اشاعتیں

زبان لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مسٹر جدیدالاسلام

نو مسلم کو فارسی میں جدیدالاسلام کہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی یتیم خانے یا مدرسے کا نام ہے جسے قربانی کی کھالیں دے کر ثواب دارین حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی کو نومسلم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے ایمان کی پختگی اور عبادات میں شدیدالعمل ہونے کی گواہی دی جا رہی ہے۔ مسٹر جدیدالاسلام کے بارے میں شبہ ہوتا ہے کہ فیشن کے طور پر اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ جونہی فیشن بدلا یہ اسلام سے باہر یا بیزار ہو جائیں گے۔ جدید ہونے کی وجہ سے ان کے بنیاد پرست یا جہاد پسند ہونے کا کوئی امکان نہیں۔   ( مختار مسعود: لوحِ ایام، ص 413 ) ​

انگریز کے یرغمالی

افضل جوزف كے گھر کے قريب ڈاكٹر ماہ گرفتہ كا گھر ہے۔ سيٹھی کے فليٹ كى سيڑھیوں كے ساتھ لقمہ ء لذيذ نام كا ايك چھوٹا سا ريستوران واقع ہے۔ خواجہ نعيم كے گھر جاتے ہوئے جوتوں کی دكان كے بورڈ پر نظر پڑی۔ نام ہے برہنہ پاہا۔ ننگے پاؤں۔ مرزا صاحب كے گھر كے راستہ ميں بجلی كے ليمپ اور فانوس بیچنے والے نے دكان كا نام چراغ ونور ركھا ہوا ہے۔ محمود اور شميم كے گھر کے پاس زمين دانش گاہ يعنى يونيورسٹی کیمپس واقع ہے جہاں ہر طرح كے لوگ پائے جاتے ہیں۔ دانش جو دانش پرور، دانش پرست، دانشور، دانشى اور دانش دوست ۔ یہاں علم ودانش كے مراكز كو دانش گاہ، دانش كدہ، دانش سرا، دانش پناہ اور دانش آباد كہتے ہیں۔ يہ اہل دانش ٹھہرے۔ اگر ہمارى طرح انگريز كے يرغمالى ہوتے تو يہاں بھی قدم قدم پر يونيورسٹی ، كالج، اسكول، انسٹیٹیوٹ ، فيكلٹی ، ڈپارٹمنٹ اور بيورو كا جال پھیلا ہوتا۔   یہاں اس قسم كى بد مذاقى كى كوئى گنجائش نہیں ہے ۔ (مختار مسعود، لوح ایام) 

اللہ کا شکر ہے!

جہاز ميں عملہ تھا ہم تھے يا ايك انڈونیشی نوجوان، ہمارے ليے وہ واحد غير ملكى تھا کہ جس سے گفت وشنيد کے بہانے ہم سب تلاش كرتے رہتے تھے۔ نہ وہ ہماری زبان سمجھے نہ ہم اس کی، گویا : زبان يار من تركى ومن تركى نمى دانم ( ميرے دوست كى زبان تركى ہے اور مجھےتركى نہیں آتی ) البتہ وہ عربى كے کچھ الفاظ كہہ کر اپنا ما في الضمير بيان كر ديا كرتا تھا ۔ پوچھا کہ انڈونیشیا کیسا ملک ہے؟ كہنے لگا: في مسلم كثير الحمد للہ، وفي مساجد كثير الحمد للہ، ۔۔۔وفي سينما كثير الحمد للہ ! ( مسلمان بہت ہیں اللہ كا شكر ہے، مسجديں بہت ہیں اللہ كا شكر ہےاور سينما بہت ہیں اللہ كا شكر ہے ! ) اقتباس ڈاکٹر صھیب حسن کے سفر نامہ " ابن بطوطہ ہوا کرے کوئی " سے۔ ​