اشاعتیں

تصویر لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مسئلہ مبارک اور نامبارک تصویر کا!

کل ایک مرد داعی کا سٹیٹس دیکھا جنہوں نے بڑے درد بھرے الفاظ میں بہنوں کو تصاویر شئیر کرنے سے منع کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی اپنی مبارک تصویر ساتھ ہی لگی تھی۔ مرد حضرات کچھ بھی کر لیں وہ نمونہ اسلام ہی رہتے ہیں۔ ان سے سوال کرنے والی ضرور فیمینسٹ ہوتی ہیں۔

مرد مسلمان کا ذوق نظر

 سنا کرتے تھے کہ بھلے زمانوں کے مسلمان مرد   کسی کافرعورت   کو بھی مصیبت میں دیکھتے تو اس کو چادر   سے ڈھانپ دیتے تھے۔ اب  مرد مسلم   نے بہت ترقی کر لی ہے۔ ٹی وی، موبائل، کمپیوٹر، ٹیبلٹ کی رنگین سکرینوں پر ہر قسم کی عورت   دیکھنے کو میسر ہے، کالی ، گوری، زرد، موٹی، پتلی، لمبی، ٹھگنی، لیکن پھر بھی اس کا نظربازی کا شوق پورا ہو کر نہیں دے رہا۔ فلمی اداکارہ اور عام عورت کی تمیز مٹ گئی ہے۔ مسلم   ممالک میں کسی دھماکے کے بعد پریشان حال زخمی عوتوں کی  تصویریں ہوں یا کالج کی معصوم لڑکیوں کا گروپ فوٹو، ہر عمر ہر نسل کی صنف مخالف مسلم نوجوانوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔ ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے انہوں نے تصویر   بنوائی کیوں؟ یہ  خیال شاید ہی آئے کہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے جہاں اپنی نظروں کا حساب دینا ہے صنف مخالف کےلباس   کا نہیں۔ آج کل برما   (اراکان) کی آفت زدہ، اور بے حال خواتین کی نیم برہنہ   وڈیوز بہت تیزی سے شئیر ہو رہی ہیں۔ یہ مظلوم کی حمایت کا نیا انداز ہے۔ سچ ہےہوس   بڑھتی جا...

میری تصویر شئیر کرنا حلال، تمہاری تصویر شئیر کرنا حرام

جب سے ہمارے مرد   داعیانِ اسلام کے نزدیک کیمرے والی (اور اب تو ہر قسم کی۔۔۔ یقین نہ آئے تو قرآنک السٹریشنز دیکھ لیں ) تصویر  حلال ہوئی ہے وہ اپنی ہر تیسری سٹیٹس  اپ ڈیٹ ،ٹویٹ، بلاگ پوسٹ وغیرہ میں  تازہ تصویر بھی شامل فرما دیتے ہیں، ان کے فین اسے شئیر فرما کر ثواب دارین حاصل فرماتے ہیں۔ بھائیوں کو نیکی کی راہوں میں آگے نکلتے دیکھ کر بہنیں بھی ان کی اقتدا میں باپردہ تصویریں شئیر کرنے لگیں ۔ تب داعیانِ اسلام نے اجتہاد کیا نتیجہ یہ نکلا کہ :" میری تصویر شئیر کرنا حلال اور تمہاری تصویر شئیر کرنا حرام! " بازیچہء اطفال ہے دنیا مرے آگے!