اشاعتیں

انقلاب لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

محبت جو دل بدل دے

  رمضان المبارک قریب آنے پر ہر مسلمان روحانی لحاظ سے خاص قسم کی خوش گوار کیفیت سے گزرتا ہے۔ علوم اسلامیہ کی تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان دنوں لوگ  رمضان سے متعلق سوالات پوچھتے ہیں تو اہل اسلام کی اس مہینے سے محبت دیکھ کر اور بھی خوشی ہوتی ہے۔  شعبان کے  مبارک دن جب آپ اللہ سبحانہ وتعالی سے اس عظیم مہینے کی برکتوں تک پہنچنے کی دعا مانگ رہے ہوں اور گزشتہ رمضان کی حسین یادیں آپ کو اس سال مزید بہتر بننے کی کوشش کی ہمت دلا رہی ہوں، اس عالم میں آپ کو اچانک  طلبہ و طالبات سے ایسے سوالات موصول ہوں  جو  سوال کم اور معاشرے کے اخلاقی زوال کا اشارہ زیادہ ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے معطر فضا میں یکایک بدبو کا بھبکا آپ تک آ پہنچے۔ اس سے زیادہ دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ اتنے کم عمر،معصوم بچے اور بچیاں ایسے الم ناک مسائل کا شکار ہیں؟ وہ عمر جس میں والدین،تعلیمی ادارے اور درسی کتابیں ہی کل عالم ہوتی ہیں، اس میں انہوں نے کیسی فکریں پال لی ہیں؟ یہ ایک دن میں نہیں ہوا۔ ان کے والدین، اساتذہ،  علماء، حکمرانوں، تعلیمی اداروں اور  ذرائع ابلاغ نے نئی نسل کو یہاں پہن...

رمضان کی تیاری دل سے

بسم اللہ الرحمن الرحیم رمضان المبارک ہر گزرتے دن کے ساتھ قریب سے قریب تر آ رہا ہے۔  سال بھر بے تابی سے رمضان کا انتظار کرنے والےاللہ کی رحمت کے پیاسے ابھی سے اس  کی تیاری میں مصروف ہیں۔ کئی سال پہلے نصف رمضان میں ایک تحریر لکھی تھی جو یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔  یہ سارے جملے دراصل ایک عزم تھے، ایک پکار کہ کب تک ایسی ہی زندگی گزارتے رہنے کا ارادہ ہے؟ زندگی میں کچھ تو انقلاب چاہیے۔  اس سال رمضان آنے سے پہلے زندگی بہت بدل چکی ہے۔ ابو جان (رحمہ اللہ و جعل الجنۃ مثواہ) جو ہر سال رمضان کی تیاری کا شوق دلاتے تھے، اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ آج کل ان کی وہ سب نصیحتیں یاد آتی ہیں جو وہ رمضان سے پہلے کیا کرتے تھے۔ اب ان کا مہربان وجود ساتھ نہیں، یادیں باقی ہیں جو بار بار مطالبہ کرتی ہیں کہ رمضان سے پہلے  سچا عزم کرنا ہے،   رمضان کی تیاری دل سے کرنی ہے،اور  رمضان بھر اپنے عزائم پر ثابت قدم بھی رہنا ہے۔  اے اللہ ہمیں رمضان کا مہینہ عمل کی توفیق کے ساتھ عطا فرما اور جانے والوں کا حق ادا کرنے کی توفیق دے۔

