اشاعتیں

خالد علیم لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اب اپنے اپنے مقامات میں ہیں کھوئے ہوئے

اب اپنے اپنے مقامات میں ہیں کھوئے ہوئے جو ایک خون کے رشتے میں تھے پروئے ہوئے خلا کے دشت میں گرم سفر ہے قریۂ خاک بدن میں اپنے زمانوں کا غم سموئے ہوئے اجاڑ دے نہ کہیں آنکھ کو یہ ویرانی گزر گئی ہے اب اک عمر کھل کے روئے ہوئے تم اپنا وار سلامت رکھو کہ ہم نے بھی یہ طور دیکھے ہوئے ہیں، یہ دکھ ہیں ڈھوئے ہوئے کبھی کبھی یہ چراغ آسماں کے دیکھتے ہیں ہماری آنکھ میں یادوں کے زخم دھوئے ہوئے کھڑے تھے ہم سر ساحل یہ دیکھنے کے لیے کہ باخبر ہیں کہاں کشتیاں ڈبوئے ہوئے ​ خالد علیم

ترے فراق کا غم ہے مجھے نشاط انگیز

ترے ﷺفراق کا غم ہے مجھے نشاط انگیز یہی ہے راہرو شوق کے لیے مہمیز اسی کے نم سے ہے باقی مری نگاہ کا نور اسی کے سوز سے ہے سازِ دل نوا آمیز اسی کا جذبِ خوش آہنگ ہے نظر میں کہ آج مرا کدو ہے مئے سلسبیل سے لبریز مرے کلام میں تاثیر اسی کے دم سے ہے اسی سے فکر کی بنجر زمین ہے زرخیز خالد علیم