اشاعتیں

تبلیغ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فحاشی کی پرزور مذمت میں مصروف گفتار کے غازی

آپ سوشل میڈیا پر موجود ہوں اور عامیانہ زبان سے واسطہ نہ پڑے ممکن نہیں۔ لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب فحاشی کی مذمت کرنے والے مومن حضرات کی زبان بگڑتی ہے۔ پہلے یہ تاک تاک کر آزاد خیال خواتین کے بیانات (اس میں ان کی وڈیو سے بھی کوئی پرہیز نہیں) ڈھونڈتے ہیں، پھر ان کی مذمت کے لیے وہ وہ فحش الفاظ، اور عریاں جملے (سمیت ماں بہن کی گالیوں کے) ڈھونڈ کر لاتے ہیں کہ فحاشی کا باپ بھی شرما جائے۔ روشن خیالوں کے دیدوں کا پانی تو اعلانیہ مر چکا  ہے، ان خضر صورت شرفا کی زبان کو کیا ہوا ہے یہ کوئی معمہ نہیں۔ کیا اسلام کا پہلا رکن یہ ہے کہ فحاشی کو ہر کونے کھدرے میں ڈھونڈا جائے پھر اس کی مذمت میں دن رات ایک کر دیے جائیں؟ سب سے خطرناک معاملہ یہ ہے کہ دوسروں کے اخلاقی زوال پر انگلیاں اٹھاتے ہمیں یہ غور کرنے کا موقع نہیں مل رہا کہ دائیں بازو کے شعلہ بیان مقرر، جوش خطابت میں کیا بول گئے ہیں؟ کہیں یہ اس بات کی علامت تو نہیں کہ بے حیائی کے جراثیم خود آپ کے دماغ تک کام دکھا چکے ہیں۔ جب انسان فحاشی کی مذمت میں بھی ماں بہن کو یاد کرتا ہوا پایا جائے، چاہے اپنی ی...

خواتین کی اصلاح میں مرد حضرات کی شگفتہ تحریریں

حکیم الامت   مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں" میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتوں کو اپنی تصنیف پر نام لکھنے سے کیا مقصود ہوتا ہے۔ اگر ایک مضمون دوسری عورتوں کے کان تک پہونچانا ہے تو اس کے لیے نام کی کیا ضرورت ہے مضمون تو بغیر نام کے بھی پہونچ سکتا ہے پھر نام کیوں لکھا جاتا ہے؟" ا قتباس از اصلاح خواتین یاد رہے کہ حکیم الامت نے جس کتاب میں یہ سطور لکھی ہیں اس پران کا نام بطور مصنف درج ہے!

قرآ ن و حدیث میں تحریف جائز نہیں چاہے تبلیغ کی خاطر ہو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعض لوگوں میں تبلیغ کا جذبہ ہوتا ہے لیکن ضروری علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دلائل معلوم نہیں ہوتے۔ بجائے حصول علم کی صبر آزما مشقت کے وہ آسان راستہ منتخب کرتے ہیں۔ تبلیغ کے نیک مقصد کی خاطر جھوٹ بولنے، تحریف   کرنے کا راستہ۔ آپ کو ایسے بہت سے مذہبی افراد ملیں گے جو یہ معلوم  ہونے کے بعد بھی کہ ان کی بیان کی گئی روایت جھوٹی ہے اسے پھیلانے سے باز نہیں آتے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ چاہے جھوٹی روایت ہے لیکن لوگوں پر اثر بہت کرتی ہے۔ یہ تبلیغی تجارت ہے جو چیز عوام میں ہاتھوں ہاتھ بکے گی وہ اس کو ضرور بیچیں گے۔  تبلیغ کے اسی ناپختہ تصور کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ گئی کہ لوگ قرآنی آیات اور احادیث کی معنوی تحریف سے بھی باز نہیں آ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تبلیغ میں انوکھی باتیں کریں جو عوام نے ان سے پہلے کسی مبلغ سے نہ سنی ہوں۔ اسی دوڑ میں آیات و احادیث کا من مرضی کا ترجمہ   ہو رہا ہے۔کسی حدیث کا درست معنی کیا ہے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں۔  سنن ابی داود کی ایک حدیث شریف ہے: لَا يَقْبَلُ اللّہ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ۔ تر...

