اشاعتیں

اقتدار احمد لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مغرب و مشرق کا فرق

یہاں بھی طفل وجواں اور مردوزن چاہے نیم مغربی لباس میں ہوں، اسی مشقت میں مبتلا ہیں جو ہم مشرق کے مسکینوں کا مقدر ہو گئی ہے، ویسے تو انسان پیدا ہی مشقت اٹھانے کے لیے کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے سورۃ البلد میں فرمایا : اور ہم کو قسم ہے باپ کی اور اس کی اولاد کی کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیاہے۔" رشتہ و پیوند نے آدمی کے گلے میں کتنے بھاری طوق اور ہاتھوں پیروں میں کیسی بیڑیاں ڈال دی ہیں۔ وہ ہانپتا کانپتا مہد سے لحد تک کا سفر کیسے کیسے بوجھ اٹھائے پورا کرتا ہے اور اس میں مغرب مشرق کا فرق بس اتنا ہے کہ وہاں اس میں تفریح کا بھی کچھ عنصر داخل کر دیا گیا اور یہاں بوجھوں مرتے انسانوں کو پیشانیوں سے پسینا پونچھنے کی بھی فرصت میسر نہیں۔ یہ زندگی نہیں گزارتے، زندگی انہیں گزارتہ اور اگلی منزل پر جا پٹختی ہے جہاں منکر نکیر اپنے گرز تھامے ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ وہ بھی رہتے اسی دنیا میں ہیں لیکن پھول میں خوشبو کی طرح ! زبان یار من ترکی از اقتدار احمد

بے آواز رسمِ اذاں

ساڑھے آٹھ بجے تو ایک صاحب نے اذان دی جو امریکہ سے تشریف لائے تھے۔ اذان کا وہی امریکی سٹائل جس میں آواز اس کمرے سے باہر نہیں نکلتی جہاں نماز کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہماری اذانیں روح بلالیؒ سے تو پورے عالمِ اسلام میں محروم ہو گئی ہیں دیارِ مغرب میں رسمِ اذاں "بے آواز" بھی ہے۔ ایسے میں مجھے ہمیشہ اپنا پیارا وطن یاد آتا ہے جہاں میناروں کے چاروں طرف نصب عظیم الجثہ لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے قریب واقع مساجد سے جب یکے بعد دیگرے یہ پکار شروع ہوتی ہے تو فضا میں آواز کی تندوتیز لہریں اس قدر ارتعاش پیدا کر دیتی ہیں کہ سننے والوں کے کانوں کے پردے پھٹنے کو آجائیں۔ سامعین کو اذان کا جواب دینے پر بڑے اجر کی نوید ہے لیکن چہارجانب سے چنگھاڑتی آوازیں یوں آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں تو اذان کے کلمات کو جدا جدا کر کے دہرانا یا جواب دینا ممکن ہی نہیں رہتا۔ اپنے یہاں اذان کا یہ بلند و بے ہنگم آہنگ اور وہاں یہ کمزوری و بے جانی, یعنی یہاں یہ شورا شوری اور وہاں وہ بے نمکی! خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں ! ( مشرق کے مسکین اور مغرب  زبان یار من ترکی از اقتدار احمد، باب)