اشاعتیں

مظفر وارثی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

چلے نہ اِیمان اک قدم بھی اگر ترا ہم سفر نہ ٹھہرے

چلے نہ اِیمان اک قدم بھی اگر ترا ﷺ ہم سفر نہ ٹھہرے تِرا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے حقیقتِ بندگی کی راہیں مدینہ طیبہ سے گزریں  ملے نہ اس شخص کو خدا بھی جو تیریؐ دہلیز پر نہ ٹھہرے کھلی ہوں آنکھیں کہ نیند والی ، نہ جائے کوئی بھی سانس خالی درود جاری رہے لبوں پر ، یہ سلسِلہ لمحہ بھر نہ ٹھہرے میں تجھؐ کو چاہوں اور اتنا چاہوں کہ سب کہیں تیراؐ نقشِ پا ہوں  ترے نشانِ قدم کے آگے کوئی حسِیں رہگزر نہ ٹھہرے یہ میرے آنسُو خِراج میرا ، مِرا تڑپنا عِلاج میرا َمَرَض مِرا اُس مَقام پر ہے جہاں کوئی چارہ گر نہ ٹھہرے شاعر: مظفرؔ وارثی 

اتنی خاموشی بھی اچھی نہیں ہے لوگو

یوں اک پل مت سوچ کہ اب کیا ہو سکتا ہے اک لمحے کی اوٹ بھی فردا ہو سکتا ہے ان آنکھوں کے اندر بھی درکار ہیں آنکھیں چہرے کے پیچھے بھی چہرہ ہو سکتا ہے کچھ رُوحیں بھی چلتی ہیں بیساکھی لے کر آدھا شخص بھی پُورے قد کا ہو سکتا ہے کاندھے کَڑیَل کے ہوں اور گٹھڑی بڑھیا کی بوجھ اٹھا کر بھی جی ہلکا ہو سکتا ہے مُجھ سے مِل کر بھی وہ میرا حال نہ پوچھے ساون بھی کیا اتنا سُوکھا ہو سکتا ہے ؟ اتنی خاموشی بھی اچھی نہیں ہے لوگو۔۔۔ سنّاٹوں سے بھی ہنگامہ ہو سکتا ہے اس دنیا میں ناممکن کچھ نہیں مظفر ؔ دودھ بھی کالا شہد بھی کڑوا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ مظفرؔ وارثی ۔۔۔۔۔۔

ورفعنا لک ذکرک

تصویر
تیرے تیور، میرا زیور تیری خوشبو، میری ساغر تیرا شیوہ، میرا مسلک ورفعنا لک ذکرک میری منزل، تیری آہٹ میرا سدرہ ، تیری چوکھٹ تیرا صحرا، میرا پنگھٹ ورفعنا لک ذکرک میں ازل سے تیرا پیاسا نہ ہو خالی میرا کاسہ تیرے صدقے تیرا بالک ورفعنا لک ذکرک تیرے دم سے دل بِینا کبھی کعبہ کبھی سِینا نہ ہو کیوں پھر تیری خاطر... میرا مرنا، میرا جینا ؟ ورفعنا لک ذکرک ***** مظفر وارثی