اشاعتیں

تاریخ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دائیں اور بائیں بازو میں سیاسی عدم برداشت پر ایک تبصرہ

حیرت ہے کہ ابوبکر قدوسی صاحب کن "گڈ اولڈ ڈیز" کا ذکر کرتے ہیں جس میں "ہمارے" لوگ علمی اختلافات کے ساتھ چلتے رہتے تھے اور ایک دوسرے کو جماعت سے خارج نہیں کرتے تھے؟   جہاں تک میرا مطالعہ ہے ہم نے انگریز، ہندوؤں اور سکھوں کو نکال کر ملک پاک کیا، اس کے بعد بنگالیوں کو نکالا، اس کے بعد دائیں بازو کی جماعتیں ہوں یا بائیں بازو کی ہر جماعت سے لوگوں نے ایک دوسرے کو نکالا ،نتیجتا ہر جماعت سے دس بیس جماعتیں اورہر شوری سے امیر پہ امیر نکلے۔ جب پورے ملک میں یہ وبا ہے تو اسی مزاج کی تربیت اہل حدیث کے "شاہین بچوں" کی بھی ہوئی۔ ہم نے کس دن نوجوانوں کی ایسی تربیت کرنے کا سوچا کہ وہ ایسے گمراہ ہاتھوں میں نہ پڑیں؟ یہ جو جذباتی لڑکے یہاں وہاں علما پر تنقید کرتے ہیں، اور مدرسے کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھی مجتہد بن جاتے ہیں، یہ انہی جماعتوں کی تربیت ہے۔ ان جماعتوں سے بازو ٹوٹتے ہیں اور امیبا کی طرح ایک نئی جماعت بن جاتی ہے۔ دو ڈھائی سو مذہبی جماعتوں کی تعداد روز افزوں ترقی پر ہے تو سبب یہی عدم برداشت ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ مذہبی رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہماری اتنی طویل و عریض جماع...

علامہ اقبال کے حضور

علامہ اقبال کے حضور  تحریر: پروفیسر حکیم   عنایت اللہ نسیم سوہدروی علیگ مارچ۲۷ ء کا وہ دن میری زندگی کا ایسا دن تھا جس کی چاندنی آج بھی میرے محسوسات کو جگمگائے ہوئے ہے ۔ یہ وہ دن تھا جب مجھ ایسے ہیچمدان کو زندگی میں پہلی بار نابغہءروزگار حکیم الامت علامہ اقبال کے حضور حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ راقم ان دنوں علی گڑھ   مسلم یونیورسٹی   طبیہ کالج   میں زیر تعلیم تھا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملتِ اسلامیہ کے دلوں میں قادیانیوں کے دل آزار و خود ساختہ معتقدات اور ان کی ژاژ خائیوں کے باعث اشتعال وبیزاری کا ایک طوفان برپا تھا اور پورے برعظیم میں نفرت کی فضا تھی ۔ پنجاب میں انجمن حمایتِ اسلام لاہور  نے اپنے ایک اجلاس میں جو علامہ اقبال رح کی صدارت میں ہوا باضابطہ اعلان کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر انجمن کے اداروں سے الگ کر دیا تھا ۔ پنجاب کے بعد علی گڑھ میں بھی طلبہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے اور الگ کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا اور اس سلسلے میں مولانا ظفر علی خان   اور سید عطاءاللہ شاہ  بخاری جیسی قومی شخصیات ...

تقسیم سے قبل کانگریس کی مسلم دشمنی

جناب قدرت اللہ شہاب ان افراد ميں سے ہیں جو تقسيم ہند سے قبل اور بعد سول سروس سے منسلك رہے۔ تقسيم سے قبل اڑیسہ میں ڈپٹی سيكرٹرى تھے۔ اپنی خود نوشت ميں ان ايام كا ذكر كرتے ہوئے لکھتے ہیں : " اس بار جو ميں نے چیف منسٹر ( اڑیسہ، شرى ہری کرشن مہتاب کانگرسی) كےكاغذات كا جائزہ ليا تو ان ميں ايك عجب دستاويز ہاتھ آئى ۔ یہ چھ سات صفحات كا سائيكلو سٹائلڈ انتہائى خفيہ ( Top Secret) حكم نامہ تھا جو كانگرسى چیف منسٹروں كے نام اس ہدايت كے ساتھ جارى كيا گیا تھا كہ ہر چیف منسٹر اسے اپنی ذاتى تحويل ميں رکھے۔ اس ميں لکھا تھا كہ تقسيم ہند كا معاملہ تقريبا طے پا چكا ہے اس لئے جن صوبوں ميں كانگریس كى وزارتيں قائم ہیں وہاں پر مسلمان افسروں كو كليدى عہدوں سے تبديل كر ديا جائے۔خاص طور پر ہوم ڈپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور پريس ڈیپارٹمنٹ ميں با اعتماد ہندو افسروں كو تعينات كيا جائے۔ ڈی- سی، آئى - جى اور ايس - پی عموما ہندو ہوں۔تھانوں کے انچارج بھی زيادہ سے زيادہ ہندو ہوں ۔محكمہ پولیس اور ضلعى انتظاميہ ميں مسلمانوں كو فيلڈ ورك سے ہٹا كر بے ضرر قسم كے دفترى كام كاج ميں لگا ديا جائے۔ پولیس كى نفرى ميں مسل...