اشاعتیں

مرد لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ماؤں بہنوں کی عزت کے رکھوالے

ایمان داری سے تجزیہ کریں تو مجھے پاکستان کے دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسند رہنماؤں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ دونوں طرف خواتین کی تصاویر کو نازیبا انداز میں ایڈٹ کر کے سیاسی جلن نکالنے والے موجود ہیں۔ دونوں طرف کے لوگ مرد رہنماؤں کے ہر قسم کے سکینڈل ان کی سماجی حیثیت کے سبب دبا دیتے ہیں جب کہ خواتین کے انتہائی ذاتی معاملات میں ناک گھسیڑنا اور ان کو کردار کی سند جاری کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایک زمانے میں دائیں بازو والوں نے  ایک ذہین اور باصلاحیت خاتون رہنما کی عزت پر اس لیے حملے کیے کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی جائز نہیں، کچھ دہائیوں بعد اسی دائیں بازو کی خواتین ایوان نمائندگان میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر بھی نظر آئیں اور کونسلرز کے انتخابات بھی لڑتی نظر آئیں۔ ایک جماعت کے رہنما کی ہر بیوی کے متعلق دائیں بازو کی اسلامی صحافت اور اسلامی سیاست نے جس انداز میں خبریں پھیلائیں، اس کو دیکھ کر بڑے بڑے اسلام پسند ان کی حمایت سے تائب ہو گئے۔ بائیں بازو کے   روشن خیالوں کے دھرنے اور جلسے میں ماؤں بہنوں سے جو سلوک ہوا وہ الگ،خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کا حسن اخلاق...

فحاشی کی پرزور مذمت میں مصروف گفتار کے غازی

آپ سوشل میڈیا پر موجود ہوں اور عامیانہ زبان سے واسطہ نہ پڑے ممکن نہیں۔ لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب فحاشی کی مذمت کرنے والے مومن حضرات کی زبان بگڑتی ہے۔ پہلے یہ تاک تاک کر آزاد خیال خواتین کے بیانات (اس میں ان کی وڈیو سے بھی کوئی پرہیز نہیں) ڈھونڈتے ہیں، پھر ان کی مذمت کے لیے وہ وہ فحش الفاظ، اور عریاں جملے (سمیت ماں بہن کی گالیوں کے) ڈھونڈ کر لاتے ہیں کہ فحاشی کا باپ بھی شرما جائے۔ روشن خیالوں کے دیدوں کا پانی تو اعلانیہ مر چکا  ہے، ان خضر صورت شرفا کی زبان کو کیا ہوا ہے یہ کوئی معمہ نہیں۔ کیا اسلام کا پہلا رکن یہ ہے کہ فحاشی کو ہر کونے کھدرے میں ڈھونڈا جائے پھر اس کی مذمت میں دن رات ایک کر دیے جائیں؟ سب سے خطرناک معاملہ یہ ہے کہ دوسروں کے اخلاقی زوال پر انگلیاں اٹھاتے ہمیں یہ غور کرنے کا موقع نہیں مل رہا کہ دائیں بازو کے شعلہ بیان مقرر، جوش خطابت میں کیا بول گئے ہیں؟ کہیں یہ اس بات کی علامت تو نہیں کہ بے حیائی کے جراثیم خود آپ کے دماغ تک کام دکھا چکے ہیں۔ جب انسان فحاشی کی مذمت میں بھی ماں بہن کو یاد کرتا ہوا پایا جائے، چاہے اپنی ی...

مسئلہ مبارک اور نامبارک تصویر کا!

