اشاعتیں

سلیم کوثر لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سارے لفظوں میں ایک لفظ یکتا بہت اور پیارا بہت

سارے لفظوں میں ایک لفظ یکتا بہت اور پیارا بہت سارے ناموں میں اک نام ﷺ سوہنا بہت اور ہمارا بہت اس کی شاخوں پہ آ کر زمانوں کے موسم بسیرا کریں اک شجر ﷺ جس کے دامن کا سایا بہت اور گھنیرا بہت ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں اس زمیں آسماں کی حدیں ایک آواز دیتی ہے پہرا بہت اور گہرا بہت  جس دیے کی توانائی ارض و سما کی حرارت بنی اس دیے ﷺ کا ہمیں بھی حوالہ بہت اور اجالا بہت میری بینائی اور مرے ذہن سے محو ہوتا نہیں میں نے روئے محمد ﷺ کو سوچا بہت اور چاہا بہت  میرے ہاتھوں اور ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں  میں نے اسم محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت  شاعر: سلیمؔ کوثر

تم آنچل کو لہرا دینا

انتساب: اپنی بیٹیوں اور سارى دنيا كى نئى نسل كے نام  از : سليم كوثر  وہ سارے سمے جو بيت گئے  كيا ہار گئے كيا جيت گئے جتنے دكھ سكھ كے ريلے تھے ہم سب نے مل كر جھيلے تھے اب شايد كچھ بھی ياد نہیں  كبھی وقت ملا تو سوچیں گے آپس كے پيار گھروندوں كو  گڑیوں كے کھیل كھلونوں كو  گیتوں سے مہكتى كيارى كو  آنگن کے پھل پھلوارى كو  دھرتى پر امن كى خواہش كو  موسم كى پہلى بارش كو  كن ہاتھوں نے بے حال كيا  كن قدموں سے پامال ہوئے وہ سارے سمے جو بيت گئے  مل جل كر كتنے سال ہوئے  يہ سال مہینے دن گھڑیاں ہم سب سے آگے نكل گئے ہم جيون رتھ ميں جڑے ہوئے كبھی سنبھل گئے کبھی پھسل گئے دامن ميں صبر كى مايا ہے  کچھ آس اميد كى چھايا ہے  ہر راہ ميں كانٹے پڑے ہوئے  ہر موڑ پہ دکھ ہیں کھڑے ہوئے تم بڑے ہوئے ، تم بڑے ہوئے  اب لورى پاس نہیں رہتی  تمہیں نيند كى آس نہیں رہتی ميرى بات سنو ،  ميرى بات سنو  جب ہاں انكار ميں لپٹی ہو تصوير غبار ميں لپٹی ہو کہیں رشتے ٹوٹنے والے ہوں یا اپنے چھوٹنے والے...