اشاعتیں

اسلام لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

روزہ افطار کرنے کی دعا

تصویر
روزہ افطار کرنے کی مستند دعا 

محبت جو دل بدل دے

  رمضان المبارک قریب آنے پر ہر مسلمان روحانی لحاظ سے خاص قسم کی خوش گوار کیفیت سے گزرتا ہے۔ علوم اسلامیہ کی تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان دنوں لوگ  رمضان سے متعلق سوالات پوچھتے ہیں تو اہل اسلام کی اس مہینے سے محبت دیکھ کر اور بھی خوشی ہوتی ہے۔  شعبان کے  مبارک دن جب آپ اللہ سبحانہ وتعالی سے اس عظیم مہینے کی برکتوں تک پہنچنے کی دعا مانگ رہے ہوں اور گزشتہ رمضان کی حسین یادیں آپ کو اس سال مزید بہتر بننے کی کوشش کی ہمت دلا رہی ہوں، اس عالم میں آپ کو اچانک  طلبہ و طالبات سے ایسے سوالات موصول ہوں  جو  سوال کم اور معاشرے کے اخلاقی زوال کا اشارہ زیادہ ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے معطر فضا میں یکایک بدبو کا بھبکا آپ تک آ پہنچے۔ اس سے زیادہ دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ اتنے کم عمر،معصوم بچے اور بچیاں ایسے الم ناک مسائل کا شکار ہیں؟ وہ عمر جس میں والدین،تعلیمی ادارے اور درسی کتابیں ہی کل عالم ہوتی ہیں، اس میں انہوں نے کیسی فکریں پال لی ہیں؟ یہ ایک دن میں نہیں ہوا۔ ان کے والدین، اساتذہ،  علماء، حکمرانوں، تعلیمی اداروں اور  ذرائع ابلاغ نے نئی نسل کو یہاں پہن...

نماز اور اذان کو عربی میں ادا کرنا کیوں ضروری ہے

نماز اور اذان مقامی زبانوں میں کیوں نہیں، عربی میں کیوں؟ اسلام کے متعلق ایک قدیم اعتراض  کا جواب از ڈاکٹر بلال فلپس حفظہ اللہ (اردو ترجمہ: عائشہ بشیر) عربی زبان میں عبادت کی وجہ سے مسلمان جہاں بھی ہوں وہ اکٹھے عبادت کر سکتے ہیں۔ اگر میں پیکنگ جاؤں اور لوگ  چینی زبان میں اذان دیں تو مجھے معلوم نہیں ہو گا کہ  اذان دی گئی ہے کیوں کہ چین میں مساجد کی شکل ویسی نہیں ہوتی  جیسی ہندوستان میں ہے۔وہاں مسجد کی کوئی خاص شکل نہیں ہے ۔ وہ صرف ایک عبادت گاہ ہے جو صرف ایک کمرا بھی ہو سکتا ہے۔ تو اگر اذان  عربی میں ہو اور میں پیکنگ میں ہوں تو مجھے معلوم ہو جائے گا کہ یہاں کوئی مسجد ہے۔ اور میں اس مسجد میں جاؤں گا۔ اگر وہ امام چینی زبان میں نماز پڑھائے گا تو مجھے سمجھ نہیں آئے گی، لیکن چوں کہ نماز عربی میں ہے میں جا کر اس نماز میں شریک ہو سکتا ہوں۔ عربی مسلمانوں کے لیے ایک متحد کرنے والی قوت کا کام کرتی ہے۔  ساری دنیا میں  کہیں بھی چلے جائیں زبانوں کے فرق کے باوجود  وہ مل کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جیسا کہ سوال کرنے والے بھائی نے بھی ذ...

