اشاعتیں

طنزومزاح لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نرالے سوالی (9)

و نوجوان ایک بزرگ کا مذاق اڑانے کی نیت سے اس کے دونوں طرف بیٹھ گئے۔ ایک نے پوچھا: شیخ آپ احمق ہیں یا جاہل؟ اس نے کہا: میں دونوں کے درمیان ہوں۔ ایک بزرگ جن کی کمر خم ہو چکی تھی راستے سے گزر رہے تھے، ایک نوجوان نے شرارتا کہا: یہ کمان کتنے کی ہے؟ بزرگ نے جواب دیا: اللہ تمہاری عمر لمبی کرے تو یہ مفت مل جائے گی ! (عربی سے ترجمہ  شدہ)

کیا داڑھی رکھنا سب مسلمانوں پر فرض ہے۔ نرالے سوالی (8)

شیخ یوسف ایسٹس سے کسی نے پوچھا: کیا سب مسلمانوں کو لازمی داڑھی رکھنی پڑتی ہے؟ جواب دیا: سب کو نہیں، لڑکیوں کو تو بالکل نہیں ! "Do Muslims have to grow a beard?" - Not all of them . . . . . not the girls!

حصول ثواب کی خاطر شادی ۔۔۔ نرالے سوالی (7)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے کسی نے کہا کہ وہ مال دار ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تا کہ کسی لڑکی کی عفت محفوظ ہو جائے۔  شیخ نے فرمایا: اپنا مال کسی غریب لڑکے کو دے کر اس کی شادی کرا دیں، دو لوگوں کی عفت محفوظ ہونے کا اجر ملے گا !

مسٹر جدیدالاسلام

نو مسلم کو فارسی میں جدیدالاسلام کہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی یتیم خانے یا مدرسے کا نام ہے جسے قربانی کی کھالیں دے کر ثواب دارین حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی کو نومسلم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے ایمان کی پختگی اور عبادات میں شدیدالعمل ہونے کی گواہی دی جا رہی ہے۔ مسٹر جدیدالاسلام کے بارے میں شبہ ہوتا ہے کہ فیشن کے طور پر اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ جونہی فیشن بدلا یہ اسلام سے باہر یا بیزار ہو جائیں گے۔ جدید ہونے کی وجہ سے ان کے بنیاد پرست یا جہاد پسند ہونے کا کوئی امکان نہیں۔   ( مختار مسعود: لوحِ ایام، ص 413 ) ​

مسجد سے دوری کے غم میں رونے والے کنکر۔۔۔ نرالے سوالی (6)

ایک بزرگ سے کسی نے کہا: میں نے سنا ہے کہ حدیث میں آیا ہے جب انسان مسجد میں سجدہ کرتا ہےتواس کی پیشانی سے مسجد کی مٹی کے ذرے چپک جاتے ہیں۔ جب وہ مسجد سے نکل کر جاتا ہے تو وہ ذرے مسجد کی دوری کی غم میں روتے چلاتے ہیں۔ بتائیے میں ان ذرات کا کیا کروں؟  بزرگ نے فرمایا: ان کو چیخنے دو یہاں تک کہ ان کا حلق پھٹ جائے ! سوالی نے کہا: تو کیا ان کا حلق بھی ہوتا ہے؟ بزرگ نے جواب دیا: تو پھر بھلا وہ کہاں سے چیختے ہیں؟ 

مذہبی رجحان والے نوجوانوں کے مسائل کا حل۔۔۔ ںرالے سوالی (6)

امام احمد رحمہ اللہ سے ایک نوجوان نے پوچھا میں لوبیے والے پانی سے وضو کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا :نہیں۔ امام نے اس سےپوچھا: مسجد میں داخل ہونے کی دعا آتی ہے؟  اس نے کہا نہیں۔ امام رحمہ اللہ نے اسے نصیحت کی : "خود کو ان کاموں میں مصروف کرو جو تمہیں فائدہ دیں"۔ آج کل بہت سے مذہبی رجحان والے نوجوانوں کا یہی حال ہے اور ان کے مرض کا یہی علاج ہے۔

نرالے سوالی (5)

