اشاعتیں

ذرائع ابلاغ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

محبت جو دل بدل دے

  رمضان المبارک قریب آنے پر ہر مسلمان روحانی لحاظ سے خاص قسم کی خوش گوار کیفیت سے گزرتا ہے۔ علوم اسلامیہ کی تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان دنوں لوگ  رمضان سے متعلق سوالات پوچھتے ہیں تو اہل اسلام کی اس مہینے سے محبت دیکھ کر اور بھی خوشی ہوتی ہے۔  شعبان کے  مبارک دن جب آپ اللہ سبحانہ وتعالی سے اس عظیم مہینے کی برکتوں تک پہنچنے کی دعا مانگ رہے ہوں اور گزشتہ رمضان کی حسین یادیں آپ کو اس سال مزید بہتر بننے کی کوشش کی ہمت دلا رہی ہوں، اس عالم میں آپ کو اچانک  طلبہ و طالبات سے ایسے سوالات موصول ہوں  جو  سوال کم اور معاشرے کے اخلاقی زوال کا اشارہ زیادہ ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے معطر فضا میں یکایک بدبو کا بھبکا آپ تک آ پہنچے۔ اس سے زیادہ دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ اتنے کم عمر،معصوم بچے اور بچیاں ایسے الم ناک مسائل کا شکار ہیں؟ وہ عمر جس میں والدین،تعلیمی ادارے اور درسی کتابیں ہی کل عالم ہوتی ہیں، اس میں انہوں نے کیسی فکریں پال لی ہیں؟ یہ ایک دن میں نہیں ہوا۔ ان کے والدین، اساتذہ،  علماء، حکمرانوں، تعلیمی اداروں اور  ذرائع ابلاغ نے نئی نسل کو یہاں پہن...

موسم کے ساتھ رنگ بدلتے اہل دانش

بدلتے  موسم  انسانی مزاج پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں یہ بھی ایک دلچسپ مطالعہ ہے۔ ذوالحج  سال کا وہ مہینہ ہے جب کچھ "دانشور نما"  لوگوں کو غریبوں کا درد بری طرح لاحق ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پران کی ہر تحریر میں یہی درد چھلکتا ہے کہ ہر سال حج اور عمرہ کرنے کی بجائے اگر فاقے کا شکار فقیر انسانوں کا کچھ بھلا ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ کبھی انہیں غلاف کعبہ سے مسلمانوں کی محبت چبھنے لگتی ہے، اس پر خرچ کی ایک پائی ایک پائی کا یوں حساب کرتے ہیں گویا کسی بنیے کے منشی رہے ہوں۔ پھر انہیں  قربانی  کے مسکین جانوروں پر ترس آنے لگتا ہے جو ہر گلی محلے میں ذبح ہوتے ہیں۔ میکڈونلڈ کے برگر میں شامل  مخملیں قیمہ اور کینٹکی کی فرائڈ چکن شاید انہیں کسی جانور کی باقیات نہیں لگتی یا چوں کہ جانور ان کی آنکھوں کے سامنے ذبح نہیں ہوتے اس لیے ان کے غم میں رونے کا خیال ان کے کند ذہن میں نہیں آتا۔ کیلنڈر کے ورق الٹتے ہیں۔ انگریزی تقویم کے حساب سے  فروری  کا مہینہ آتا ہے تویہ "دانشور نما" ایک نئی کینچلی بدلتے ہیں۔سرخ گلاب کی  ایک ایک کلی پر  ہزاروں روپے وارناانہیں زندہ ...

یہاں شریف گھروں کے لڑکے لڑکیاں آتے ہیں لیکن اس کی بھاری قیمت چکاتے ہیں!