رمضان کی تیاری دل سے

بسم اللہ الرحمن الرحیم رمضان المبارک ہر گزرتے دن کے ساتھ قریب سے قریب تر آ رہا ہے۔  سال بھر بے تابی سے رمضان کا انتظار کرنے والےاللہ کی رحمت کے پیاسے ابھی سے اس  کی تیاری میں مصروف ہیں۔ کئی سال پہلے نصف رمضان میں ایک تحریر لکھی تھی جو یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔  یہ سارے جملے دراصل ایک عزم تھے، ایک پکار کہ کب تک ایسی ہی زندگی گزارتے رہنے کا ارادہ ہے؟ زندگی میں کچھ تو انقلاب چاہیے۔  اس سال رمضان آنے سے پہلے زندگی بہت بدل چکی ہے۔ ابو جان (رحمہ اللہ و جعل الجنۃ مثواہ) جو ہر سال رمضان کی تیاری کا شوق دلاتے تھے، اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ آج کل ان کی وہ سب نصیحتیں یاد آتی ہیں جو وہ رمضان سے پہلے کیا کرتے تھے۔ اب ان کا مہربان وجود ساتھ نہیں، یادیں باقی ہیں جو بار بار مطالبہ کرتی ہیں کہ رمضان سے پہلے  سچا عزم کرنا ہے،   رمضان کی تیاری دل سے کرنی ہے،اور  رمضان بھر اپنے عزائم پر ثابت قدم بھی رہنا ہے۔  اے اللہ ہمیں رمضان کا مہینہ عمل کی توفیق کے ساتھ عطا فرما اور جانے والوں کا حق ادا کرنے کی توفیق دے۔

فحاشی کی پرزور مذمت میں مصروف گفتار کے غازی

آپ سوشل میڈیا پر موجود ہوں اور عامیانہ زبان سے واسطہ نہ پڑے ممکن نہیں۔ لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب فحاشی کی مذمت کرنے والے مومن حضرات کی زبان بگڑتی ہے۔ پہلے یہ تاک تاک کر آزاد خیال خواتین کے بیانات (اس میں ان کی وڈیو سے بھی کوئی پرہیز نہیں) ڈھونڈتے ہیں، پھر ان کی مذمت کے لیے وہ وہ فحش الفاظ، اور عریاں جملے (سمیت ماں بہن کی گالیوں کے) ڈھونڈ کر لاتے ہیں کہ فحاشی کا باپ بھی شرما جائے۔ روشن خیالوں کے دیدوں کا پانی تو اعلانیہ مر چکا  ہے، ان خضر صورت شرفا کی زبان کو کیا ہوا ہے یہ کوئی معمہ نہیں۔ کیا اسلام کا پہلا رکن یہ ہے کہ فحاشی کو ہر کونے کھدرے میں ڈھونڈا جائے پھر اس کی مذمت میں دن رات ایک کر دیے جائیں؟ سب سے خطرناک معاملہ یہ ہے کہ دوسروں کے اخلاقی زوال پر انگلیاں اٹھاتے ہمیں یہ غور کرنے کا موقع نہیں مل رہا کہ دائیں بازو کے شعلہ بیان مقرر، جوش خطابت میں کیا بول گئے ہیں؟ کہیں یہ اس بات کی علامت تو نہیں کہ بے حیائی کے جراثیم خود آپ کے دماغ تک کام دکھا چکے ہیں۔ جب انسان فحاشی کی مذمت میں بھی ماں بہن کو یاد کرتا ہوا پایا جائے، چاہے اپنی ی...

ایک جیسے بدنیت، ایک جیسا کھیل!

- " پاکستان   خطرے میں ہے   اسلام   کی وجہ سے، ملا   کو نکال باہر کرو"۔ - " اسلام خطرے میں ہے پاکستان کی وجہ سے،ہم تو پہلے ہی ڈرتے تھے یہ ملک نہ بنایا جائے !" پاکستان دشمن اور   اسلام دشمن، ایک جیسا کھیل، ایک جیسے دلائل، ایک جیسا شورشرابہ، ایک جیسے بدنیت ۔۔۔ کبھی آپ نے سوچا؟ اسلام کی   حفاظت   کے لیے پاکستان کو   گالی   دینا ضروری کیوں ہے؟ پاکستان کی حفاظت کے لیے اسلام کو گالی دینا ضروری کیوں ہے؟ خدا اسلام اور پاکستان سے بیک وقت محبت کرنے والوں کو میدان عمل میں آنے کی توفیق دے !

