی افراد ملیں گے جو یہ معلوم  ہونے کے بعد بھی کہ ان کی بیان کی گئی روایت جھوٹی ہے اسے پھیلانے سے باز نہیں آتے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ چاہے جھوٹی روایت ہے لیکن لوگوں پر اثر بہت کرتی ہے۔ یہ تبلیغی تجارت ہے جو چیز عوام میں ہاتھوں ہاتھ بکے گی وہ اس کو ضرور بیچیں گے۔  تبلیغ کے اسی ناپختہ تصور کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ گئی کہ لوگ قرآنی آیات اور احادیث کی معنوی تحریف سے بھی باز نہیں آ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تبلیغ میں انوکھی باتیں کریں جو عوام نے ان سے پہلے کسی مبلغ سے نہ سنی ہوں۔ اسی دوڑ میں آیات و احادیث کا من مرضی کا ترجمہ   ہو رہا ہے۔کسی حدیث کا درست معنی کیا ہے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں۔  سنن ابی داود کی ایک حدیث شریف ہے: لَا يَقْبَلُ اللّہ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ۔ تر...

رمضان میں خواتین عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  ہر سال رمضان میں  یہ سوال سامنے آتا ہے کہ: "خواتین رمضان میں عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟" پہلے  یہ سوچ لیا جائے کہ کیا کرنا ہے پھر وقت کا حساب لگا کر جدول بنا لیا جائے ۔ جب آپ کسی کام کا وقت مقرر کر لیتے ہیں اور پورے عزم سے عمل کرتے ہیں تو وہ  بآسانی ہو جاتا ہے ۔ رمضان میں باقی معمولات وہیں رہتے ہیں صرف دن میں روزہ اور رات میں قیام اللیل کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر لڑکیاں روزہ تو رکھتی ہیں لیکن نجانے کیوں قیام اللیل کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔   میرے خیال میں رمضان میں خواتین کو صرف دو گھنٹے عبادت کے لیے نکالنے ہیں ۔  جیسا کہ پہلے گزر چکا، رمضان کی اہم ترین عبادت ہے  روزہ  اور قیام اللیل ، جو اس کو ایمان واجر کی امید کے ساتھ کرے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، اور روزے کے اجر کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہے کہ وہ صرف میرے لیے ہے تو اس کی جزا بھی میں دوں گا جو اللہ سبحانہ و تعالی کی شان کے مطابق ہو گی ۔ 1- روزہ :  روزہ صرف اللہ کو معلوم ہے کہ آپ کا روزہ ہے ۔ اسی لیے اس کا اجر بھی اللہ تعالی ...

اپنی بیوی کو کبھی گاڑی چلانا مت سکھانا ۔ جنید جمشید کی تبلیغ

ہمارے ملک کے معروف مبلغ حضرت جنید جمشید   صاحب بتاتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے حسن کی وجہ سے کتنا ان سیکیور محسوس کرتے تھے کہ کہیں۔۔۔ اس لیے انہوں نے اپنی بیوی کو کبھی ڈرائیونگ نہیں سکھائی۔ ان کا کہنا ہے کہ "  کوئی بھی مرد جو یہ دیکھ رہا ہے اس کو وہ کہیں گے اپنی زندگی پر تمہارا احسان ہو گا کہ اپنی بیوی کو کبھی ڈرائیونگ کرنا مت سکھانا کیوں کہ جس عورت   کو بہت زیادہ گھر سے باہر نکلنے کی عادت پڑ جائے اس کو گھر بیٹھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ " یاد رہے کہ حضرت نے اپنی ذاتی زندگی اور اپنی نفسیاتی کیفیت کے متعلق یہ باتیں خود کھلے عام ذرائع ابلاغ پر شئیر کی ہیں اور کسی کی حسین بیوی کو بے تکلفانہ انٹرویو دیتے ہوئے شئیر کی ہیں جسے وہ بہت آرام سے تم کہہ کر مخاطب ہیں۔  اگر وہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرتے جو اپنے لیے کرتے ہیں تو یہ انٹرویو کسی مرد کو دینا پسند کرتے ۔ بجائے اس کے کہ جنید جمشید صاحب ایک مسلم مبلغ کی طرح عورت کے گھر سے نکلنے کے بارے میں اسلام   کے قوانین کو معیار بناتے انہوں نے اپنی ذاتی نفسیاتی کیفیت کو معیار بنا کر فیصلہ کیا کہ اپنی بیوی کو گھر سے با...