میرا شمار پاکستان کی اس نسل میں ہوتا ہے جس نے کھمبیوں کی مانند اگتے نجی چینلوں کے پھیلاؤ کو قریب سے دیکھا۔ ایک آمر نے مصنوعی انداز میں ڈھیر سارے چینل کھول کر روتی بلکتی قوم کی توجہ بٹانے کی کوشش کی۔ اتنے سارے چینلوں کے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے جو افرادی قوت درکار تھی اس کو پورا کرنے کے لیے دھڑا دھڑ بھرتیاں ہوئیں۔عمر بھر فحاشی کی کمائی کھانے والے، گناہوں کی سیاہی میں لتھڑے ہوئے مکار سیٹھوں کے چہرے، پیلی کھسیانی مسکراہٹ کے ساتھ یہ کہنے کے قابل ہوئے : "اب یہاں شریف گھروں کے لڑکے لڑکیاں آتے ہیں"۔ سمجھ دار لوگوں کو اس گپ کی حقیقت معلوم تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ متوسط طبقے کے معصوم لڑکے لڑکیاں، جن کے ماں باپ انہیں نیکی بدی کا سبق گھٹی میں دیتے ہیں، اخلاق اور شرافت کی لوری دے کر سلاتے ہیں، اور گھر سے نکلتے وقت آیت الکرسی پڑھ کر بھیجتے ہیں، ان انسانی جسموں کے ساہوکاروں کے سامنے جائیں اور عزت بچا کر واپس آ جائیں؟ ​ کیرئیر بنانے کا خواب لے کر نکلنے والے کئی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے ان چینلوں میں اپنی عزت نفس، شرافت اور بزرگوں سے ملی نیک شہرت کی کرچیاں ہوتے دیکھیں۔ کچھ لہو رنگ ...

بچے ذرائع ابلاغ سے کیا سیکھ رہے ہیں؟

تہوار، شادی بیاہ کی خوشیوں میں بعض گھروں میں اللہ کی نافرمانی کے کام بہت آسانی سے ہو رہے ہوتے ہیں جیسے یہ ایک معمول کی بات ہو، اس سے بچے  کیا سیکھ رہے ہیں اس کا اندازہ ایک واقعے سے لگائیے کہ عید کے دن اہل خانہ نے خبروں کے لیےٹی وی  لگایا پھر کسی نے آواز بند کر دی۔  ایک بچہ سکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا اچانک بولا "یہ بہت ۔۔۔ ہے ابھی پچھلی عید پر اس نے کسی اور لڑکی سے شادی کی تھی"۔ بڑوں کے مجمع پر سکوت چھا گیا۔ مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کسی ڈرامے کا اشتہار تھا جس میں شادی کا منظر تھا۔ اس واقعے نے وہاں موجود سب لوگوں کو احساس تو دلایا کہ تفریح  کے نام پر ہمارے گھروں میں جو کچھ برداشت کیا جا رہا ہے بچوں کا ذہن اس سے کیسے  متاثر ہو رہا ہے۔ لیکن شاید ہی کوئی نئی نسل کی اچھی تربیت کی خاطر اپنے پرانے نشے چھوڑ دینے کا سوچے۔ سب سے برا مرض احساس زیاں کھو جانے کا ہے اور ہم بحیثیت امت اس میں مبتلا ہیں۔

سوشل میڈیا کے علامہ، سکالرز اور استاذ

ایک زمانے میں علامہ کا لقب بہت پٹ گیا تھا، اور پٹا ان کی وجہ سے تھا جو خود کو زبردستی علامہ کہلواتے تھے بلکہ طرہ یہ کہ نہ کہنے والے سے ناراض ہو جاتے تھے، پھر زمانے نے کروٹ لی، خود کو علامہ کہلوانے والوں نے سکالر کہلوانے پر اصرار شروع کر دیا، جتنی تیزی سے کیبل چینل اگے اتنی ہی تیزی سے سکالر پھوٹے، جس طرح برسات میں کھمبیاں اگتی ہیں یا کائی لگتی ہے بالکل اسی طرح آج کل  استاذ  پیدا ہو رہے ہیں، کل مسیں بھیگتی ہیں آج استاذ ہو جاتے ہیں۔تفسیر اور تجوید کے ابتدائی ڈپلومےحاصل کرتے ہی استاذہ بننے کا رجحان بھی  زوروں پر ہے۔ جس نے کسی جامعہ کی شکل نہیں دیکھی وہی استاذ ہے۔ طب نبوی اور طب جدید دونوں کا بیڑہ غرق اور مریض کا سوا ستیاناس کرنے والے نیم حکیموں کا جمعہ بازار لگتا جا رہا ہے۔ جس کا بس اپنے میدان میں نہیں چلا وہ بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ ویسے تو میرا میدان اور ہے لیکن میں تم کو تفسیر کتاب اللہ پڑھانے پر مامور ہوں۔ جھاڑ پھونک المعروف امیر خواتین کا بالمشافہ روحانی علاج بھی ایک سائڈ بزنس کے طور پر جاری ہے۔ یوٹیوب پر پانچویں وڈیو آتے ہی "حضرت استاذ" علمی شہرت کے حامل قرار پاتے ہیں۔ ...