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:  قَالُوا إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَاللَّ ـ هُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ آیت 77 ترجمہ: بھائیوں نے کہا: "اگر اس نے چوری کی تو یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ اس سے پہلے اس کا (حقیقی) بھائی بھی چوری کر چکا ہے"۔ تب یوسف نے (جس کے سامنے اب معاملہ پیش آیا تھا) یہ بات اپنے دل میں رکھ لی۔ ان پر ظاہر نہ کی (کہ میرے منہ پر مجھے چور بنا رہے ہو) اور (صرف اتنا) کہا کہ "سب سے بری جگہ تمہاری ہوئی ( کہ اپنے بھائی پر جھوٹا الزام لگا رہے ہو) اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ اسے بہتر جاننے والا ہے۔(آیت 77) تفسیر: جھوٹوں کا قاعدہ ہے کوئی موقع کوئی بات ہو جھوٹ بولنے سے نہیں رکتے۔ اگر مدح کا موقع ہو تو جھوٹی مدح کر دیں گے۔ مذمت کا موقع ہو تو کوئی جھوٹا الزام لگا دیں گے۔  جب بن یمین کی خرجی میں سے پیالہ نکل آیا تو بھائیوں کا سوتیلے پن کا حسد جوش میں آ گیا۔ جھٹ میں بول اٹھے۔ اگر اس  نے چوری کی تو کوئی عجیب بات نہیں۔ اس کا بھائی یوسف بھ...

اولاد کے درمیان عدل ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ فرماتے ہیں : باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد میں عدل کرے، جہاں تک ممکن ہو، اگر اولاد میں سے کوئی ایک زیادہ توجہ کا مستحق ہو تو کوشش کرے کہ اپنی توجہ کو ظاہر نہ ہونے دے تاکہ اولاد کے درمیان نفرت پیدا نہ ہو۔ "   اولاد کے درمیان غیرت کبھی ان کو ایک دوسرے کو نقصان اور تکلیف پہنچانے تک لے جا سکتی ہے۔ جیسے یوسف کے بڑے بھائیوں نے ان سے غیرت کھائی تو ان کو تکلیف پہنچانے کی پوری کوشش کی۔   یہ غیرت صرف تکلیف پہنچانے کی خواہش تک ہی نہیں رہتی، منصوبہ بندی اور قتل تک آمادہ کر سکتی ہے، جیسا کہ ان لوگوں کو باپ کی توجہ کے مسئلے نے اس حدتک پہنچا دیا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے قتل کی کوشش کی۔ (اقتلوا یوسف اوطرحوہ ارضا یخل لکم وجہ ابیکم) یوسف  کو قتل کر دو یا کسی جگہ پھینک دو کہ تمہارے باپ کی توجہ صرف تمہارے لیے ہو جائے۔ فائدہ 5، 8، 9: مائۃ فائدۃ من سورۃ یوسف از شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ۔ اردو ترجمہ : عائشہ

زندگی کے نشیب و فراز کے متعلق ایک دل نشین نکتہ ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

اذھبوا بقمیصی ھذا۔۔۔ آیت 93 مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ ترجمان القرآن میں لکھتے ہیں:  " جب بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کی ہلاکت کی خبر باپ کو سنائی تھی تو خون آلود کُرتا جا کر دکھایا تھا۔ اب وقت آیا کہ زندگی و وصال کی خوش خبری سنائی جائے تو اس کے لیے بھی کُرتے ہی نے نشانی کا کام دیا۔ وہی چیز جو کبھی فراق کا پیام لائی تھی اب وصال کی علامت بن گئی۔ "

گناہ سے پہلے توبہ کا منصوبہ بنانا : سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ فائدہ نمبر 10 میں لکھتے ہیں۔  " گناہ کرنے سے پہلے توبہ کا منصوبہ بنا لینا غلط ہے۔ ایسی توبہ فاسد ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کہے کہ چلو ہم گناہ کر لیں پھر توبہ کر لیں گے اور نیک بن جائیں گے یہ توبہ فاسدہ ہے۔ کیوں؟ إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿ ٨ ﴾ اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ ﴿ ٩ ﴾ ترجمہ: جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں ۔تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم نیک بن جانا ۔۔ ( سورۃ یوسف 12: آیت 8 تا 9) یہ توبہ اس لیے فاسد ہے کہ گناہ کرنے والے کو کیا معلوم کی ایک مرتبہ نیکی اور دین سے دور نکل جانے کے بعد ان کو دوبارہ واپسی نصیب ہو گی یا نہیں؟ شیطان بعض لوگوں سے یہی کہتا ہے کہ ا...

