اشاعتیں

حدیث لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

روزہ افطار کرنے کی دعا

تصویر
روزہ افطار کرنے کی مستند دعا 

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ ” تم میں سے کوئی بھی رمضان سے ایک یا دو دن قبل روزہ نہ رکھے الا کہ اگر کوئی شخص کسی دن کا روزہ رکھتا ہو تو وہ اس دن کا روزہ رکھ لے ” ۔   [ صحیح بخاری کتاب الصوم باب لا یتقدم رمضان بصوم یوم ولایومین (1914) ] یعنی اگر کوئی شخص سو موار اور جمعرات کا روزہ باقاعدگی سے رکھتا ہے اور یہ دن رمضان سے ایک دن قبل آجائے تو ایسے شخص کے لیے یہ روزہ رکھنا جائز ہے ۔ لیکن خاص طور پر 'استقبال رمضان' کی غرض سے شعبان کے آخری ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا ممنوع ہے۔

شوہروں کے فضائل میں مشہور اسلامی صوفی قصے پہلی قسط

سوشل میڈیا پر خواتین کو اچھی بیویاں بنانے کے لیے مشہور اسلامی صوفی   قصوں کو سلسلہ وار یہاں پیش کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ قرآن وحدیث میں نیک بیوی  کی مستند صفات موجود ہیں۔ ان سے ہٹ کر بے سروپا قصوں کو اسلامی تعلیمات بتانا درست نہیں۔ یہی اس تحریر کا مقصد ہے۔ پہلا قصہ: شوہر کا بیوی پر اتنا حق ہے کہ اگر شوہر کے جسم پر پھوڑا نکل آئے اور بیوی اس کی پیپ چاٹ کر صاف کرے تو بھی حق ادا نہ ہو۔ تبصرہ: یہ ایک منکر روایت ہے کہ جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم بابنة له فقال : يا رسول الله ، هذه ابنتي قد أبت أن تزوج . فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم : أطيعي أباك . فقالت : والذي بعثك بالحق لا أتزوج حتى تخبرني ما حق الزوج على زوجته ؟ قال : حق الزوج على زوجته أن لو كانت له قرحة فلحستها ما أدت حقه ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس اپنی بیٹی لے کر آیا اور کہا: یہ میری بیٹی ہے جو نکاح سے انکار کر رہی ہے۔ نبی ﷺ نے اس سے کہا۔ اپنے باپ کی بات مانو۔ لڑکی نے کہا: اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ میں تب تک شادی نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے نہ بتائیں کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے۔ آپ نے ف...

فوت شدہ لوگ قبر پر آنے والوں کو عریاں دیکھتے ہیں

 بعض لوگ کہتے ہیں  حدیث  میں آیا ہے کہ  فوت شدہ  لوگ قبر پر آنے والوں کو  عریاں  حالت میں دیکھتے ہیں۔ اس لیے عورتوں کو قبرستان  جانا منع ہے۔ اسلام میں  خواتین  کو کبھی کبھار قبرستان جانے کی اجازت ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اسلامی لباس اور آداب کا خیال رکھیں۔ جس کی تفصیل  یہاں  ذکر ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کوئی حدیث ہے کہ  فوت  شدہ لوگ قبر پر آنے والوں کو عریاں دیکھتے ہیں؟ اول : ایسی کوئی حدیث شریف حدیث کے کسی قابل ذکر مصدر (سورس) میں درج نہیں ۔ایسا دعوی کرنے والوں کو حوالہ دینا واجب ہے۔ دوم: اگر یہ بات درست ہوتی تو مردوں کا بھی قبر پر جانا منع ہوتا کیوں کہ شریعت اسلامیہ نے مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے بدن کا پردہ فرض کیا ہے۔ پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا تنظر المرأة إلى عورة المرأة ترجمہ: کوئی مرد کسی مردکے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی  عورت  کسی عورت  کے ستر کو نہ دیکھے۔ (صحیح مسلم) یاد رہے کہ عورتوں کا پورا جسم ستر ہے اور مردوں کا ستر ناف ...