مرد مسلمان کا ذوق نظر

 سنا کرتے تھے کہ بھلے زمانوں کے مسلمان مرد   کسی کافرعورت   کو بھی مصیبت میں دیکھتے تو اس کو چادر   سے ڈھانپ دیتے تھے۔ اب  مرد مسلم   نے بہت ترقی کر لی ہے۔ ٹی وی، موبائل، کمپیوٹر، ٹیبلٹ کی رنگین سکرینوں پر ہر قسم کی عورت   دیکھنے کو میسر ہے، کالی ، گوری، زرد، موٹی، پتلی، لمبی، ٹھگنی، لیکن پھر بھی اس کا نظربازی کا شوق پورا ہو کر نہیں دے رہا۔ فلمی اداکارہ اور عام عورت کی تمیز مٹ گئی ہے۔ مسلم   ممالک میں کسی دھماکے کے بعد پریشان حال زخمی عوتوں کی  تصویریں ہوں یا کالج کی معصوم لڑکیوں کا گروپ فوٹو، ہر عمر ہر نسل کی صنف مخالف مسلم نوجوانوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔ ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے انہوں نے تصویر   بنوائی کیوں؟ یہ  خیال شاید ہی آئے کہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے جہاں اپنی نظروں کا حساب دینا ہے صنف مخالف کےلباس   کا نہیں۔ آج کل برما   (اراکان) کی آفت زدہ، اور بے حال خواتین کی نیم برہنہ   وڈیوز بہت تیزی سے شئیر ہو رہی ہیں۔ یہ مظلوم کی حمایت کا نیا انداز ہے۔ سچ ہےہوس   بڑھتی جا...

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

کچھ دن پہلے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر برطانوی چینل فور کی ایک صحافی   کیتھی نیو مین نے ٹویٹ کیا کہ وہ برطانیہ   کی ایک مسجد  Streatham mosque کی جانب سے 'Visit My Mosque Day' منانے کا سن کر مسجد   گئیں،  لیکن   بقول ان کے انہیں  دروازے سے ہی باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ مزیدلکھا کہ میں اچھی طرح لباس پہنے اور سر ڈھانپے ہوئے تھی، میں نے جوتے اتار دیے تھے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ Well I just visited Streatham mosque for  # VisitMyMosque day and was surprised to find myself ushered out of the door... I was respectfully dressed, head covering and no shoes but a man ushered me back onto the street. I said I was there for  # VisitMyMosque mf But it made no difference اس ٹویٹ کو عوام اور پھر برطانوی ذرائع ابلاغ نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور گارڈین، ڈیلی میل، ہفنگٹن پوسٹ اور انڈیپینڈنٹ سمیت کئی ذرائع ابلاغ نے مسجد کے متعلق خبر   مرچ مسالا لگا کر نشر کردیں جس میں مسجد کو عورت کے خلاف تک کہا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا ...

ہم نے رمضان کے ساتھ کیا کیا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ماہ رمضان نصف گز ر چکا آئیے آج دو گھڑیوں کو اپنا محاسبہ کریں اللہ کے کرم سے ہماری زندگی میں ایک بار پھر ایمان کی بہار کا یہ مہینہ آیا جنت   کے دروازے کھل گئے ، جہنم کے دروازے بند ہو گئے عاجز و حقیر بندوں کے ہر عمل کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھا دیا گیا ، لیکن ہم نے اس قیمتی وقت کی کیا قدر کی؟ ہم نے اس مبارک رمضان کے ساتھ کیا کیا؟ ہمارے ہاتھ روایتی دعاؤں کے لیے اٹھے ضرور لیکن ہم نے اللہ کی مخلوق سے مانگنا نہ چھوڑا ہم گھروالوں کے لیے نوع بہ نوع کھانے لاتے بناتے رہے لیکن ان کو بروقت نماز کی تلقین نہ کی؟ کتنے ہی گھر ہیں جہاں مسجدوں کی اذان پہنچتی رہی لیکن مرد باجماعت نماز کے لیے گھروں سے نہ نکلے اللہ کے فرائض سے غافل رہ کر نصف رمضان گزر گیا؟ قرآن کے مہینے میں ہم نے قرآن کو کتنا وقت دیا؟ ہم نے قرآن ختم کرنے کے من گھڑت شارٹ کٹ تو بہت شئیر کیے ، خود کتنا قرآن سمجھ کر پڑھا ؟ ہم جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں پر قیام اللیل میں ور...