نیک کاموں کے لیے منتخب افراد ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

شیخ صالح المنجد لکھتے ہیں : " اس سورۃ سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے کسی نعمت کے لیے چن لیتا ہے۔ آپ غور کریں کہ کیسے اللہ نے آپ کو بے جان چیز کی بجائے انسان بنایا۔ سوچیے کہ کیسے اللہ سبحانہ وتعالی نے آپ کو کافر نہیں بنایا بلکہ مسلمان بنایا۔ مزید سوچیے کہ اللہ نے آپ کو کبیرہ گناہ کرنے والے مجرموں میں سے نہیں بنایا، یا اہل بدعت میں سے نہیں بنایا، اہل سنت میں سے بنایا۔ اگر آپ کبائر کا ارتکاب نہیں کرتے تو سوچیے کہ کیسے اللہ تعالی نے آپ کو اہل کبائر میں سے بنانے کی بجائے اہل استقامت میں سے بنایا، اللہ کے فرماں بردار اور دین داروںمیں سے بنایا۔ اگر آپ طالب علم ہیں تو اللہ نے آپ کو ایک اور نعمت کے لیے چنا ہے جو علم ہے۔ اگر آپ دین کی دعوت میں مصروف ہیں تو یہ اللہ کی جانب سے ایک اور انتخاب ہے۔ اس نے آپ کو صرف اہل علم میں سے نہیں بنایا بلکہ علم پھیلانے والوں میں سے بنا دیا۔ یہ اللہ عزوجل کے اپنے بندے کے لیے انتخاب ہیں۔ مزید کہتے ہیں : سورۃ یوسف سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے گھر سے اچھے بیٹے نکلتے ہیں۔ جیسا کہ آیت نمبر 6 میں ہے وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبّ...

سورۃ یوسف:حاصل مطالعہ

سورۃ   یوسف   قرآن   مجید کی 12 ویں سورۃ ہے۔ اس میں اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام کی سیرت   کے اہم واقعات ذکر ہیں جس میں ان کے بچپن، صالح جوانی، غریب الوطنی،غلامی کی بے بسی اور پھر دوراقتدار میں اختیارات کی آزمائشیں ذکر ہیں۔ ان تمام آزمائشوں میں وہ کس طرح اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے بتائے ہوئے دین پر ثابت قدم رہے، اس میں ہمارے لیے انتہائی قیمتی سبق   موجود ہیں ۔ یہاں وقتا فوقتا اس سورۃ سے حاصل ہونے والے اہم فوائد ذکر کیے جاتے رہیں گے۔ شیخ محمد صالح المنجد رحمہ اللہ نے " مائۃ فائدۃ من  سورۃ یوسف" میں  سیرتِ یوسفی (علیہ السلام) کا ایک خوب صورت خلاصہ بیان کیا ہے : " حضرت یوسف علیہ السلام نے صبر کی تین اقسام کی سعادت حاصل کی۔ 1- اللہ کی اطاعت پر صبر 2- اللہ کی نافرمانی سے صبر 3- اللہ کی تقدیر کی تکلیفوں پر صبر " اللہ ہم سب کو توفیق دے۔

مسئلہ مبارک اور نامبارک تصویر کا!

کل ایک مرد داعی کا سٹیٹس دیکھا جنہوں نے بڑے درد بھرے الفاظ میں بہنوں کو تصاویر شئیر کرنے سے منع کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی اپنی مبارک تصویر ساتھ ہی لگی تھی۔ مرد حضرات کچھ بھی کر لیں وہ نمونہ اسلام ہی رہتے ہیں۔ ان سے سوال کرنے والی ضرور فیمینسٹ ہوتی ہیں۔