اللہ کو پسند نہیں کہ عورت کا نام قرآن میں آئے

وطن عزیز کے ایک معروف مبلغ فرماتے ہیں: " اللہ کو پسند نہیں کہ عورت کا نام قرآن میں آئے"۔ شکر ہے جناب نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کو عورتیں پیدا کرنا ہی پسند نہیں تھا، وہ تو مردوں کی خاطر بنائی ہیں۔  اللہ نے اس طرح کے مبلغوں  کے سر پر سینگ نہیں اگائے، اس میں  کیا حکمت ہے؟ میرا سوہنا رب ہی جانتا ہے البتہ یہ بات یقینی ہے کہ ایسے جاہل ، اہل علم کی عبرت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ 

مرد مسلمان کا ذوق نظر

 سنا کرتے تھے کہ بھلے زمانوں کے مسلمان مرد   کسی کافرعورت   کو بھی مصیبت میں دیکھتے تو اس کو چادر   سے ڈھانپ دیتے تھے۔ اب  مرد مسلم   نے بہت ترقی کر لی ہے۔ ٹی وی، موبائل، کمپیوٹر، ٹیبلٹ کی رنگین سکرینوں پر ہر قسم کی عورت   دیکھنے کو میسر ہے، کالی ، گوری، زرد، موٹی، پتلی، لمبی، ٹھگنی، لیکن پھر بھی اس کا نظربازی کا شوق پورا ہو کر نہیں دے رہا۔ فلمی اداکارہ اور عام عورت کی تمیز مٹ گئی ہے۔ مسلم   ممالک میں کسی دھماکے کے بعد پریشان حال زخمی عوتوں کی  تصویریں ہوں یا کالج کی معصوم لڑکیوں کا گروپ فوٹو، ہر عمر ہر نسل کی صنف مخالف مسلم نوجوانوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔ ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے انہوں نے تصویر   بنوائی کیوں؟ یہ  خیال شاید ہی آئے کہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے جہاں اپنی نظروں کا حساب دینا ہے صنف مخالف کےلباس   کا نہیں۔ آج کل برما   (اراکان) کی آفت زدہ، اور بے حال خواتین کی نیم برہنہ   وڈیوز بہت تیزی سے شئیر ہو رہی ہیں۔ یہ مظلوم کی حمایت کا نیا انداز ہے۔ سچ ہےہوس   بڑھتی جا...

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

کچھ دن پہلے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر برطانوی چینل فور کی ایک صحافی   کیتھی نیو مین نے ٹویٹ کیا کہ وہ برطانیہ   کی ایک مسجد  Streatham mosque کی جانب سے 'Visit My Mosque Day' منانے کا سن کر مسجد   گئیں،  لیکن   بقول ان کے انہیں  دروازے سے ہی باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ مزیدلکھا کہ میں اچھی طرح لباس پہنے اور سر ڈھانپے ہوئے تھی، میں نے جوتے اتار دیے تھے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ Well I just visited Streatham mosque for  # VisitMyMosque day and was surprised to find myself ushered out of the door... I was respectfully dressed, head covering and no shoes but a man ushered me back onto the street. I said I was there for  # VisitMyMosque mf But it made no difference اس ٹویٹ کو عوام اور پھر برطانوی ذرائع ابلاغ نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور گارڈین، ڈیلی میل، ہفنگٹن پوسٹ اور انڈیپینڈنٹ سمیت کئی ذرائع ابلاغ نے مسجد کے متعلق خبر   مرچ مسالا لگا کر نشر کردیں جس میں مسجد کو عورت کے خلاف تک کہا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا ...