قرآ ن و حدیث میں تحریف جائز نہیں چاہے تبلیغ کی خاطر ہو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعض لوگوں میں تبلیغ کا جذبہ ہوتا ہے لیکن ضروری علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دلائل معلوم نہیں ہوتے۔ بجائے حصول علم کی صبر آزما مشقت کے وہ آسان راستہ منتخب کرتے ہیں۔ تبلیغ کے نیک مقصد کی خاطر جھوٹ بولنے، تحریف   کرنے کا راستہ۔ آپ کو ایسے بہت سے مذہبی افراد ملیں گے جو یہ معلوم  ہونے کے بعد بھی کہ ان کی بیان کی گئی روایت جھوٹی ہے اسے پھیلانے سے باز نہیں آتے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ چاہے جھوٹی روایت ہے لیکن لوگوں پر اثر بہت کرتی ہے۔ یہ تبلیغی تجارت ہے جو چیز عوام میں ہاتھوں ہاتھ بکے گی وہ اس کو ضرور بیچیں گے۔  تبلیغ کے اسی ناپختہ تصور کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ گئی کہ لوگ قرآنی آیات اور احادیث کی معنوی تحریف سے بھی باز نہیں آ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تبلیغ میں انوکھی باتیں کریں جو عوام نے ان سے پہلے کسی مبلغ سے نہ سنی ہوں۔ اسی دوڑ میں آیات و احادیث کا من مرضی کا ترجمہ   ہو رہا ہے۔کسی حدیث کا درست معنی کیا ہے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں۔  سنن ابی داود کی ایک حدیث شریف ہے: لَا يَقْبَلُ اللّہ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ۔ تر...

مسجد سے دوری کے غم میں رونے والے کنکر۔۔۔ نرالے سوالی (6)

ایک بزرگ سے کسی نے کہا: میں نے سنا ہے کہ حدیث میں آیا ہے جب انسان مسجد میں سجدہ کرتا ہےتواس کی پیشانی سے مسجد کی مٹی کے ذرے چپک جاتے ہیں۔ جب وہ مسجد سے نکل کر جاتا ہے تو وہ ذرے مسجد کی دوری کی غم میں روتے چلاتے ہیں۔ بتائیے میں ان ذرات کا کیا کروں؟  بزرگ نے فرمایا: ان کو چیخنے دو یہاں تک کہ ان کا حلق پھٹ جائے ! سوالی نے کہا: تو کیا ان کا حلق بھی ہوتا ہے؟ بزرگ نے جواب دیا: تو پھر بھلا وہ کہاں سے چیختے ہیں؟ 

حج و عمرہ بار بار کرو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان ہر مجوسی فلسفے کا جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ذی الحجہ کے پہلے دس دن سال کے افضل ترین دن ہیں، ایک مومن ان دنوں میں جو روحانی لذت محسوس کرتا ہے اس کا دل بھی گواہی دیتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ ہر طرف ایک اللہ کی عبادت کرنے والے نیکیوں کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، کوئی قربانی کے جانور تلاش کر رہا ہے کوئی احرام پہن کر اپنے رب کے گھر کی جانب پروانہ وار لپک رہا ہے، کسی کو صدقات میں دل کا سکون مل رہا ہے تو کوئی روزے رکھ کر پچھلے اور اگلے سال کے گناہوں کی بخشش کا طالب ہے۔ نیکیوں کے اس موسم بہار میں کچھ بدباطن لوگوں کی پرانی تکلیف جاگ جاتی ہے۔ مجوسی سلطنت کے احیا کا خواب جو اب بوسیدہ ہو کر تار تار ہو چکا ہے لیکن اس کے متروک بدبودار فلسفے اب بھی اتنی ہی شدت سے دہرائے جاتے ہیں۔ مجوسیوں کو سب سے زیادہ تکلیف حرم کی رونق سے ہوتی ہے، وہ رونق جو ہر مومن کی آنکھ کی ٹھنڈک ہے ان کی آشوب زدہ آنکھوں میں خار بن کر کھٹکتی ہے۔ دنیا اولمپک گیمز کے لیے جمع ہو تو ان کے منہ سے ستائش کے ڈونگرے برستے ہیں، نہ پیسے کے ضیاع کا خیال آتا ہے نہ یہ یاد رہتا ہے کہ غریب کا تن ننگا ...