خدا تک رسائی رکھنے کے دعوے دار ملا

دنیاوی خائن دنیاوی منصبوں پر قابض ہیں، دینی خائن دینی مسندوں کے لازمی مستحق ہیں، مسجد کا منبر خاندانی ورثہ ہے، شہادت گھر کی لونڈی ہے، مغفرت یقینی استحقاق ہے، جنت کا پلاٹ پیدائش سے پہلے ہی بک ہے۔ یہ رشوت، سفارش، دھونس، دھاندلی کے عادی ہیں وہ اللہ کے دین   میں تحریف وتاویل کے۔  نہ وہ ممبر پارلیمنٹ ہونے کے لیے کردار کے مقرر معیار پر پورے اترتے ہیں نہ اِن کو سیاست،شہادت وقیادت کی اسلامی شرائط کا کوئی پاس ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں تو ہر کسی کی انگلی دوسرے کی جانب کیوں اٹھی ہوئی ہے؟  خدا   تک رسائی کا دعوی رکھنے والے ملاؤں کے بارے میں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام تری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام ملائے حرم   از اقبال دین و دنیا   کے ایسے رہنماؤں کی وجہ سے ہی امت مسلمہ کی شب تاریک سحر ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ جو خود کو بدلنا نہ چاہتے ہوں ان کی دنیا میں کوئی انقلاب کیسے آئے گا؟

قرآ ن و حدیث میں تحریف جائز نہیں چاہے تبلیغ کی خاطر ہو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعض لوگوں میں تبلیغ کا جذبہ ہوتا ہے لیکن ضروری علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دلائل معلوم نہیں ہوتے۔ بجائے حصول علم کی صبر آزما مشقت کے وہ آسان راستہ منتخب کرتے ہیں۔ تبلیغ کے نیک مقصد کی خاطر جھوٹ بولنے، تحریف   کرنے کا راستہ۔ آپ کو ایسے بہت سے مذہبی افراد ملیں گے جو یہ معلوم  ہونے کے بعد بھی کہ ان کی بیان کی گئی روایت جھوٹی ہے اسے پھیلانے سے باز نہیں آتے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ چاہے جھوٹی روایت ہے لیکن لوگوں پر اثر بہت کرتی ہے۔ یہ تبلیغی تجارت ہے جو چیز عوام میں ہاتھوں ہاتھ بکے گی وہ اس کو ضرور بیچیں گے۔  تبلیغ کے اسی ناپختہ تصور کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ گئی کہ لوگ قرآنی آیات اور احادیث کی معنوی تحریف سے بھی باز نہیں آ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تبلیغ میں انوکھی باتیں کریں جو عوام نے ان سے پہلے کسی مبلغ سے نہ سنی ہوں۔ اسی دوڑ میں آیات و احادیث کا من مرضی کا ترجمہ   ہو رہا ہے۔کسی حدیث کا درست معنی کیا ہے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں۔  سنن ابی داود کی ایک حدیث شریف ہے: لَا يَقْبَلُ اللّہ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ۔ تر...

مسٹر جدیدالاسلام

نو مسلم کو فارسی میں جدیدالاسلام کہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی یتیم خانے یا مدرسے کا نام ہے جسے قربانی کی کھالیں دے کر ثواب دارین حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی کو نومسلم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے ایمان کی پختگی اور عبادات میں شدیدالعمل ہونے کی گواہی دی جا رہی ہے۔ مسٹر جدیدالاسلام کے بارے میں شبہ ہوتا ہے کہ فیشن کے طور پر اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ جونہی فیشن بدلا یہ اسلام سے باہر یا بیزار ہو جائیں گے۔ جدید ہونے کی وجہ سے ان کے بنیاد پرست یا جہاد پسند ہونے کا کوئی امکان نہیں۔   ( مختار مسعود: لوحِ ایام، ص 413 ) ​

بے آواز رسمِ اذاں

ساڑھے آٹھ بجے تو ایک صاحب نے اذان دی جو امریکہ سے تشریف لائے تھے۔ اذان کا وہی امریکی سٹائل جس میں آواز اس کمرے سے باہر نہیں نکلتی جہاں نماز کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہماری اذانیں روح بلالیؒ سے تو پورے عالمِ اسلام میں محروم ہو گئی ہیں دیارِ مغرب میں رسمِ اذاں "بے آواز" بھی ہے۔ ایسے میں مجھے ہمیشہ اپنا پیارا وطن یاد آتا ہے جہاں میناروں کے چاروں طرف نصب عظیم الجثہ لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے قریب واقع مساجد سے جب یکے بعد دیگرے یہ پکار شروع ہوتی ہے تو فضا میں آواز کی تندوتیز لہریں اس قدر ارتعاش پیدا کر دیتی ہیں کہ سننے والوں کے کانوں کے پردے پھٹنے کو آجائیں۔ سامعین کو اذان کا جواب دینے پر بڑے اجر کی نوید ہے لیکن چہارجانب سے چنگھاڑتی آوازیں یوں آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں تو اذان کے کلمات کو جدا جدا کر کے دہرانا یا جواب دینا ممکن ہی نہیں رہتا۔ اپنے یہاں اذان کا یہ بلند و بے ہنگم آہنگ اور وہاں یہ کمزوری و بے جانی, یعنی یہاں یہ شورا شوری اور وہاں وہ بے نمکی! خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں ! ( مشرق کے مسکین اور مغرب  زبان یار من ترکی از اقتدار احمد، باب)

