اشاعتیں

مسلمان لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کیا داڑھی رکھنا سب مسلمانوں پر فرض ہے۔ نرالے سوالی (8)

شیخ یوسف ایسٹس سے کسی نے پوچھا: کیا سب مسلمانوں کو لازمی داڑھی رکھنی پڑتی ہے؟ جواب دیا: سب کو نہیں، لڑکیوں کو تو بالکل نہیں ! "Do Muslims have to grow a beard?" - Not all of them . . . . . not the girls!

مرد مسلمان کا ذوق نظر

 سنا کرتے تھے کہ بھلے زمانوں کے مسلمان مرد   کسی کافرعورت   کو بھی مصیبت میں دیکھتے تو اس کو چادر   سے ڈھانپ دیتے تھے۔ اب  مرد مسلم   نے بہت ترقی کر لی ہے۔ ٹی وی، موبائل، کمپیوٹر، ٹیبلٹ کی رنگین سکرینوں پر ہر قسم کی عورت   دیکھنے کو میسر ہے، کالی ، گوری، زرد، موٹی، پتلی، لمبی، ٹھگنی، لیکن پھر بھی اس کا نظربازی کا شوق پورا ہو کر نہیں دے رہا۔ فلمی اداکارہ اور عام عورت کی تمیز مٹ گئی ہے۔ مسلم   ممالک میں کسی دھماکے کے بعد پریشان حال زخمی عوتوں کی  تصویریں ہوں یا کالج کی معصوم لڑکیوں کا گروپ فوٹو، ہر عمر ہر نسل کی صنف مخالف مسلم نوجوانوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔ ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے انہوں نے تصویر   بنوائی کیوں؟ یہ  خیال شاید ہی آئے کہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے جہاں اپنی نظروں کا حساب دینا ہے صنف مخالف کےلباس   کا نہیں۔ آج کل برما   (اراکان) کی آفت زدہ، اور بے حال خواتین کی نیم برہنہ   وڈیوز بہت تیزی سے شئیر ہو رہی ہیں۔ یہ مظلوم کی حمایت کا نیا انداز ہے۔ سچ ہےہوس   بڑھتی جا...

ہم کیسے مسلمان ہیں کیسے مسلمان

ہے خوف خدا دل ميں نہ تو غيرت ايمان  ہم کیسے مسلمان   ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ دنيا كى ہميں فكر ہے عقبى كا نہیں دھيان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ ہم صرف سنا كرتے ہیں مسجد كى اذانيں  ہوتى ہی نہیں ہم سے ادا پانچ نمازيں آباد ہمارے ہیں مكان ، مسجديں ويران  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ مايوس نظر آتے ہیں مسجد كے منارے آتا ہی نہیں كوئى مؤذن كے پكارے منبر پر ہے خاموشى تو محراب ہیں سنسان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ دنيا كى خرافات ميں مغرور ہوئے ہیں ہم لوگ تلاوت سے بہت دور ہوئے ہیں گھر گھر نظر آتے ہیں طاقوں ميں قرآن  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ ہونٹوں پہ نہیں اب ہیں دين كے ترانے  ذہنوں ميں گونجتے ہیں فقط فلموں كے گانے شيطان كے پابند ہوئے آج مسلمان  ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ كيا سنت   سركار (ص) ہميں ياد نہیں ہے؟ اصحاب كا كردار ہميں ياد نہیں ہے؟ اب دل ميں كہاں جذبہ ء فاروق وعثمان؟ ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟ رسم و رواج ميں سب انسان ہیں ڈوبے دولت كى فراونى ميں ال...

تقسیم سے قبل کانگریس کی مسلم دشمنی

جناب قدرت اللہ شہاب ان افراد ميں سے ہیں جو تقسيم ہند سے قبل اور بعد سول سروس سے منسلك رہے۔ تقسيم سے قبل اڑیسہ میں ڈپٹی سيكرٹرى تھے۔ اپنی خود نوشت ميں ان ايام كا ذكر كرتے ہوئے لکھتے ہیں : " اس بار جو ميں نے چیف منسٹر ( اڑیسہ، شرى ہری کرشن مہتاب کانگرسی) كےكاغذات كا جائزہ ليا تو ان ميں ايك عجب دستاويز ہاتھ آئى ۔ یہ چھ سات صفحات كا سائيكلو سٹائلڈ انتہائى خفيہ ( Top Secret) حكم نامہ تھا جو كانگرسى چیف منسٹروں كے نام اس ہدايت كے ساتھ جارى كيا گیا تھا كہ ہر چیف منسٹر اسے اپنی ذاتى تحويل ميں رکھے۔ اس ميں لکھا تھا كہ تقسيم ہند كا معاملہ تقريبا طے پا چكا ہے اس لئے جن صوبوں ميں كانگریس كى وزارتيں قائم ہیں وہاں پر مسلمان افسروں كو كليدى عہدوں سے تبديل كر ديا جائے۔خاص طور پر ہوم ڈپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور پريس ڈیپارٹمنٹ ميں با اعتماد ہندو افسروں كو تعينات كيا جائے۔ ڈی- سی، آئى - جى اور ايس - پی عموما ہندو ہوں۔تھانوں کے انچارج بھی زيادہ سے زيادہ ہندو ہوں ۔محكمہ پولیس اور ضلعى انتظاميہ ميں مسلمانوں كو فيلڈ ورك سے ہٹا كر بے ضرر قسم كے دفترى كام كاج ميں لگا ديا جائے۔ پولیس كى نفرى ميں مسل...