اشاعتیں

اعجاز رحمانی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہم نے تجدیدِ زندگی کر لی

ہم نے تجدیدِ زندگی کر لی  اپنے دشمن   سے دوستی   کر لی  بجھ گئے جب ہوا سے گھر کے چراغ ہم نے اشکوں سے روشنی   کر لی تیری تصویر نے کمال کیا چپ رہی اور بات بھی کر لی شہر میں آ گئے ہیں کس کے قدم  ساری بستی نے خود کشی کر لی دیکھ کر وقت کے خداؤں کو  ہم نے خود اپنی بندگی کر لی اب کسی راہ زن کو ڈھونڈیں گے رہبروں نے تو رہبری کر لی کچھ خبر تو ہے تجھے دل ناداں  تو نے کس سے برابری کر لی اب نہ آئیں گے تیری باتوں میں دل بہت تو نے دِل لگی کر لی دیکھیے کیا صلہ ملے اعجازؔ زندگی بھر تو شاعری کر لی شاعر: اعجازؔ رحمانی ​

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں دِیا جلا کے سرِشام چھوڑ آیا ہوں ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے میں اپنے گھر کے دروبام چھوڑ آیا ہوں ​ ​ کوئی چراغ سرِرہ گزر نہیں نہ سہی میں نقشِ پا تو بہ ہر گام چھوڑ آیا ہوں یہ کم نہیں ہے وضاحت میری اسیری کی پروں کے رنگ تہِ دام چھوڑ آیا ہوں ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے  میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں مجھے جو ڈھونڈنا چاہے وہ ڈھونڈ لے اعجاز کہ اب میں کوچہ گمنام چھوڑ آیا ہوں ​ شاعر:   اعجاز رحمانی ​

امن و اخوت عدل ومحبت وحدت کا پرچار کرو

امن   و اخوت   عدل ومحبت وحدت   کا پرچار کرو انسانوں کی اس نگری میں انسانوں سے پیار کرو آگ کے صحراؤں سے گزرو، خون کے دریا پار کرو جو رستہ ہموار نہیں ہے، اس کو بھی ہموار کرو دین بھی سچا تم بھی سچے، سچ کا ہی اظہار کرو تاریکی میں روشن اپنی عظمت کے مینار کرو نفرت کے شعلوں کو بجھا دو، پیار کی ٹھنڈی شبنم سے  ہم دردی کی فصل اگاؤ، صحرا کو گل زار کرو سچے روشن حرف لکھو، یہ ظلمت خود کٹ جائے گی اپنے قلم کو تِیشہ کر لو، لہجے کو تلوار کرو عزت، عظمت، شہرت یارو دامن میں اسلام   کے ہے وقت یہی ہے سنگ زنوں کو آئینہ کردار کرو دنیا ہو یا دین کی منزل یکجہتی سے ملتی ہے وحدت کا پیغام سنا کر ذہنوں کو بے دار کرو انساں کو راحت نہ ملے گی، دنیا بھر کے "ازموں" سے  اس دنیا میں نافذ لوگو حکم شہ ابرارﷺ کرو سرخ سمندر والی لہریں دور بہا لے جائیں گی  ہوش میں آؤ سبزہلالی پرچم کو پتوار کرو سورج بننا مشکل ہے تو جگنو ہی بن جاؤ تم  بھائی ہو تو بھائی کی خاطر اتنا تو ایثار کرو  کچھ تو اپنے ہمسائے سے پیار کا رشتہ رہنے دو اعجاز اپنے گھر کی اونچی اتن...

عشقِ محمدی کی جو توفیق چاہیے

عشقِ محمدی کی جو توفیق چاہیے  انساں کے دل میں جذبہء صدیق چاہیے  تعلیمِ مصطفی  ﷺ کا تقاضا یہی تو ہے  اسلام اور کفر میں تفریق چاہیے  اسرارِ کائنات معمہ نہیں کوئی  قرآن کہہ رہا ہے کہ تحقیق چاہیے  فرد عمل تو ہو گی جبھی قابل قبول  اللہ کے رسول  ﷺ کی تقدیس چاہیے  مانا کہ پرکشش ہیں خدوخالِ ظاہری  اوصافِ باطنی کی بھی تخلیق چاہیے  اعجاز قصدِ کوئے محمد ﷺ تو ہے مگر  اللہ کی طرف سے بھی توفیق چاہیے  اعجاز رحمانی ​

