اشاعتیں

ابوالکلام آزاد لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:  قَالُوا إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَاللَّ ـ هُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ آیت 77 ترجمہ: بھائیوں نے کہا: "اگر اس نے چوری کی تو یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ اس سے پہلے اس کا (حقیقی) بھائی بھی چوری کر چکا ہے"۔ تب یوسف نے (جس کے سامنے اب معاملہ پیش آیا تھا) یہ بات اپنے دل میں رکھ لی۔ ان پر ظاہر نہ کی (کہ میرے منہ پر مجھے چور بنا رہے ہو) اور (صرف اتنا) کہا کہ "سب سے بری جگہ تمہاری ہوئی ( کہ اپنے بھائی پر جھوٹا الزام لگا رہے ہو) اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ اسے بہتر جاننے والا ہے۔(آیت 77) تفسیر: جھوٹوں کا قاعدہ ہے کوئی موقع کوئی بات ہو جھوٹ بولنے سے نہیں رکتے۔ اگر مدح کا موقع ہو تو جھوٹی مدح کر دیں گے۔ مذمت کا موقع ہو تو کوئی جھوٹا الزام لگا دیں گے۔  جب بن یمین کی خرجی میں سے پیالہ نکل آیا تو بھائیوں کا سوتیلے پن کا حسد جوش میں آ گیا۔ جھٹ میں بول اٹھے۔ اگر اس  نے چوری کی تو کوئی عجیب بات نہیں۔ اس کا بھائی یوسف بھ...

زندگی کے نشیب و فراز کے متعلق ایک دل نشین نکتہ ۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

اذھبوا بقمیصی ھذا۔۔۔ آیت 93 مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ ترجمان القرآن میں لکھتے ہیں:  " جب بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کی ہلاکت کی خبر باپ کو سنائی تھی تو خون آلود کُرتا جا کر دکھایا تھا۔ اب وقت آیا کہ زندگی و وصال کی خوش خبری سنائی جائے تو اس کے لیے بھی کُرتے ہی نے نشانی کا کام دیا۔ وہی چیز جو کبھی فراق کا پیام لائی تھی اب وصال کی علامت بن گئی۔ "

صحابہ کرام : وارثین کتاب میں صف اول کے لوگ

صحابہ کرام : وارثین کتاب میں صف اول کے لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم ​ سورۃ فاطر میں اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :  وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّ ـ هَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ‌ بَصِيرٌ‌ ﴿ ٣١ ﴾ ثُمَّ أَوْرَ‌ثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ   ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ   وَمِنْهُم   مُّقْتَصِدٌ   وَمِنْهُمْ   سَابِقٌ بِالْخَيْرَ‌اتِ   بِإِذْنِ اللَّ ـ هِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ‌ ﴿ ٣٢ ﴾ ترجمہ : ’’جو کتاب ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجی ہے وہ سراسر برحق ہے ۔ وہ اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ، بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں کے حال سے باخبر اور دیکھنے والا ہے ۔ ( ۳۲ ) (پھر پچھلی قوموں کے بعد) ہم نے اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو کتاب الہی (قرآن) کا وارث ٹھہرایا جنہیں ہم نے اپنی خدمت کے لیے اختیار کر لیا (یعنی مسلمانوں کو ) پس ان میں سے  ایک گروہ تو ان کا ہے جو اپنے نفوس پر ترک اعمالِ حسنہ و ارتکاب معاص...