میری تصویر شئیر کرنا حلال، تمہاری تصویر شئیر کرنا حرام

جب سے ہمارے مرد   داعیانِ اسلام کے نزدیک کیمرے والی (اور اب تو ہر قسم کی۔۔۔ یقین نہ آئے تو قرآنک السٹریشنز دیکھ لیں ) تصویر  حلال ہوئی ہے وہ اپنی ہر تیسری سٹیٹس  اپ ڈیٹ ،ٹویٹ، بلاگ پوسٹ وغیرہ میں  تازہ تصویر بھی شامل فرما دیتے ہیں، ان کے فین اسے شئیر فرما کر ثواب دارین حاصل فرماتے ہیں۔ بھائیوں کو نیکی کی راہوں میں آگے نکلتے دیکھ کر بہنیں بھی ان کی اقتدا میں باپردہ تصویریں شئیر کرنے لگیں ۔ تب داعیانِ اسلام نے اجتہاد کیا نتیجہ یہ نکلا کہ :" میری تصویر شئیر کرنا حلال اور تمہاری تصویر شئیر کرنا حرام! " بازیچہء اطفال ہے دنیا مرے آگے!

ہم نے رمضان کے ساتھ کیا کیا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ماہ رمضان نصف گز ر چکا آئیے آج دو گھڑیوں کو اپنا محاسبہ کریں اللہ کے کرم سے ہماری زندگی میں ایک بار پھر ایمان کی بہار کا یہ مہینہ آیا جنت   کے دروازے کھل گئے ، جہنم کے دروازے بند ہو گئے عاجز و حقیر بندوں کے ہر عمل کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھا دیا گیا ، لیکن ہم نے اس قیمتی وقت کی کیا قدر کی؟ ہم نے اس مبارک رمضان کے ساتھ کیا کیا؟ ہمارے ہاتھ روایتی دعاؤں کے لیے اٹھے ضرور لیکن ہم نے اللہ کی مخلوق سے مانگنا نہ چھوڑا ہم گھروالوں کے لیے نوع بہ نوع کھانے لاتے بناتے رہے لیکن ان کو بروقت نماز کی تلقین نہ کی؟ کتنے ہی گھر ہیں جہاں مسجدوں کی اذان پہنچتی رہی لیکن مرد باجماعت نماز کے لیے گھروں سے نہ نکلے اللہ کے فرائض سے غافل رہ کر نصف رمضان گزر گیا؟ قرآن کے مہینے میں ہم نے قرآن کو کتنا وقت دیا؟ ہم نے قرآن ختم کرنے کے من گھڑت شارٹ کٹ تو بہت شئیر کیے ، خود کتنا قرآن سمجھ کر پڑھا ؟ ہم جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں پر قیام اللیل میں ور...

مرد مسلمان کا ذوق سماعت

سماجی ذرائع ابلاغ میں دین اسلام کے متعلق مطالعے اور علم کی کمی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ بعض بظاہر دین دار لوگ اس آسان سے سوال کا جواب بھی نہیں جانتے کہ کیا عورت کی آواز  مطلقا پردہ ہے؟ صنف مخالف سے  نامناسب گفتگو مرد ہو یا عورت، سب کے لیے ممنوع ہے لیکن کچھ مردوں کے اسلام میں اپنے لیے ہر چیز حلال ہوتی ہے البتہ خواتین کو ان کی حدود بتانا ان کا مذہبی فریضہ ہوتا ہے۔  سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ  مرد، عورت کے لیے آواز کے پردے کی بہت تشریحات کرتے ہیں لیکن خود رنگین سکرینوں پر سجی بنی عورتوں کی آوازیں ذوق و شوق سے سنتے وقت انہیں یاد نہیں آتا کہ اس عورت کی آواز کا ان سے پردہ ہے ؟ مارننگ شوز، اشتہارات، خبریں ، فونز میں ریکارڈڈ مسیجز ہر چیز میں اسی عورت کی آواز بے پردہ ہے اور مرد مسلمان کے ذوق سماعت کی خوب خوب تسکین ہو رہی ہے! مجھے معلوم نہیں مسلمان مردوں کے ذوق تبلیغ اور ذوق عمل میں اتنا تفاوت کیوں ہے؟

مسئلہ عورت کی بے حیائی اور قرب قیامت کی نشانیوں کا

 آپ کو مسلمانوں میں ایسےایسے دین دار  لوگ ملیں گے جن کے نزدیک عورت کتاب تصنیف کر کے اس پر بطور مصنفہ اپنا نام چھپوائے تو ان کے نزدیک یہ ’’کھلی بے حیائی ‘‘ہے ۔ بلکہ بعض کے نزدیک یہ قرب قیامت کی نشانی بھی ہو سکتی ہے کہ "عورت ہو کر"کتاب لکھی جائے، لیکن اگر آپ قرب قیامت کی اس ہول ناک  نشانی کا مستند حوالہ پوچھ لیں تو وہ غضب ناک ہو کر آپ کو فورا مغربی مساوات سے متاثر قرار دے دیں گے۔

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

تم لڑکی ہو میں مرد ہوں ​ تصویر بنانا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ وڈیو بنانا بنوانا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ پینٹ پہننا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ آواز بلند کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ اپنی رائے دینا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ نوکری کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ شادی سے قبل محبت کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ فلم دیکھنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ موبائل رکھنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ نیٹ استعمال کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ دعوت وتبلیغ تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ معاف کیجیے گا ​ گناہ گناہ ہے مرد کرے یا عورت ​ نیکی نیکی ہے خواہ مرد کرے یا عورت ​ عورت ہونے سے گناہ کا عذاب بڑھ نہیں جاتا ​ نہ مرد ہونے سے گناہ کا عذاب کم ہوتا ہے ​ مسلم مرد و عورت کے لیے حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا مسلم مرد و عورت کے لیے حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا ​ اگر آپ کی بہن یا بیٹی ​ آپ کے ایجاد کردہ اصول نہیں مانتی تو وہ اسلام کی باغی نہیں ​ آپ کی انا کی باغی ہے ​ اسے اسلام سے بغاوت کی سزا مت سنائیں...

سوشل میڈیا اور اخلاقی اقدار

سوشل سائٹس سے وابستگی کے دوران جو سوالات میرے ذہن میں شدت سے سر اٹھاتے ہیں ان میں سے ایک اپنے معاشرے کی اخلاقی اقدار کے متعلق ہے ۔  میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ انسانوں پر ذاتی تبصرے کا حق ہمیں کس نے دیا ہے ۔ خواہ وہ انسان کوئی بہت بری شہرت کا حامل سیاست دان ہو؟ مجھے اس سچ کے اظہار کے لیے معاف فرمائیے کہ سیاست دان بھی انسان ہوتے ہیں۔  ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیے گئے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : مسلمان کی جان، مال، عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے سوائے اسلام کے حق کے ۔  کیا کسی انسان کے بری شہرت کا حامل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کی عزت ہم پر حلال ہو گئی ہے ؟ کوئی عورت خواہ شو بز سے تعلق رکھتی ہے اور کتنی ہی بری شہرت رکھتی ہے پھر بھی میرے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ اس کے متعلق بلاثبوت کوئی بات کر دوں؟ ہمیں کیسے یقین ہے کہ ہم جو جی میں آئے اس کے بارے میں کہہ ڈالیں ، ہم سے کوئی حساب نہ ہو گا؟ یوں لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاست دان ، ایکٹر ، کھلاڑی، علماء، مشہور یا غیر معروف انسانوں کے متعلق ہم سب کچھ بلا ثبوت کہنے کی آزادی رکھتے ہیں ۔ اور ا...