چاکلیٹ بمقابلہ غیرت ایمان یا علم بمقابلہ جہل

بسم اللہ الرحمن الرحیم  ​ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  گزشتہ چند ہفتوں سے خبر گردش میں ہے کہ ملائیشیا میں کیڈ بری کمپنی کی ڈیری ملک نامی چاکلیٹ بار میں حرام اجزا پائے گئے ہیں ۔ اس خبر کے بعد ملائیشیا ایک بڑے سٹور نے جس کی ملائیشیا میں پانچ سو سے زیادہ شاخیں ہیں ، اپنے سٹورز پر ڈیری ملک چاکلیٹ رکھنا منع کر کے عوام سے  بائیکاٹ کی درخواست کر دی ۔  اس سارے معاملے کے بعد ملائشیا کی اسلامی اتھارٹی Jakim نے ڈیری ملک چاکلیٹ کے نمونے جمع کر کے ٹیسٹ کروائے اور جون کی ابتدا میں اعلان کیا کہ ان میں کوئی حرام جزء نہیں پایا گیا ۔  Malaysia's Department of Islamic Development, or JAKIM, reportedly said in a statement that they tested 11 samples of Cadbury Dairy Milk Hazelnut, Cadbury Dairy Milk Roast Almond and other products from the company's factory but none of them tested positive for pork. ملائشیا میں یہ تنازعہ جاری تھا جب سعودی حکام نے بھی وضاحت کی کہ ان کے ملک میں بکنے والی ڈیری ملک چاکلیٹ بار ملائشیا سے بن کر نہیں آتی بلکہ برطانیہ سےدرآمد...

شعائر اسلام کا استہزا اور آزادئ اظہار کی حدود

بسم اللہ الرحمن الرحيم ​ گزشتہ کچھ سالوں سے دنيا بھر ميں اہانت مقدسات (blasphemy) كے افسوس ناك واقعات ايك تسلسل سے رونما ہو رہے ہیں ، ان واقعات ميں خاص طور پر دين اسلام كے متعلق جرائم زيادہ نماياں ہیں۔ اس صورت حال ميں ہوناتو يہ چاہیے تھا كہ مسلمان اپنے دين متين كے ليے پہلے سے زيادہ حساس ہوجاتے اور اس كا جوانمردى سے دفاع كرتے مگر دكھ كى بات يہ ہے کہ بعض نام نہاد "تعليم يافتہ" مسلمان رفتہ رفتہ دينى حميت كى دولت سے محروم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر آزادى اظہار كا يہ معنى ہے كہ انسان بلا سوچے سمجھے كچھ بھی کہہ سكے تو يہ آزادى معاشرے کے ليے زہر قاتل ہے۔ ايك مقولہ ہے کہ: " تمہیں چھڑی گھمانے کی آزادی ہے مگر جہاں كسى كى ناک شروع ہوتی ہے وہاں تمہاری آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔" آزادى اظہار كے نام پر دوسروں كى ذاتيات ميں مخل ہونے ، ان كے مذہبى جذبات كو مجروح كرنے اور ان كى مقدسات كا مذاق اڑانے كى اجازت قطعا نہیں دى جا سكتى۔  بحيثيت ايك مسلمان اور پاكستانى ميرے ليے بہت دكھ كا مقام ہے كہ اسلام اور دوقومى نظريے کے حامى ہونے كا دعوى كرنے والے ايك نظرياتى اشاعتى گروپ کے  آرگن اخبار ...