اشاعتیں

سیرت لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سورۃ یوسف:حاصل مطالعہ

سورۃ   یوسف   قرآن   مجید کی 12 ویں سورۃ ہے۔ اس میں اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام کی سیرت   کے اہم واقعات ذکر ہیں جس میں ان کے بچپن، صالح جوانی، غریب الوطنی،غلامی کی بے بسی اور پھر دوراقتدار میں اختیارات کی آزمائشیں ذکر ہیں۔ ان تمام آزمائشوں میں وہ کس طرح اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے بتائے ہوئے دین پر ثابت قدم رہے، اس میں ہمارے لیے انتہائی قیمتی سبق   موجود ہیں ۔ یہاں وقتا فوقتا اس سورۃ سے حاصل ہونے والے اہم فوائد ذکر کیے جاتے رہیں گے۔ شیخ محمد صالح المنجد رحمہ اللہ نے " مائۃ فائدۃ من  سورۃ یوسف" میں  سیرتِ یوسفی (علیہ السلام) کا ایک خوب صورت خلاصہ بیان کیا ہے : " حضرت یوسف علیہ السلام نے صبر کی تین اقسام کی سعادت حاصل کی۔ 1- اللہ کی اطاعت پر صبر 2- اللہ کی نافرمانی سے صبر 3- اللہ کی تقدیر کی تکلیفوں پر صبر " اللہ ہم سب کو توفیق دے۔

آخری آرزو​

آخری آرزو ​ شورش کاشمیری بپاسِ خاطرِ احباب کس عنوان پر لکھوں؟ کہاں تک داستانِ دردِ دل، دردِ جگر لکھوں ؟ بہت دن گم شدہ یادوں کا میں نے تذکرہ لکھا کہاں تک نظم میں افسانہ ء شام و سحر لکھوں؟ مقدر کا نوشتہ تھا دل مرحوم کا ماتم اب اس پر اور کیا بارِ دِگر، بارِ دِگر لکھوں؟ خطابت کے بہت سے معرکے سر کر لیے میں نے  سیاسی تذکرے کب تک قلم کو توڑ کر لکھوں ؟ بحمداللہ قصائد کی زباں آتی نہیں مجھ کو  عزیزانِ گرامی قدر عرضِ مختصر لکھوں؟ بس اتنی آرزو ہے عمر کی اس آخری رو میں  خدا توفیق دے تو سیرتِ خیرالبشرﷺ لکھوں

نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی پر اعتراضات کا جواب

بسم اللہ الرحمن الرحيم  نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی اور خانگی زندگی کے متعلق غلط فہمیوں اور اعتراضات کا ایک  شافی جواب مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے دیا ہے۔ ذیل میں  الرحیق المختوم کا باب خانہ نبوت پیش کیا جا رہا ہے تاکہ طلبہ علم کے کام آ سکے۔ یاد رہے کہ یہ باب اس سے پہلے یونی کوڈ میں انٹرنیٹ پر موجود نہیں تھا۔  خانہء نبوت ​ 1- ہجرت سے قبل مكہ ميں نبي صلى اللہ عليہ وسلم كا گھرانہ آپ اور آپ كى بيوى حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا پر مشتمل تھا۔ شادى كے وقت آپ كى عمر پچیس سال تھی اور حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا كى عمر چاليس سال۔ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا آپ كى پہلى بيوى تھیں اور ان كے جيتے جی آپ نے كوئى اور شادى نہیں كى ۔ آپ كى اولاد ميں سے حضرت ابراہیم كے سوا تمام صاحبزادے اور صاحبزادياں ان ہی حضرت خديجہ کے بطن سے تھیں۔ صاحبزادگان ميں سے تو كوئى زندہ نہ بچا البتہ صاحبزادياں حيات رہیں ۔ ان كے نام يہ ہیں ۔ زينب، رقيہ، ام كلثوم، اور فاطمہ ۔ زينب كى شادى ہجرت سے پہلے ان كے پھوپھی زاد بھائى حضرت ابو العاص بن ربيع سے ہوئى۔ رقيہ اور ام كلثوم ...