قرآ ن و حدیث میں تحریف جائز نہیں چاہے تبلیغ کی خاطر ہو
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعض لوگوں میں تبلیغ کا جذبہ ہوتا ہے لیکن ضروری علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دلائل معلوم نہیں ہوتے۔ بجائے حصول علم کی صبر آزما مشقت کے وہ آسان راستہ منتخب کرتے ہیں۔ تبلیغ کے نیک مقصد کی خاطر جھوٹ بولنے، تحریف کرنے کا راستہ۔ آپ کو ایسے بہت سے مذہبی افراد ملیں گے جو یہ معلوم ہونے کے بعد بھی کہ ان کی بیان کی گئی روایت جھوٹی ہے اسے پھیلانے سے باز نہیں آتے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ چاہے جھوٹی روایت ہے لیکن لوگوں پر اثر بہت کرتی ہے۔ یہ تبلیغی تجارت ہے جو چیز عوام میں ہاتھوں ہاتھ بکے گی وہ اس کو ضرور بیچیں گے۔ تبلیغ کے اسی ناپختہ تصور کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ گئی کہ لوگ قرآنی آیات اور احادیث کی معنوی تحریف سے بھی باز نہیں آ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تبلیغ میں انوکھی باتیں کریں جو عوام نے ان سے پہلے کسی مبلغ سے نہ سنی ہوں۔ اسی دوڑ میں آیات و احادیث کا من مرضی کا ترجمہ ہو رہا ہے۔کسی حدیث کا درست معنی کیا ہے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں۔ سنن ابی داود کی ایک حدیث شریف ہے: لَا يَقْبَلُ اللّہ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ۔ تر...