اشاعتیں

تحقیق لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

یہ تاجران دین ہیں

عجیب بات ہے کہ طاہر اسلام عسکری کذاب جیسے لوگ جو خود اپناعقیدہ نہیں جانتے، کبھی رافضیت کی طرف لڑھک جاتے ہیں، کبھی اعتزال کا چغہ پہن لیتے ہیں اور کبھی صرف جاہ پرستی شروع کر دیتے ہیں، آج محدث فورم پر بیٹھ کر دوسروں کا عقیدہ بتانے لگے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے نام پر چندے بٹور کر ادارے بناتے ہیں پھر اس میں بیٹھ کر لوگوں کی عزت اچھالتے ہیں، اپنی سماجی حیثیت کے زعم میں خاموشی سے کام کرنے والوں  کو پریشان کرتے ہیں، اللہ کی خاطر کام کرنے والوں کے دل پر کیا گزرتی ہے اتنا سوچنے کا ایسے مردہ دل ، بے حس لوگوں کے پاس وقت نہیں۔ یہ بے ضمیر مُلا ذاتیات کی خاطر انسانوں کے عقائد اور دین پر حملہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی غیر مشروط اطاعت کی جائے؟  یہ تاجرانِ دِین ہیں  خدا کے گھر مکین ہیں  ہر اِک خدا کے گھر پہ اِن کو اپنا نام چاہیے خدا کے نام کے عوض کُل انتظام چاہیے یہ نفس کے اسِیر ہیں  یہ لوگ بے ضمِیر ہیں ان جیسے بے ضمیروں کی وجہ سے  جو بھی ہو،اس بات سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کی تجارت چلتی رہے بہت ہے۔  یہ بات واضح ہو ...

داڑھی جراثیم اور عفونت سے محفوظ رکھتی ہے

بی بی سی کے ایک حالیہ کالم کی وجہ سے صحافتی دنیا میں 2014 کی ایک   تحقیق زیر بحث آ گئی ہے جس کے مطابق داڑھی  چہرے کی جلد کو جراثیم  اور عفونت( انفیکشن) سے محفوظ رکھتی ہے۔ ایم آر ایس اے نامی ایک بیکٹیریا جو ادویات کے خلاف مزاحمت کی طاقت رکھتا ہے ان افراد کے چہروں پر تین گنا زیادہ پایا گیا جو داڑھی منڈواتے ہیں، اس طرح ان کے زخموں میں عفونت کا خطرہ بڑھا جاتا ہے۔  اس بیکٹریا کے نتیجے میں ہڈیوں، جوڑوں، پیشاب کی نالی، دوران خون، دل کے والو اور پھیپھڑوںں میں جان لیوا عفونت  ہو سکتی ہے۔ یہ بیکٹیریا عموما شفا خانوں میں کام کرنے والوں میں پایا گیا۔    محققین نے یہ نتیجہ ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ملازمین پر تحقیق سے نکالا جن میں داڑھی اور بنا داڑھی ولے لوگ شامل تھے۔ تحقیق کا حوالہ اور خلاصہ :   http://www.ncbi.nlm.nih.gov/pubmed/24746610 http://www.bbc.com/news/magazine-35350886 http://www.sciencealert.com/bearded-men-are-probably-more-hygienic-new-research-finds http://www.independent.co.uk/news/s...ic-bacteria-resistant-than-shaven-skin-stud...