کل ایک مرد داعی کا سٹیٹس دیکھا جنہوں نے بڑے درد بھرے الفاظ میں بہنوں کو تصاویر شئیر کرنے سے منع کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی اپنی مبارک تصویر ساتھ ہی لگی تھی۔ مرد حضرات کچھ بھی کر لیں وہ نمونہ اسلام ہی رہتے ہیں۔ ان سے سوال کرنے والی ضرور فیمینسٹ ہوتی ہیں۔

داڑھی جراثیم اور عفونت سے محفوظ رکھتی ہے

بی بی سی کے ایک حالیہ کالم کی وجہ سے صحافتی دنیا میں 2014 کی ایک   تحقیق زیر بحث آ گئی ہے جس کے مطابق داڑھی  چہرے کی جلد کو جراثیم  اور عفونت( انفیکشن) سے محفوظ رکھتی ہے۔ ایم آر ایس اے نامی ایک بیکٹیریا جو ادویات کے خلاف مزاحمت کی طاقت رکھتا ہے ان افراد کے چہروں پر تین گنا زیادہ پایا گیا جو داڑھی منڈواتے ہیں، اس طرح ان کے زخموں میں عفونت کا خطرہ بڑھا جاتا ہے۔  اس بیکٹریا کے نتیجے میں ہڈیوں، جوڑوں، پیشاب کی نالی، دوران خون، دل کے والو اور پھیپھڑوںں میں جان لیوا عفونت  ہو سکتی ہے۔ یہ بیکٹیریا عموما شفا خانوں میں کام کرنے والوں میں پایا گیا۔    محققین نے یہ نتیجہ ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ملازمین پر تحقیق سے نکالا جن میں داڑھی اور بنا داڑھی ولے لوگ شامل تھے۔ تحقیق کا حوالہ اور خلاصہ :   http://www.ncbi.nlm.nih.gov/pubmed/24746610 http://www.bbc.com/news/magazine-35350886 http://www.sciencealert.com/bearded-men-are-probably-more-hygienic-new-research-finds http://www.independent.co.uk/news/s...ic-bacteria-resistant-than-shaven-skin-stud...

اپنی بیوی کو کبھی گاڑی چلانا مت سکھانا ۔ جنید جمشید کی تبلیغ

ہمارے ملک کے معروف مبلغ حضرت جنید جمشید   صاحب بتاتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے حسن کی وجہ سے کتنا ان سیکیور محسوس کرتے تھے کہ کہیں۔۔۔ اس لیے انہوں نے اپنی بیوی کو کبھی ڈرائیونگ نہیں سکھائی۔ ان کا کہنا ہے کہ "  کوئی بھی مرد جو یہ دیکھ رہا ہے اس کو وہ کہیں گے اپنی زندگی پر تمہارا احسان ہو گا کہ اپنی بیوی کو کبھی ڈرائیونگ کرنا مت سکھانا کیوں کہ جس عورت   کو بہت زیادہ گھر سے باہر نکلنے کی عادت پڑ جائے اس کو گھر بیٹھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ " یاد رہے کہ حضرت نے اپنی ذاتی زندگی اور اپنی نفسیاتی کیفیت کے متعلق یہ باتیں خود کھلے عام ذرائع ابلاغ پر شئیر کی ہیں اور کسی کی حسین بیوی کو بے تکلفانہ انٹرویو دیتے ہوئے شئیر کی ہیں جسے وہ بہت آرام سے تم کہہ کر مخاطب ہیں۔  اگر وہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرتے جو اپنے لیے کرتے ہیں تو یہ انٹرویو کسی مرد کو دینا پسند کرتے ۔ بجائے اس کے کہ جنید جمشید صاحب ایک مسلم مبلغ کی طرح عورت کے گھر سے نکلنے کے بارے میں اسلام   کے قوانین کو معیار بناتے انہوں نے اپنی ذاتی نفسیاتی کیفیت کو معیار بنا کر فیصلہ کیا کہ اپنی بیوی کو گھر سے با...