مستند اسمائے حسنی

بعض نام جو اسماءاللہ الحسنی میں سے نہیں لیکن عام طور پر انہیں اسمائے حسنی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔  ہم اللہ کو انہی ناموں سے پکارتے ہیں جو اس نے خود ذکر کیے ہیں  درست اسمائے حسنی ہیں: المعطی ، الستیر، الجبار، النصیر ۔ جب کہ جونام ثابت نہیں وہ ہیں: العاطی، الستار، الجابر، الناصر نسمي الله بماسمى به نفسه وممالم يثبت العاطي وثبت المعطي ولم يثبت الستار وثبت الستير ولم يثبت الجابر وثبت الجبار ولم يثبت الناصر وثبت النصير   بشکریہ شیخ محمد صالح المنجد اردو ترجمہ: عائشہ بشیر

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

کل ایک بہت عزیز بہن نے سوال کیا کہ جزاک اللہ خیرا کا کیا جواب ہے اور کیا اس کے جواب میں وایاک   کہنا بدعت   ہے؟  یوں تو اس کے کافی دلائل ہیں لیکن جلدی میں اس کے کچھ دلائل یہاں ربط سمیت فراہم کر رہی ہوں ۔سوال کرنے والی بہن سے معذرت کہ تمام فتاوی کا اردو ترجمہ مصروفیت کی وجہ سے ممکن نہیں۔  ڈاکٹر عبدالمحسن بن حمد العباد کا فتوی " جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنے میں کوئی حرج نہیں اس کا مطلب ہے آپ کو بھی اللہ جزا دے۔ یہ درست بات ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ " حوالہ :   http://ar.islamway.net/fatwa/33045/ حكم-قول-وإياك-للقائل-جزاك-الله-خيرا شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ السحیم کا تفصیلی فتوی جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ وایاک کہنا بدعت نہیں۔ http://www.almeshkat.net/vb/showthread.php?t=137692 مزید:   http://majles.alukah.net/t109856/

رمضان میں خواتین عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  ہر سال رمضان میں  یہ سوال سامنے آتا ہے کہ: "خواتین رمضان میں عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟" پہلے  یہ سوچ لیا جائے کہ کیا کرنا ہے پھر وقت کا حساب لگا کر جدول بنا لیا جائے ۔ جب آپ کسی کام کا وقت مقرر کر لیتے ہیں اور پورے عزم سے عمل کرتے ہیں تو وہ  بآسانی ہو جاتا ہے ۔ رمضان میں باقی معمولات وہیں رہتے ہیں صرف دن میں روزہ اور رات میں قیام اللیل کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر لڑکیاں روزہ تو رکھتی ہیں لیکن نجانے کیوں قیام اللیل کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔   میرے خیال میں رمضان میں خواتین کو صرف دو گھنٹے عبادت کے لیے نکالنے ہیں ۔  جیسا کہ پہلے گزر چکا، رمضان کی اہم ترین عبادت ہے  روزہ  اور قیام اللیل ، جو اس کو ایمان واجر کی امید کے ساتھ کرے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، اور روزے کے اجر کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہے کہ وہ صرف میرے لیے ہے تو اس کی جزا بھی میں دوں گا جو اللہ سبحانہ و تعالی کی شان کے مطابق ہو گی ۔ 1- روزہ :  روزہ صرف اللہ کو معلوم ہے کہ آپ کا روزہ ہے ۔ اسی لیے اس کا اجر بھی اللہ تعالی ...