اشاعتیں

ارمغان حرم لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تیرے اِیما پہ ہے موقوف ارادہ میرا

حمد تیرے اِیما پہ ہے موقوف ارادہ میرا تیرے محبوبؐ کا دِیں منزل و جادہ میرا میرے سانسوں سے تیرے نام کی خوش بو آئے حمد و مدحت میں کٹے وقت زیادہ میرا میرے باطن کو بھی اُجلا میرے مولا کر دے جس طرح صاف ہے ظاہر کا لبادہ میرا مخزنِ غیب سے وافر ہو میسر روزی بہرِ ایثار و سخا دِل ہو کشادہ میرا اپنا عرفاں بھی عطا تونے کیا ہے ورنہ سنگ پاروں پہ فِدا تھا دلِ سادہ میرا تُو ہی جانے میری ذات کا مصرف کیا ہے میری نظروں سے تو اوجھل ہے افادہ میرا یہ بھی ایقانِ کرم کی ہے علامت راسخ دل گناہوں میں جو کرتا ہے اعادہ میرا ​ شاعر: راسخ عرفانی از: ارمغانِ حرم انتخاب و طباعت ناچیز 

ماورا فکر و تخیل سے ہے پیکر تیرا​

ماورا فکر و تخیل سے ہے پیکر تیرا​ کیسے اک جھیل میں اترے گا سمندر تیرا ​ تیری عظمت کے نشانات ہیں کتنے روشن​ تابعِ حکم ہے خورشیدِ منور تیرا ​ آمدِ صبح کا جب دیتی ہے پیغام صبا​ ذکر ہوتا ہے گلی کوچہ میں گھر گھر تیرا ​ ثبت ہے جس پہ ابراہیمؑ کی مہرِ تعمیر​ ہم نے سجدوں سے بسایا ہے وہ محور تیرا ​ مدح خواں تیرے ہیں پیغمبرؐ مکی مدنی​ کیوں نہ لیں نام وضو کر کے سخنور تیرا ​ صحنِ کعبہ میں کہیں نصب مجھے بھی کر دے​ سنگِ اسود بھی تِرا میں بھی ہوں پتھر تیرا ​ پھر شرف تجھ کو ملا دیدِ حرم کا راسخ​ اوجِ گردوں پہ چمکتا ہے مقدر تیرا ​ شاعر: راسخ عرفانی از : ارمغانِ حرم انتخاب : ناچیز