مرد مسلمان کا ذوق نظر

 سنا کرتے تھے کہ بھلے زمانوں کے مسلمان مرد   کسی کافرعورت   کو بھی مصیبت میں دیکھتے تو اس کو چادر   سے ڈھانپ دیتے تھے۔ اب  مرد مسلم   نے بہت ترقی کر لی ہے۔ ٹی وی، موبائل، کمپیوٹر، ٹیبلٹ کی رنگین سکرینوں پر ہر قسم کی عورت   دیکھنے کو میسر ہے، کالی ، گوری، زرد، موٹی، پتلی، لمبی، ٹھگنی، لیکن پھر بھی اس کا نظربازی کا شوق پورا ہو کر نہیں دے رہا۔ فلمی اداکارہ اور عام عورت کی تمیز مٹ گئی ہے۔ مسلم   ممالک میں کسی دھماکے کے بعد پریشان حال زخمی عوتوں کی  تصویریں ہوں یا کالج کی معصوم لڑکیوں کا گروپ فوٹو، ہر عمر ہر نسل کی صنف مخالف مسلم نوجوانوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔ ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے انہوں نے تصویر   بنوائی کیوں؟ یہ  خیال شاید ہی آئے کہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے جہاں اپنی نظروں کا حساب دینا ہے صنف مخالف کےلباس   کا نہیں۔ آج کل برما   (اراکان) کی آفت زدہ، اور بے حال خواتین کی نیم برہنہ   وڈیوز بہت تیزی سے شئیر ہو رہی ہیں۔ یہ مظلوم کی حمایت کا نیا انداز ہے۔ سچ ہےہوس   بڑھتی جا...

میری تصویر شئیر کرنا حلال، تمہاری تصویر شئیر کرنا حرام

جب سے ہمارے مرد   داعیانِ اسلام کے نزدیک کیمرے والی (اور اب تو ہر قسم کی۔۔۔ یقین نہ آئے تو قرآنک السٹریشنز دیکھ لیں ) تصویر  حلال ہوئی ہے وہ اپنی ہر تیسری سٹیٹس  اپ ڈیٹ ،ٹویٹ، بلاگ پوسٹ وغیرہ میں  تازہ تصویر بھی شامل فرما دیتے ہیں، ان کے فین اسے شئیر فرما کر ثواب دارین حاصل فرماتے ہیں۔ بھائیوں کو نیکی کی راہوں میں آگے نکلتے دیکھ کر بہنیں بھی ان کی اقتدا میں باپردہ تصویریں شئیر کرنے لگیں ۔ تب داعیانِ اسلام نے اجتہاد کیا نتیجہ یہ نکلا کہ :" میری تصویر شئیر کرنا حلال اور تمہاری تصویر شئیر کرنا حرام! " بازیچہء اطفال ہے دنیا مرے آگے!

ہم نے رمضان کے ساتھ کیا کیا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ماہ رمضان نصف گز ر چکا آئیے آج دو گھڑیوں کو اپنا محاسبہ کریں اللہ کے کرم سے ہماری زندگی میں ایک بار پھر ایمان کی بہار کا یہ مہینہ آیا جنت   کے دروازے کھل گئے ، جہنم کے دروازے بند ہو گئے عاجز و حقیر بندوں کے ہر عمل کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھا دیا گیا ، لیکن ہم نے اس قیمتی وقت کی کیا قدر کی؟ ہم نے اس مبارک رمضان کے ساتھ کیا کیا؟ ہمارے ہاتھ روایتی دعاؤں کے لیے اٹھے ضرور لیکن ہم نے اللہ کی مخلوق سے مانگنا نہ چھوڑا ہم گھروالوں کے لیے نوع بہ نوع کھانے لاتے بناتے رہے لیکن ان کو بروقت نماز کی تلقین نہ کی؟ کتنے ہی گھر ہیں جہاں مسجدوں کی اذان پہنچتی رہی لیکن مرد باجماعت نماز کے لیے گھروں سے نہ نکلے اللہ کے فرائض سے غافل رہ کر نصف رمضان گزر گیا؟ قرآن کے مہینے میں ہم نے قرآن کو کتنا وقت دیا؟ ہم نے قرآن ختم کرنے کے من گھڑت شارٹ کٹ تو بہت شئیر کیے ، خود کتنا قرآن سمجھ کر پڑھا ؟ ہم جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں پر قیام اللیل میں ور...