وہ ایک نام جو سرمایہء حیات بھی ہے

وہ ایک نام جو سرمایہء حیات بھی ہے  وہ ایک ذات جو محبوبِ کائنات بھی ہے   ہر ایک رُخ سے ہے کامل حضورﷺ کی سیرت اجل کا ذکر بھی ہے زندگی کی بات بھی ہے  پہنچ سکا نہ کوئی اور مصطفی ﷺکے سوا  وہاں کہ ختم جہاں حدِّ کائنات بھی ہے  ہزار صبحیں تصدّق ہیں جس کی عظمت پر  تری ﷺ حیات میں شامل وہ ایک رات بھی ہے نویدِ خلد یہاں ہر قدم پہ ملتی ہے  نبی ﷺ کی راہ گزر ہی رہِ نجات بِھی ہے  درِ رسولﷺ پہ سجدہ گزارنے والو بجز خدا کوئی حلاّلِ مشکلات بھی ہے ؟  عبث ہے خواب میں ارمانِ دیدِ شاہِ امم دل و نگاہ میں ربطِ مواصلات بھی ہے  میں کس سے پوچھوں یہ اعجاز مصطفی ﷺ  کے سوا کہ میرا شعر کوئی وجہِ التفات بھی ہے  شاعر: اعجاز رحمانی کلام شاعر بزبان شاعر 

باعثِ رحمت ذکر ہے ان ﷺ کا اسمِ گرامی راحتِ جاں

باعثِ رحمت ذکر ہے ان ﷺ   کا اسمِ گرامی راحتِ جاں مدح ِمحمد ﷺدل کی تڑپ ہے اور یہی ایمان بھی ہے محسن ِاعظم، رحمتِ عالم ،خُلقِ مجسم ،حسنِ اتم شاہ ِامم کے بعد بتاو اور کوئی انسان بھی ہے دنیا میں ہم اور کسی کی کاہے کو تقلید کریں پاس ہمارے سرورِ دیں ﷺ کے قول بھی ہیں قرآن بھی ہے بدر و احد کا میداں بھی ہے امن وسکوں کی وادی بھی پیروئ سرکار دو عالم ﷺمشکل بھی آسان بھی ہے کیوں نہ لکھیں ہم ان کے قصیدے کیوں نہ پڑھیں ہم ان پہ درود مدحِ شہِ ابرارﷺ ہماری بخشش کا سامان بھی ہے ہم بھی تو اعجاز سرِفہرست ہیں ایسے لوگوں میں کوئی عمل دامن میں نہیں اور جنّت کا بھی ارمان بھی ہے شاعر : اعجاز رحمانی

ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں

ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں قولِ نبیﷺ دلیلِ قرآن بن گئے ہیں تعلیمِ مصطفی ﷺنے ایسا شعور بخشا جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں آدم سے تا بہ عیسی ، عیسی سے مصطفی ﷺتک اس داستاں کے کتنے عنواں بن گئے ہیں اسلام چاہتا ہے اس واسطے اخوت جب مل گئے ہیں قطرے طوفان بن گئے ہیں اخلاقِ مصطفی ﷺہیں کردار کی کسوٹی اقوالِ مصطفی ﷺسے میزان بن گئے ہیں کیا حشر اپنا ہو گا اعجاز روز محشر ہر بات جان کر ہم انجان بن گئے ہیں ​ شاعر: اعجاز رحمانی شاعر: اعجاز رحمانی 

سرطور کوئی جائے اسے آپ کیا کہیں گے

سرِ طور کوئی جائے اسے آپ کیا کہیں گے ؟  جسے خود خدا بلائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو ہوا کا رخ بدل دے ہمیں دعوتِ عمل دے  جو شعور کو جگائے اسے آپ کیا کہیں گے  شب وروز دشمنوں کو جو دعاوں سے نوازے  جو ستم پہ مسکرائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو کرے کلام رب سے وہ لقب کلیم پائے  جو کلامِ رب سنائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو مریض کو شفا دے اسے کہتے ہیں مسیحا  جو مسیحا کو بچائے اس آپ کیا کہیں گے  جو خطا معاف کردے وہ خدائے لم یزل ہے جو خطائیں بخشوائے اسے آپ کیا کہیں گے  وہ خدا ہے خلق جس نے کیا گلشن دو عالم  جو بہار بن کے آئے اسے آپ کیا کہیں گے  کوئی اس کی عظمتوں کی نہ مثال ہے نہ ہو گی  جو خدا سے مل کے آئے اسے آپ کیا کہیں گے  جو قمر کو توڑتا ہو جو دلوں کو جوڑتا ہو  جو یہ معجزے دکھائے اسے آپ کیا کہیں گے  وہ ہے کون مہربانی جو کرے کسی کسی پر  وہ جو سب کے کام آئے اسے آپ کیا کہیں گے  جو خدا سے دور کر دے اسے کیا کہیں گے اعجاز  ہمیں رب سے جو ملائے اسے آپ کیا کہیں گے  اعجاز رحمانی...