اشاعتیں

حیا لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ترقی کے ہیں عنوانات اور پستی کے منظر ہیں

زباں صدمے سے ہے خاموش ، آنکھیں میری پتھر ہیں  کبھی بازار گھر سے دور تھے ، اب گھر کے اندر ہیں  کہاں تک ارتقا کی بے لگامی دیکھ پائیں گے  ہم آزادی کے دیوانے پر اپنی حد کے اندر ہیں  ہمارے ہاتھ سے ٹوٹیں گے یہ بت نو تراشیدہ  صنم خانے کا حصہ ہیں مگر ہم ابن آذرؑ ہیں  نہ پاسِ ابن آدم ہے نہ حرمت بنت حوا کی  نشانِ بے لباسی ہیں کہ آزادی کے پیکر ہیں ؟ ہمیں تو پتھروں کا دور پھر محسوس ہوتا ہے  ترقی کے ہیں عنوانات اور پستی کے منظر ہیں  شاعر: فیصل عظیم 

مسئلہ عورت کی بے حیائی اور قرب قیامت کی نشانیوں کا

 آپ کو مسلمانوں میں ایسےایسے دین دار  لوگ ملیں گے جن کے نزدیک عورت کتاب تصنیف کر کے اس پر بطور مصنفہ اپنا نام چھپوائے تو ان کے نزدیک یہ ’’کھلی بے حیائی ‘‘ہے ۔ بلکہ بعض کے نزدیک یہ قرب قیامت کی نشانی بھی ہو سکتی ہے کہ "عورت ہو کر"کتاب لکھی جائے، لیکن اگر آپ قرب قیامت کی اس ہول ناک  نشانی کا مستند حوالہ پوچھ لیں تو وہ غضب ناک ہو کر آپ کو فورا مغربی مساوات سے متاثر قرار دے دیں گے۔