مرد مسلمان کا ذوق سماعت

سماجی ذرائع ابلاغ میں دین اسلام کے متعلق مطالعے اور علم کی کمی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ بعض بظاہر دین دار لوگ اس آسان سے سوال کا جواب بھی نہیں جانتے کہ کیا عورت کی آواز  مطلقا پردہ ہے؟ صنف مخالف سے  نامناسب گفتگو مرد ہو یا عورت، سب کے لیے ممنوع ہے لیکن کچھ مردوں کے اسلام میں اپنے لیے ہر چیز حلال ہوتی ہے البتہ خواتین کو ان کی حدود بتانا ان کا مذہبی فریضہ ہوتا ہے۔  سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ  مرد، عورت کے لیے آواز کے پردے کی بہت تشریحات کرتے ہیں لیکن خود رنگین سکرینوں پر سجی بنی عورتوں کی آوازیں ذوق و شوق سے سنتے وقت انہیں یاد نہیں آتا کہ اس عورت کی آواز کا ان سے پردہ ہے ؟ مارننگ شوز، اشتہارات، خبریں ، فونز میں ریکارڈڈ مسیجز ہر چیز میں اسی عورت کی آواز بے پردہ ہے اور مرد مسلمان کے ذوق سماعت کی خوب خوب تسکین ہو رہی ہے! مجھے معلوم نہیں مسلمان مردوں کے ذوق تبلیغ اور ذوق عمل میں اتنا تفاوت کیوں ہے؟

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

تم لڑکی ہو میں مرد ہوں ​ تصویر بنانا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ وڈیو بنانا بنوانا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ پینٹ پہننا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ آواز بلند کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ اپنی رائے دینا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ نوکری کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ شادی سے قبل محبت کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ فلم دیکھنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ موبائل رکھنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ نیٹ استعمال کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ دعوت وتبلیغ تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ معاف کیجیے گا ​ گناہ گناہ ہے مرد کرے یا عورت ​ نیکی نیکی ہے خواہ مرد کرے یا عورت ​ عورت ہونے سے گناہ کا عذاب بڑھ نہیں جاتا ​ نہ مرد ہونے سے گناہ کا عذاب کم ہوتا ہے ​ مسلم مرد و عورت کے لیے حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا مسلم مرد و عورت کے لیے حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا ​ اگر آپ کی بہن یا بیٹی ​ آپ کے ایجاد کردہ اصول نہیں مانتی تو وہ اسلام کی باغی نہیں ​ آپ کی انا کی باغی ہے ​ اسے اسلام سے بغاوت کی سزا مت سنائیں...

مرد ہو کر!

تصویر
ہمارے معاشرے میں مردانگی کے عجیب معیار مقرر ہیں نجانے یہ کہاں سے مستعار لیے گئے ہیں لیکن یہ جانے مانے قوانین بن چکے ہیں ہم اکثر اس قسم کے جملے سنتے ہیں ’’ تم  مرد  ہو کر عورتوں کی طرح رو رہے ہو ‘‘ ’’ تو مرد ہو کر ڈر رہا ہے یار ‘‘ ’’ارے تم مرد ہو کر خود کھانا پکاتے ہو ‘‘ میں اکثر سوچتی ہوں کاش  مرانگی کے مروجہ معیار کے متعلق کسی روز ایسا جملہ بھی سننے کو ملے ’’ تم مرد ہو کر عورتوں کی طرح گھر میں  نماز  پڑھتے ہو یار ؟ چلو اٹھو  مسجد  چلیں ۔ ‘‘ ذرا سا غور کریں تو معلوم ہو گا جو باتیں دین میں کوئی عیب نہیں وہ ہمارے معاشرے میں باعثِ عار ہیں ۔۔۔ اور جو باتیں دین میں کبیرہ گناہ ہیں وہ ہمارے معاشرے کے عرف میں انتہائی عام سی عادتیں بن گئی ہیں ۔۔۔ ہم آج بھی ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل سے صدیوں کے فاصلے پر ہیں ۔۔۔ اور لگتا تو یہی ہے کہ ہمارا یہ فاصلہ گھٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ۔۔۔