اشاعتیں

نوجوان لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نرالے سوالی (9)

و نوجوان ایک بزرگ کا مذاق اڑانے کی نیت سے اس کے دونوں طرف بیٹھ گئے۔ ایک نے پوچھا: شیخ آپ احمق ہیں یا جاہل؟ اس نے کہا: میں دونوں کے درمیان ہوں۔ ایک بزرگ جن کی کمر خم ہو چکی تھی راستے سے گزر رہے تھے، ایک نوجوان نے شرارتا کہا: یہ کمان کتنے کی ہے؟ بزرگ نے جواب دیا: اللہ تمہاری عمر لمبی کرے تو یہ مفت مل جائے گی ! (عربی سے ترجمہ  شدہ)

دائیں اور بائیں بازو میں سیاسی عدم برداشت پر ایک تبصرہ

حیرت ہے کہ ابوبکر قدوسی صاحب کن "گڈ اولڈ ڈیز" کا ذکر کرتے ہیں جس میں "ہمارے" لوگ علمی اختلافات کے ساتھ چلتے رہتے تھے اور ایک دوسرے کو جماعت سے خارج نہیں کرتے تھے؟   جہاں تک میرا مطالعہ ہے ہم نے انگریز، ہندوؤں اور سکھوں کو نکال کر ملک پاک کیا، اس کے بعد بنگالیوں کو نکالا، اس کے بعد دائیں بازو کی جماعتیں ہوں یا بائیں بازو کی ہر جماعت سے لوگوں نے ایک دوسرے کو نکالا ،نتیجتا ہر جماعت سے دس بیس جماعتیں اورہر شوری سے امیر پہ امیر نکلے۔ جب پورے ملک میں یہ وبا ہے تو اسی مزاج کی تربیت اہل حدیث کے "شاہین بچوں" کی بھی ہوئی۔ ہم نے کس دن نوجوانوں کی ایسی تربیت کرنے کا سوچا کہ وہ ایسے گمراہ ہاتھوں میں نہ پڑیں؟ یہ جو جذباتی لڑکے یہاں وہاں علما پر تنقید کرتے ہیں، اور مدرسے کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھی مجتہد بن جاتے ہیں، یہ انہی جماعتوں کی تربیت ہے۔ ان جماعتوں سے بازو ٹوٹتے ہیں اور امیبا کی طرح ایک نئی جماعت بن جاتی ہے۔ دو ڈھائی سو مذہبی جماعتوں کی تعداد روز افزوں ترقی پر ہے تو سبب یہی عدم برداشت ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ مذہبی رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہماری اتنی طویل و عریض جماع...

مذہبی رجحان والے نوجوانوں کے مسائل کا حل۔۔۔ ںرالے سوالی (6)

امام احمد رحمہ اللہ سے ایک نوجوان نے پوچھا میں لوبیے والے پانی سے وضو کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا :نہیں۔ امام نے اس سےپوچھا: مسجد میں داخل ہونے کی دعا آتی ہے؟  اس نے کہا نہیں۔ امام رحمہ اللہ نے اسے نصیحت کی : "خود کو ان کاموں میں مصروف کرو جو تمہیں فائدہ دیں"۔ آج کل بہت سے مذہبی رجحان والے نوجوانوں کا یہی حال ہے اور ان کے مرض کا یہی علاج ہے۔