اپنی بیوی کو کبھی گاڑی چلانا مت سکھانا ۔ جنید جمشید کی تبلیغ

ہمارے ملک کے معروف مبلغ حضرت جنید جمشید   صاحب بتاتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے حسن کی وجہ سے کتنا ان سیکیور محسوس کرتے تھے کہ کہیں۔۔۔ اس لیے انہوں نے اپنی بیوی کو کبھی ڈرائیونگ نہیں سکھائی۔ ان کا کہنا ہے کہ "  کوئی بھی مرد جو یہ دیکھ رہا ہے اس کو وہ کہیں گے اپنی زندگی پر تمہارا احسان ہو گا کہ اپنی بیوی کو کبھی ڈرائیونگ کرنا مت سکھانا کیوں کہ جس عورت   کو بہت زیادہ گھر سے باہر نکلنے کی عادت پڑ جائے اس کو گھر بیٹھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ " یاد رہے کہ حضرت نے اپنی ذاتی زندگی اور اپنی نفسیاتی کیفیت کے متعلق یہ باتیں خود کھلے عام ذرائع ابلاغ پر شئیر کی ہیں اور کسی کی حسین بیوی کو بے تکلفانہ انٹرویو دیتے ہوئے شئیر کی ہیں جسے وہ بہت آرام سے تم کہہ کر مخاطب ہیں۔  اگر وہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرتے جو اپنے لیے کرتے ہیں تو یہ انٹرویو کسی مرد کو دینا پسند کرتے ۔ بجائے اس کے کہ جنید جمشید صاحب ایک مسلم مبلغ کی طرح عورت کے گھر سے نکلنے کے بارے میں اسلام   کے قوانین کو معیار بناتے انہوں نے اپنی ذاتی نفسیاتی کیفیت کو معیار بنا کر فیصلہ کیا کہ اپنی بیوی کو گھر سے با...

اللہ کو پسند نہیں کہ عورت کا نام قرآن میں آئے

وطن عزیز کے ایک معروف مبلغ فرماتے ہیں: " اللہ کو پسند نہیں کہ عورت کا نام قرآن میں آئے"۔ شکر ہے جناب نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کو عورتیں پیدا کرنا ہی پسند نہیں تھا، وہ تو مردوں کی خاطر بنائی ہیں۔  اللہ نے اس طرح کے مبلغوں  کے سر پر سینگ نہیں اگائے، اس میں  کیا حکمت ہے؟ میرا سوہنا رب ہی جانتا ہے البتہ یہ بات یقینی ہے کہ ایسے جاہل ، اہل علم کی عبرت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ 

میری تصویر شئیر کرنا حلال، تمہاری تصویر شئیر کرنا حرام

جب سے ہمارے مرد   داعیانِ اسلام کے نزدیک کیمرے والی (اور اب تو ہر قسم کی۔۔۔ یقین نہ آئے تو قرآنک السٹریشنز دیکھ لیں ) تصویر  حلال ہوئی ہے وہ اپنی ہر تیسری سٹیٹس  اپ ڈیٹ ،ٹویٹ، بلاگ پوسٹ وغیرہ میں  تازہ تصویر بھی شامل فرما دیتے ہیں، ان کے فین اسے شئیر فرما کر ثواب دارین حاصل فرماتے ہیں۔ بھائیوں کو نیکی کی راہوں میں آگے نکلتے دیکھ کر بہنیں بھی ان کی اقتدا میں باپردہ تصویریں شئیر کرنے لگیں ۔ تب داعیانِ اسلام نے اجتہاد کیا نتیجہ یہ نکلا کہ :" میری تصویر شئیر کرنا حلال اور تمہاری تصویر شئیر کرنا حرام! " بازیچہء اطفال ہے دنیا مرے آگے!

مرد مسلمان کا ذوق سماعت

سماجی ذرائع ابلاغ میں دین اسلام کے متعلق مطالعے اور علم کی کمی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ بعض بظاہر دین دار لوگ اس آسان سے سوال کا جواب بھی نہیں جانتے کہ کیا عورت کی آواز  مطلقا پردہ ہے؟ صنف مخالف سے  نامناسب گفتگو مرد ہو یا عورت، سب کے لیے ممنوع ہے لیکن کچھ مردوں کے اسلام میں اپنے لیے ہر چیز حلال ہوتی ہے البتہ خواتین کو ان کی حدود بتانا ان کا مذہبی فریضہ ہوتا ہے۔  سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ  مرد، عورت کے لیے آواز کے پردے کی بہت تشریحات کرتے ہیں لیکن خود رنگین سکرینوں پر سجی بنی عورتوں کی آوازیں ذوق و شوق سے سنتے وقت انہیں یاد نہیں آتا کہ اس عورت کی آواز کا ان سے پردہ ہے ؟ مارننگ شوز، اشتہارات، خبریں ، فونز میں ریکارڈڈ مسیجز ہر چیز میں اسی عورت کی آواز بے پردہ ہے اور مرد مسلمان کے ذوق سماعت کی خوب خوب تسکین ہو رہی ہے! مجھے معلوم نہیں مسلمان مردوں کے ذوق تبلیغ اور ذوق عمل میں اتنا تفاوت کیوں ہے؟