ماؤں بہنوں کی عزت کے رکھوالے

ایمان داری سے تجزیہ کریں تو مجھے پاکستان کے دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسند رہنماؤں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ دونوں طرف خواتین کی تصاویر کو نازیبا انداز میں ایڈٹ کر کے سیاسی جلن نکالنے والے موجود ہیں۔ دونوں طرف کے لوگ مرد رہنماؤں کے ہر قسم کے سکینڈل ان کی سماجی حیثیت کے سبب دبا دیتے ہیں جب کہ خواتین کے انتہائی ذاتی معاملات میں ناک گھسیڑنا اور ان کو کردار کی سند جاری کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایک زمانے میں دائیں بازو والوں نے  ایک ذہین اور باصلاحیت خاتون رہنما کی عزت پر اس لیے حملے کیے کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی جائز نہیں، کچھ دہائیوں بعد اسی دائیں بازو کی خواتین ایوان نمائندگان میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر بھی نظر آئیں اور کونسلرز کے انتخابات بھی لڑتی نظر آئیں۔ ایک جماعت کے رہنما کی ہر بیوی کے متعلق دائیں بازو کی اسلامی صحافت اور اسلامی سیاست نے جس انداز میں خبریں پھیلائیں، اس کو دیکھ کر بڑے بڑے اسلام پسند ان کی حمایت سے تائب ہو گئے۔ بائیں بازو کے   روشن خیالوں کے دھرنے اور جلسے میں ماؤں بہنوں سے جو سلوک ہوا وہ الگ،خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کا حسن اخلاق...

دائیں اور بائیں بازو کے چہیتوں کی گمشدگی

کچھ سال پہلے سوشل میڈیا   پر دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسندوں کو دیکھ کر خیال آتا تھا کہ " پاکستان میں بہت ہی زیادہ آزادی   ہے"۔ اللہ کا شکر ہے کہ 2015 تا 2016 میں ریاست کے ادارے کچھ جاگتے ہوئے نظر آئے، دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی، اہل وطن نے بہت عرصے بعد ایک پرامن موسم سرما کا لطف اٹھایا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر فسادیوں اور ملحدوں (دشمنان وطن و دشمنان دین) کی ویب سائٹس کا زور بھی کچھ کم ہوا۔ البتہ آج کل ایک نئی پراسرار لہر نے کئی لوگوں کو ٹھٹھرا کر رکھ دیا ہے۔ یہ لہر ہے گمشدگیوں کی۔ دائیں بازو کے لوگ ہوں یا بائیں بازو کے اپنے اپنے چہیتوں کی گمشدگی کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ افسوس کیا جا رہا ہے کہ صرف بات کرنے پر  لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افسوس ان پر ہے جو بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کسی وطن میں رہیں، اور اس کی سرحدیں گرانے کی دعوت بھی دیں، اس کے محافظوں کا مذاق اڑائیں، ان کی قربانیوں پر انگلیاں اٹھائیں، یا جو سمجھتے ہیں کہ وہ خود کو ایک دین کا نام لیوا ظاہر کریں اور پھر اس کے قوانی...

خدا تک رسائی رکھنے کے دعوے دار ملا

دنیاوی خائن دنیاوی منصبوں پر قابض ہیں، دینی خائن دینی مسندوں کے لازمی مستحق ہیں، مسجد کا منبر خاندانی ورثہ ہے، شہادت گھر کی لونڈی ہے، مغفرت یقینی استحقاق ہے، جنت کا پلاٹ پیدائش سے پہلے ہی بک ہے۔ یہ رشوت، سفارش، دھونس، دھاندلی کے عادی ہیں وہ اللہ کے دین   میں تحریف وتاویل کے۔  نہ وہ ممبر پارلیمنٹ ہونے کے لیے کردار کے مقرر معیار پر پورے اترتے ہیں نہ اِن کو سیاست،شہادت وقیادت کی اسلامی شرائط کا کوئی پاس ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں تو ہر کسی کی انگلی دوسرے کی جانب کیوں اٹھی ہوئی ہے؟  خدا   تک رسائی کا دعوی رکھنے والے ملاؤں کے بارے میں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام تری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام ملائے حرم   از اقبال دین و دنیا   کے ایسے رہنماؤں کی وجہ سے ہی امت مسلمہ کی شب تاریک سحر ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ جو خود کو بدلنا نہ چاہتے ہوں ان کی دنیا میں کوئی انقلاب کیسے آئے گا؟