ایک قاضی کی مجلس علم میں ایک شخص خاموش بیٹھا رہتا ایک روز انہوں نے اس سے کہا آپ بھی کچھ کہیے۔ اس نے کہا: روزہ دار روزہ کب کھولے؟ قاضی نے کہا غروب شمس کے وقت ۔ کہنے لگا: اگر سورج رات تک غروب نہ ہو تو کیا کرے ؟ قاضی صاحب نے کہا اس کا چپ رہنا ہی بہتر تھا ۔

نرالے سوالی (4)

بعض لوگوں کو سوال در سوال کی عادت ہوتی ہے پہلے سوال کا پورا جواب سنتے نہیں کہ اگلا داغ دیتے ہیں ، ایسے مواقع پر اپنا مورال بڑھانے کے لیے مجھے امام شعبی ہی یاد آتے ہیں ۔۔۔۔ ایک بار امام شعبی بتا رہے تھے کہ یہ روایت جھوٹی {موضوع} ہے کہ : سحری ضرور کرو چاہے ایک انگلی مٹی میں ڈال کر چاٹ لو۔ حاضرین میں سے ایک "عقل مند" نے بات کاٹ کر سوال کیا کونسی انگلی چاٹیں۔ امام شعبی نے پاؤں کا انگوٹھا دکھا کر کہا: یہ۔

انگریز کے یرغمالی

افضل جوزف كے گھر کے قريب ڈاكٹر ماہ گرفتہ كا گھر ہے۔ سيٹھی کے فليٹ كى سيڑھیوں كے ساتھ لقمہ ء لذيذ نام كا ايك چھوٹا سا ريستوران واقع ہے۔ خواجہ نعيم كے گھر جاتے ہوئے جوتوں کی دكان كے بورڈ پر نظر پڑی۔ نام ہے برہنہ پاہا۔ ننگے پاؤں۔ مرزا صاحب كے گھر كے راستہ ميں بجلی كے ليمپ اور فانوس بیچنے والے نے دكان كا نام چراغ ونور ركھا ہوا ہے۔ محمود اور شميم كے گھر کے پاس زمين دانش گاہ يعنى يونيورسٹی کیمپس واقع ہے جہاں ہر طرح كے لوگ پائے جاتے ہیں۔ دانش جو دانش پرور، دانش پرست، دانشور، دانشى اور دانش دوست ۔ یہاں علم ودانش كے مراكز كو دانش گاہ، دانش كدہ، دانش سرا، دانش پناہ اور دانش آباد كہتے ہیں۔ يہ اہل دانش ٹھہرے۔ اگر ہمارى طرح انگريز كے يرغمالى ہوتے تو يہاں بھی قدم قدم پر يونيورسٹی ، كالج، اسكول، انسٹیٹیوٹ ، فيكلٹی ، ڈپارٹمنٹ اور بيورو كا جال پھیلا ہوتا۔   یہاں اس قسم كى بد مذاقى كى كوئى گنجائش نہیں ہے ۔ (مختار مسعود، لوح ایام) 

نرالے سوالی (3)

نرالے سوالیوں کی ایک اور عادت یہ ہوتی ہے کہ ہر علم اور ہر مہارت (سپیشلائزیشن) میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ دوسرے علوم کے ماہرین کے متعلق ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ تو گھامڑ ہی ہیں ، ہم دو سوالوں میں ان کو زیر کر لیں گے ۔ دوسرے لفظوں میں ہمچو ما دیگرے نیست ۔ ایسے ہی دو ذہین سوالی پہلی بار ایک کمہار کے پاس گئے ۔ کمہار نے مٹی کے برتن بنا بنا کر دھوپ میں اوندھا رکھے تھے ۔ انہوں نے سادہ لباس میں ملبوس عام سے کمہار پر حقارت بھری نظر ڈالی اور برتنوں کا معائنہ کرنے لگے ۔ پہلا ایک ہنڈیا پر ہاتھ پھیر کر بولا : دیکھو ذرا یہ کمہار کیسا بے وقوف ہے ؟ ہنڈیا کا منہ بنایا ہی نہیں ! دوسرے ذہین سوالی نے ہنڈیا اٹھا کر دیکھی بھالی ۔پھر کمہار سے پوچھا : ارے احمق تم اس کا پیندا بنانا بھی بھول گئے ؟