اقبال کے نام پر

چند دن قبل اقبال   کے نام پر چلنے والے ایک بین الاقوامی "تحقیقی" ادارے کی لائبریری میں جانے کا اتفاق ہوا۔ استقبالیہ پر کلام اقبال کے  نیلے پیلے فریم لگے دیکھے۔ ایک شعر   یوں رقم تھا : حسنِ کردار سے نورِ مجسم ہو جا کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہو جائے ​ کونے میں شاعر کا نام انگریزی میں علامہ اقبال درج تھا گویا شعر کو اردو   میں درج کرنے سے ادارے کی بین الاقوامی شان میں جو کمی آئی تھی اسے لاطینی حروف کے بگھار سے مٹایا گیا ہو۔ کسی تحقیقی ادارے کا استقبالیہ ایسی جگہ ہے جہاں روزانہ  آنے والے محققین کی نظر لازما پڑتی ہو گی۔ اس ایک فریم کو دیکھ کر ادارے کی حالت زار کا اجمالی  اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ اگر سوشل میڈیا پر اس طرح کے اشعار اقبال کے ہیش ٹیگ یا ہینڈل کے ساتھ شئیر ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ عوام کی علمی حالت کا سب کو اندازہ ہے لیکن یہ کسی المیے سے کم نہیں کہ ایک آزاد ملک میں اقبال کے نام پر بننے اور امداد لینے والے تحقیقی اداروں میں بھی کلام اقبال سے یہ سلوک کرنے کی آزادی ہو، جب کہ شہر میں اہل علم کا کوئی قحط نہیں۔ ...

چاکلیٹ بمقابلہ غیرت ایمان یا علم بمقابلہ جہل

بسم اللہ الرحمن الرحیم  ​ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  گزشتہ چند ہفتوں سے خبر گردش میں ہے کہ ملائیشیا میں کیڈ بری کمپنی کی ڈیری ملک نامی چاکلیٹ بار میں حرام اجزا پائے گئے ہیں ۔ اس خبر کے بعد ملائیشیا ایک بڑے سٹور نے جس کی ملائیشیا میں پانچ سو سے زیادہ شاخیں ہیں ، اپنے سٹورز پر ڈیری ملک چاکلیٹ رکھنا منع کر کے عوام سے  بائیکاٹ کی درخواست کر دی ۔  اس سارے معاملے کے بعد ملائشیا کی اسلامی اتھارٹی Jakim نے ڈیری ملک چاکلیٹ کے نمونے جمع کر کے ٹیسٹ کروائے اور جون کی ابتدا میں اعلان کیا کہ ان میں کوئی حرام جزء نہیں پایا گیا ۔  Malaysia's Department of Islamic Development, or JAKIM, reportedly said in a statement that they tested 11 samples of Cadbury Dairy Milk Hazelnut, Cadbury Dairy Milk Roast Almond and other products from the company's factory but none of them tested positive for pork. ملائشیا میں یہ تنازعہ جاری تھا جب سعودی حکام نے بھی وضاحت کی کہ ان کے ملک میں بکنے والی ڈیری ملک چاکلیٹ بار ملائشیا سے بن کر نہیں آتی بلکہ برطانیہ سےدرآمد...

استشراق کے متعلق اقبال کے تاثرات

پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ   مشہور مستشرق اور فلسفے میں اقبال   کے استاد تھے ۔ سید نذیر نیازی   نے ایک جگہ آرنلڈ کی وفات کے بعد ہونے والی گفتگو کا یوں ذکر کیا ہے : " ۱۷ کی صبح کو میں لاہور پہنچا ۔ حضرت علامہ ایک طرح سے منتظر ہی تھے ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو اول ڈاکٹر انصاری مرحوم اور غازی موصوف کی خیریت مزاج دریافت کرتے رہے ، پھر احباب جامعہ بالخصوص ذاکر صاحب، عابد صاحب اور مجیب صاحب کا پوچھا ۔ باتوں باتوں میں ترکوں اور ترکی سیاست کا ذکر آ گیا اور پھر اس سلسلے میں نہ معلوم کس طرح اس روز کے اخبار کا ۔ میں نے عرض کیا آرنلڈ کاتو آپ نے سن ہی لیا ہو گا۔ متعجب ہو کر فرمایا: کیا؟ میں نے کہا صبح کے اخبار میں ان کے انتقال کی ۔۔۔ بس اتنا کہنا تھا کہ حضرت علامہ کی آنکھیں اشکبا ر ہو گئیں اور پھر سر جھکا کر چند لمحے خوب روئے ۔ یوں ان کے دل کا بخار ہلکا ہوا تو فرمایا : Iqbal has lost his friend and teacher. اقبال اپنے استاد اور دوست سے محروم ہو گیا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اتنے گہرے روابط اور تعلقِ خاطر کے باوجود جب میں نے آرنلڈ کے مرتبہء استشراق   اور اسلام...