امن و اخوت عدل ومحبت وحدت کا پرچار کرو

امن   و اخوت   عدل ومحبت وحدت   کا پرچار کرو انسانوں کی اس نگری میں انسانوں سے پیار کرو آگ کے صحراؤں سے گزرو، خون کے دریا پار کرو جو رستہ ہموار نہیں ہے، اس کو بھی ہموار کرو دین بھی سچا تم بھی سچے، سچ کا ہی اظہار کرو تاریکی میں روشن اپنی عظمت کے مینار کرو نفرت کے شعلوں کو بجھا دو، پیار کی ٹھنڈی شبنم سے  ہم دردی کی فصل اگاؤ، صحرا کو گل زار کرو سچے روشن حرف لکھو، یہ ظلمت خود کٹ جائے گی اپنے قلم کو تِیشہ کر لو، لہجے کو تلوار کرو عزت، عظمت، شہرت یارو دامن میں اسلام   کے ہے وقت یہی ہے سنگ زنوں کو آئینہ کردار کرو دنیا ہو یا دین کی منزل یکجہتی سے ملتی ہے وحدت کا پیغام سنا کر ذہنوں کو بے دار کرو انساں کو راحت نہ ملے گی، دنیا بھر کے "ازموں" سے  اس دنیا میں نافذ لوگو حکم شہ ابرارﷺ کرو سرخ سمندر والی لہریں دور بہا لے جائیں گی  ہوش میں آؤ سبزہلالی پرچم کو پتوار کرو سورج بننا مشکل ہے تو جگنو ہی بن جاؤ تم  بھائی ہو تو بھائی کی خاطر اتنا تو ایثار کرو  کچھ تو اپنے ہمسائے سے پیار کا رشتہ رہنے دو اعجاز اپنے گھر کی اونچی اتن...

ہم نے رمضان کے ساتھ کیا کیا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ماہ رمضان نصف گز ر چکا آئیے آج دو گھڑیوں کو اپنا محاسبہ کریں اللہ کے کرم سے ہماری زندگی میں ایک بار پھر ایمان کی بہار کا یہ مہینہ آیا جنت   کے دروازے کھل گئے ، جہنم کے دروازے بند ہو گئے عاجز و حقیر بندوں کے ہر عمل کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھا دیا گیا ، لیکن ہم نے اس قیمتی وقت کی کیا قدر کی؟ ہم نے اس مبارک رمضان کے ساتھ کیا کیا؟ ہمارے ہاتھ روایتی دعاؤں کے لیے اٹھے ضرور لیکن ہم نے اللہ کی مخلوق سے مانگنا نہ چھوڑا ہم گھروالوں کے لیے نوع بہ نوع کھانے لاتے بناتے رہے لیکن ان کو بروقت نماز کی تلقین نہ کی؟ کتنے ہی گھر ہیں جہاں مسجدوں کی اذان پہنچتی رہی لیکن مرد باجماعت نماز کے لیے گھروں سے نہ نکلے اللہ کے فرائض سے غافل رہ کر نصف رمضان گزر گیا؟ قرآن کے مہینے میں ہم نے قرآن کو کتنا وقت دیا؟ ہم نے قرآن ختم کرنے کے من گھڑت شارٹ کٹ تو بہت شئیر کیے ، خود کتنا قرآن سمجھ کر پڑھا ؟ ہم جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں پر قیام اللیل میں ور...