پاکستانی خواتین میں دین داری کا رجحان

برطانوى جريدے گارڈين نے رواں ماہ كى ابتدا ميں پاکستانی خواتین میں دین داری کے بڑھتے ہوئے رجحان كے متعلق Jason Burke كا مضمون شائع كيا ہے ۔ مضمون كے مطابق گزشتہ دس برس ميں پاكستانى خواتين خاص طور پر امير اور تعليم يافتہ خواتين مذہب اسلام كى جانب زيادہ مائل ہو رہی ہيں ، بتايا گيا ہے كہ كس طرح مساجد ميں خواتين كى حاضرى بڑھی ہے۔ (دوسرے لفظوں ميں وہابی ہو گئی ہيں : ) ) مضمون نگار نے بنيادى طور پر يہ دکھڑا رويا ہے كہ Apple MacBook استعمال كرنے والى خوشحال خواتين، بزنس كالج كى طالبات ، بينك كى آئى ٹی ڈوژن ميں كام كرنے والى تكنيكى ماہر خواتين كو مذہب اسلام بھا گيا ہے۔ وہ قرآن مجيد پڑھنے ميں دل چسپی لے رہی ہيں ، اپنی مرضى سے نقاب ، حجاب يا سكارف پہنتى ہيں ، پنج وقتہ نمازى ہو گئیں ہيں اور قيامت يہ كہ .... ان كا كہنا ہے ان كو كسى نے مجبور نہيں كيا ۔ زيادہ زور اس بات پر ہے كہ مذہب پسندى كى يہ نئى لہر پچھلے دس سال ميں بڑھی ہے۔ اس لہر كا ذمہ دار اس نے سعوديہ اور كويت جيسى خليجى رياستوں كے اثر ونفوذ كو بھی ٹھہرايا ہے۔ (وہی گھسى پٹی باتيں) جيسن نے بينك آف پنجاب كى آئى ٹی ڈوژن كى مثال دى جہاں سارى خا...

تم آنچل کو لہرا دینا

انتساب: اپنی بیٹیوں اور سارى دنيا كى نئى نسل كے نام  از : سليم كوثر  وہ سارے سمے جو بيت گئے  كيا ہار گئے كيا جيت گئے جتنے دكھ سكھ كے ريلے تھے ہم سب نے مل كر جھيلے تھے اب شايد كچھ بھی ياد نہیں  كبھی وقت ملا تو سوچیں گے آپس كے پيار گھروندوں كو  گڑیوں كے کھیل كھلونوں كو  گیتوں سے مہكتى كيارى كو  آنگن کے پھل پھلوارى كو  دھرتى پر امن كى خواہش كو  موسم كى پہلى بارش كو  كن ہاتھوں نے بے حال كيا  كن قدموں سے پامال ہوئے وہ سارے سمے جو بيت گئے  مل جل كر كتنے سال ہوئے  يہ سال مہینے دن گھڑیاں ہم سب سے آگے نكل گئے ہم جيون رتھ ميں جڑے ہوئے كبھی سنبھل گئے کبھی پھسل گئے دامن ميں صبر كى مايا ہے  کچھ آس اميد كى چھايا ہے  ہر راہ ميں كانٹے پڑے ہوئے  ہر موڑ پہ دکھ ہیں کھڑے ہوئے تم بڑے ہوئے ، تم بڑے ہوئے  اب لورى پاس نہیں رہتی  تمہیں نيند كى آس نہیں رہتی ميرى بات سنو ،  ميرى بات سنو  جب ہاں انكار ميں لپٹی ہو تصوير غبار ميں لپٹی ہو کہیں رشتے ٹوٹنے والے ہوں یا اپنے چھوٹنے والے...