نرالے سوالی (2)

بعض سوالیوں کوکتنا ہی سمجھایا جائے وہ حیران کر دینے والے، غیر ضروری اوٹ پٹانگ سوالوں کا سلسلہ نہیں روکتے اور ان کا جہالت اور بے وقوفی مزید نکھر نکھر کر سامنے آتی چلی جاتی ہے ۔ ایسا ہی ایک سوالی ایک روز امام شعبی رحمہ اللہ کے پاس آیا ۔ وہ کھڑے کسی بڑھیا کی بات سُن رہے تھے ۔ نرالے سوالی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، آتے ہی سوال جَڑ دیا : تم دونوں میں سے شعبی کون ہے ؟  امام شعبی رحمہ اللہ نے غور سے سر تا پا اس کا جائزہ لیا ، سمجھ گئے کہ مسکین عقل سے پیدل ہے ۔ بڑھیا کی طرف اشارہ کر کے بولے : یہ ! (ھذہ) ۔ نرالا تو مناظرہ کرنے آیا تھا ، اتنے مختصر جواب سے تسلی کیسے ہوتی ؟  بڑی ذہانت سے بولا : اگر یہ شعبی ہے تو تم کون ہو ؟؟؟

نرالے سوالی (1)

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ ​ اکثر پبلک فورمز میں ایک زمرہ ہوتا ہے سوال   وجواب کا ، جس کے قیام کا عمومی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا، دین اسلام کی روشنی میں، حل جان سکیں ۔ کبھی کبھی اس زمرے میں کچھ ایسے سوالی   بھی آ جاتے ہیں ، جو مسائل کا حل نہیں چاہتے بلکہ مسائل کو مزید الجھا الجھا کر پیش کرتے ہیں ۔ ان کو آپ نِرالے سوالی کہہ سکتے ہیں ۔ان کی کراس کوئسچننگ یا سوال در سوال بتاتے ہیں کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ، جواب دینے والے کا امتحان اور اپنی قابلیت کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں ۔ ان کا ماٹو ہوتا ہے : " میں نہ مانوں"۔ اگر ،مگر، چونکہ ، چنانچہ سے لیس ۔ اب ان کی بے سرو پا باتوں سے نہ تو دین کو فرق پڑتا ہے، نا جواب دینے والے علماء کو ۔ نِرالے سوالیوں کا اپنا ہی وقت بھی برباد ہوتا ہے اور سنجیدہ لوگوں کو ان کی خوب پہچان بھی ہو جاتی ہے ۔  ایسا ہی ایک نرالا سوالی امام   شعبی   رحمہ اللہ کے پاس آیا اور وضو کے دوران داڑھی کے خلال کا طریقہ پوچھا ۔  امام شعبی رحمہ ال...

اللہ کا شکر ہے!

جہاز ميں عملہ تھا ہم تھے يا ايك انڈونیشی نوجوان، ہمارے ليے وہ واحد غير ملكى تھا کہ جس سے گفت وشنيد کے بہانے ہم سب تلاش كرتے رہتے تھے۔ نہ وہ ہماری زبان سمجھے نہ ہم اس کی، گویا : زبان يار من تركى ومن تركى نمى دانم ( ميرے دوست كى زبان تركى ہے اور مجھےتركى نہیں آتی ) البتہ وہ عربى كے کچھ الفاظ كہہ کر اپنا ما في الضمير بيان كر ديا كرتا تھا ۔ پوچھا کہ انڈونیشیا کیسا ملک ہے؟ كہنے لگا: في مسلم كثير الحمد للہ، وفي مساجد كثير الحمد للہ، ۔۔۔وفي سينما كثير الحمد للہ ! ( مسلمان بہت ہیں اللہ كا شكر ہے، مسجديں بہت ہیں اللہ كا شكر ہےاور سينما بہت ہیں اللہ كا شكر ہے ! ) اقتباس ڈاکٹر صھیب حسن کے سفر نامہ " ابن بطوطہ ہوا کرے کوئی " سے۔ ​