چاکلیٹ بمقابلہ غیرت ایمان یا علم بمقابلہ جہل

بسم اللہ الرحمن الرحیم  ​ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  گزشتہ چند ہفتوں سے خبر گردش میں ہے کہ ملائیشیا میں کیڈ بری کمپنی کی ڈیری ملک نامی چاکلیٹ بار میں حرام اجزا پائے گئے ہیں ۔ اس خبر کے بعد ملائیشیا ایک بڑے سٹور نے جس کی ملائیشیا میں پانچ سو سے زیادہ شاخیں ہیں ، اپنے سٹورز پر ڈیری ملک چاکلیٹ رکھنا منع کر کے عوام سے  بائیکاٹ کی درخواست کر دی ۔  اس سارے معاملے کے بعد ملائشیا کی اسلامی اتھارٹی Jakim نے ڈیری ملک چاکلیٹ کے نمونے جمع کر کے ٹیسٹ کروائے اور جون کی ابتدا میں اعلان کیا کہ ان میں کوئی حرام جزء نہیں پایا گیا ۔  Malaysia's Department of Islamic Development, or JAKIM, reportedly said in a statement that they tested 11 samples of Cadbury Dairy Milk Hazelnut, Cadbury Dairy Milk Roast Almond and other products from the company's factory but none of them tested positive for pork. ملائشیا میں یہ تنازعہ جاری تھا جب سعودی حکام نے بھی وضاحت کی کہ ان کے ملک میں بکنے والی ڈیری ملک چاکلیٹ بار ملائشیا سے بن کر نہیں آتی بلکہ برطانیہ سےدرآمد...

مسلم دنیا کی مشہور تحریکیں پابندیوں کی زد میں

گزشتہ کچھ عرصے میں  مسلم   دنیا کی کئی مشہور تحریکیں اور جماعتیں، اپنی ریاست کی جانب سے پابندیوں کی زد میں آئی ہیں۔  پاکستان میں پہلے سے  پابندی   کا شکار کالعدم  تحریک   طالبان پاکستان / ٹی ٹی پی جو بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح کسی صورت مذاکرات پر آمادہ نہیں ہو رہی تھی ، ایک سنجیدہ فوجی آپریشن کے بعد حیران کن طور پر اسی حکومت سے مذاکرات پر آمادہ ہوگئی جسے غیر اسلامی ، طاغوتی اور نجانے کیا کیا کہتے اس کے رہنما اور چمچے تھکتے نہیں ۔ اس وقت رابطوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ مذاکرات اولین ترجیح ہیں لیکن ناکام ہوئے تو آپریشن ضرور ہو گا۔ یہ وہ کام ہے جو پاکستانی حکومت اور فوج کو مل کر کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا لیکن یوں لگتا ہے کہ گزشتہ حکومتیں چوہے بلی کا کھیل جاری رکھنا چاہتی تھیں تا کہ مغرب سے امداد لگی رہے ۔ بہرحال دیر آید درست آید اللہ کرے کہ مذاکرات کامیا ب ہوں اور ضدی جاہلوں کی تحریک طالبان کو حصول علم کا موقع ملے ۔ یہ جنگلی منہ ہاتھ دھو کر قرآنی قاعدہ پکڑیں گے تو انہیں علم ہو گا کہ اسلام اس سے بالکل مختلف ہے جو ان کے بیانا...

انقلاب آیا

کبھی جو روپ بدل کر نیا عذاب آیا  تو سادہ لوح یہ سمجھے کہ انقلاب آیا  یہ جانا تشنہ لبوں نے کہ اب کے آب آیا  قدم سراب سے نکلے تو پھر سراب آیا ورودِ حشر میں اب دیر کس لیے اتنی  کہ زندگی ہی میں جب سر پہ آفتاب آیا جو چور خود ہو کرے گا محاسبہ کیوں کر کہا ہے کس نے کہ اب دور احتساب آیا تمام عمر کٹی اپنی اس طرح کاوِش کہ اک عذاب ٹلا دوسرا عذاب آیا ​  شاعر: محمود کاوش 

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا دل میں آیات اترتیں تو اجالا ہوتا  نفرت و بغض کو سینوں میں نہ پالا ہوتا اپنے ہاتھوں سے نہ یوں خود کو مٹایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا بن کے دستور حیات آیا جو انساں کے لیے نسخہ کیمیا ہر درد کے درماں کے لیے  رب کے احکام سے دامن نہ چرایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا تھاما قرآں تو کیے قیصر و کسری نابود  اس سے منہ پھیر کے خطرے میں ہے امت کا وجود درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا ​