اشاعتیں

دین لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

محبت جو دل بدل دے

  رمضان المبارک قریب آنے پر ہر مسلمان روحانی لحاظ سے خاص قسم کی خوش گوار کیفیت سے گزرتا ہے۔ علوم اسلامیہ کی تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان دنوں لوگ  رمضان سے متعلق سوالات پوچھتے ہیں تو اہل اسلام کی اس مہینے سے محبت دیکھ کر اور بھی خوشی ہوتی ہے۔  شعبان کے  مبارک دن جب آپ اللہ سبحانہ وتعالی سے اس عظیم مہینے کی برکتوں تک پہنچنے کی دعا مانگ رہے ہوں اور گزشتہ رمضان کی حسین یادیں آپ کو اس سال مزید بہتر بننے کی کوشش کی ہمت دلا رہی ہوں، اس عالم میں آپ کو اچانک  طلبہ و طالبات سے ایسے سوالات موصول ہوں  جو  سوال کم اور معاشرے کے اخلاقی زوال کا اشارہ زیادہ ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے معطر فضا میں یکایک بدبو کا بھبکا آپ تک آ پہنچے۔ اس سے زیادہ دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ اتنے کم عمر،معصوم بچے اور بچیاں ایسے الم ناک مسائل کا شکار ہیں؟ وہ عمر جس میں والدین،تعلیمی ادارے اور درسی کتابیں ہی کل عالم ہوتی ہیں، اس میں انہوں نے کیسی فکریں پال لی ہیں؟ یہ ایک دن میں نہیں ہوا۔ ان کے والدین، اساتذہ،  علماء، حکمرانوں، تعلیمی اداروں اور  ذرائع ابلاغ نے نئی نسل کو یہاں پہن...

ایک جیسے بدنیت، ایک جیسا کھیل!

- " پاکستان   خطرے میں ہے   اسلام   کی وجہ سے، ملا   کو نکال باہر کرو"۔ - " اسلام خطرے میں ہے پاکستان کی وجہ سے،ہم تو پہلے ہی ڈرتے تھے یہ ملک نہ بنایا جائے !" پاکستان دشمن اور   اسلام دشمن، ایک جیسا کھیل، ایک جیسے دلائل، ایک جیسا شورشرابہ، ایک جیسے بدنیت ۔۔۔ کبھی آپ نے سوچا؟ اسلام کی   حفاظت   کے لیے پاکستان کو   گالی   دینا ضروری کیوں ہے؟ پاکستان کی حفاظت کے لیے اسلام کو گالی دینا ضروری کیوں ہے؟ خدا اسلام اور پاکستان سے بیک وقت محبت کرنے والوں کو میدان عمل میں آنے کی توفیق دے !

دائیں اور بائیں بازو کے چہیتوں کی گمشدگی

کچھ سال پہلے سوشل میڈیا   پر دائیں اور بائیں بازو کے انتہاپسندوں کو دیکھ کر خیال آتا تھا کہ " پاکستان میں بہت ہی زیادہ آزادی   ہے"۔ اللہ کا شکر ہے کہ 2015 تا 2016 میں ریاست کے ادارے کچھ جاگتے ہوئے نظر آئے، دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی، اہل وطن نے بہت عرصے بعد ایک پرامن موسم سرما کا لطف اٹھایا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر فسادیوں اور ملحدوں (دشمنان وطن و دشمنان دین) کی ویب سائٹس کا زور بھی کچھ کم ہوا۔ البتہ آج کل ایک نئی پراسرار لہر نے کئی لوگوں کو ٹھٹھرا کر رکھ دیا ہے۔ یہ لہر ہے گمشدگیوں کی۔ دائیں بازو کے لوگ ہوں یا بائیں بازو کے اپنے اپنے چہیتوں کی گمشدگی کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ افسوس کیا جا رہا ہے کہ صرف بات کرنے پر  لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افسوس ان پر ہے جو بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کسی وطن میں رہیں، اور اس کی سرحدیں گرانے کی دعوت بھی دیں، اس کے محافظوں کا مذاق اڑائیں، ان کی قربانیوں پر انگلیاں اٹھائیں، یا جو سمجھتے ہیں کہ وہ خود کو ایک دین کا نام لیوا ظاہر کریں اور پھر اس کے قوانی...

یہ تاجران دین ہیں

عجیب بات ہے کہ طاہر اسلام عسکری کذاب جیسے لوگ جو خود اپناعقیدہ نہیں جانتے، کبھی رافضیت کی طرف لڑھک جاتے ہیں، کبھی اعتزال کا چغہ پہن لیتے ہیں اور کبھی صرف جاہ پرستی شروع کر دیتے ہیں، آج محدث فورم پر بیٹھ کر دوسروں کا عقیدہ بتانے لگے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے نام پر چندے بٹور کر ادارے بناتے ہیں پھر اس میں بیٹھ کر لوگوں کی عزت اچھالتے ہیں، اپنی سماجی حیثیت کے زعم میں خاموشی سے کام کرنے والوں  کو پریشان کرتے ہیں، اللہ کی خاطر کام کرنے والوں کے دل پر کیا گزرتی ہے اتنا سوچنے کا ایسے مردہ دل ، بے حس لوگوں کے پاس وقت نہیں۔ یہ بے ضمیر مُلا ذاتیات کی خاطر انسانوں کے عقائد اور دین پر حملہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی غیر مشروط اطاعت کی جائے؟  یہ تاجرانِ دِین ہیں  خدا کے گھر مکین ہیں  ہر اِک خدا کے گھر پہ اِن کو اپنا نام چاہیے خدا کے نام کے عوض کُل انتظام چاہیے یہ نفس کے اسِیر ہیں  یہ لوگ بے ضمِیر ہیں ان جیسے بے ضمیروں کی وجہ سے  جو بھی ہو،اس بات سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کی تجارت چلتی رہے بہت ہے۔  یہ بات واضح ہو ...

امن و اخوت عدل ومحبت وحدت کا پرچار کرو

امن   و اخوت   عدل ومحبت وحدت   کا پرچار کرو انسانوں کی اس نگری میں انسانوں سے پیار کرو آگ کے صحراؤں سے گزرو، خون کے دریا پار کرو جو رستہ ہموار نہیں ہے، اس کو بھی ہموار کرو دین بھی سچا تم بھی سچے، سچ کا ہی اظہار کرو تاریکی میں روشن اپنی عظمت کے مینار کرو نفرت کے شعلوں کو بجھا دو، پیار کی ٹھنڈی شبنم سے  ہم دردی کی فصل اگاؤ، صحرا کو گل زار کرو سچے روشن حرف لکھو، یہ ظلمت خود کٹ جائے گی اپنے قلم کو تِیشہ کر لو، لہجے کو تلوار کرو عزت، عظمت، شہرت یارو دامن میں اسلام   کے ہے وقت یہی ہے سنگ زنوں کو آئینہ کردار کرو دنیا ہو یا دین کی منزل یکجہتی سے ملتی ہے وحدت کا پیغام سنا کر ذہنوں کو بے دار کرو انساں کو راحت نہ ملے گی، دنیا بھر کے "ازموں" سے  اس دنیا میں نافذ لوگو حکم شہ ابرارﷺ کرو سرخ سمندر والی لہریں دور بہا لے جائیں گی  ہوش میں آؤ سبزہلالی پرچم کو پتوار کرو سورج بننا مشکل ہے تو جگنو ہی بن جاؤ تم  بھائی ہو تو بھائی کی خاطر اتنا تو ایثار کرو  کچھ تو اپنے ہمسائے سے پیار کا رشتہ رہنے دو اعجاز اپنے گھر کی اونچی اتن...

وفا اور حکمت

قرآن مجید کی ایک خوب صورت آیت ہے : اپنے رب کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے دعوت دو۔  اس آیت کی من مانی تفسیر میں لوگ مداہنت کو بھی حکمت بتانے لگتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ حکمت ہے کیا ؟ حکمت کے لیے اب تک کوئی پیمانہ ایجاد نہیں ہوا ہے کہ کسی کے قول و فعل کو تول کر بتا دیا جائے اس میں اتنے اونس حکمت کم تھی یا زیادہ ۔  حکمت کے خود ساختہ پیمانوں کی بجائے اگر قرآن و سنت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے دین کے لیے غصہ کرنا عین حکمت ہے ۔ دین کہتا ہے جو جتنی طاقت رکھتا ہو اسے برائی سے روکنے میں استعمال کرے ، زبان ہے تو زبان سے، توانا ہے تو ہاتھ سے ، اور صاحب منصب ہے تو اختیار سے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت غیور ، توانا و صاحب حیثیت آدمی تھے ، ان کی دینی غیرت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : عمر جس راستے پر چلتا ہے ان کی ہیبت سے شیطان اس راستے کو چھوڑ کر نکل بھاگتا ہے ۔  میرے خیال میں اگر کسی جگہ اللہ کے دین کا، مقدس و پاک باز ہستیوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور وہاں موجود دین دار لوگ خاموش ہیں تو وہ دو ہی ہو سکتے ہیں : یا تو احمق جنہیں سمجھ ہی...

پاکستانی خواتین میں دین داری کا رجحان

برطانوى جريدے گارڈين نے رواں ماہ كى ابتدا ميں پاکستانی خواتین میں دین داری کے بڑھتے ہوئے رجحان كے متعلق Jason Burke كا مضمون شائع كيا ہے ۔ مضمون كے مطابق گزشتہ دس برس ميں پاكستانى خواتين خاص طور پر امير اور تعليم يافتہ خواتين مذہب اسلام كى جانب زيادہ مائل ہو رہی ہيں ، بتايا گيا ہے كہ كس طرح مساجد ميں خواتين كى حاضرى بڑھی ہے۔ (دوسرے لفظوں ميں وہابی ہو گئی ہيں : ) ) مضمون نگار نے بنيادى طور پر يہ دکھڑا رويا ہے كہ Apple MacBook استعمال كرنے والى خوشحال خواتين، بزنس كالج كى طالبات ، بينك كى آئى ٹی ڈوژن ميں كام كرنے والى تكنيكى ماہر خواتين كو مذہب اسلام بھا گيا ہے۔ وہ قرآن مجيد پڑھنے ميں دل چسپی لے رہی ہيں ، اپنی مرضى سے نقاب ، حجاب يا سكارف پہنتى ہيں ، پنج وقتہ نمازى ہو گئیں ہيں اور قيامت يہ كہ .... ان كا كہنا ہے ان كو كسى نے مجبور نہيں كيا ۔ زيادہ زور اس بات پر ہے كہ مذہب پسندى كى يہ نئى لہر پچھلے دس سال ميں بڑھی ہے۔ اس لہر كا ذمہ دار اس نے سعوديہ اور كويت جيسى خليجى رياستوں كے اثر ونفوذ كو بھی ٹھہرايا ہے۔ (وہی گھسى پٹی باتيں) جيسن نے بينك آف پنجاب كى آئى ٹی ڈوژن كى مثال دى جہاں سارى خا...

حضور کا فرمان

۔۔۔ہالینڈ ميں پہنچ كر محكمہ پروٹوكول كے ايك افسر نے مجھے برسبيل تذكرہ يہ بتايا كہ اگر ہم سور (خنزير) كے گوشت (پورک،ہیم، بيكن وغيرہ) سے پرہیز كرتے ہیں تو بازار سے بنا بنايا قيمہ نہ خريديں كيونكہ بنے ہوئے قيمے ميں اكثر ہر قسم كا ملا جلا گوشت شامل ہوتا ہے۔ اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالينڈ كے استقباليوں كے ايك من بھاتا کھاجا قيمے كى گولياں   ( Meat Balls) سے پرہیز كرتے تھے۔ايك روز قصرِ امن    ميں بين الاقوامى عدالت عاليہ كا سالانہ استقباليہ تھا ۔ چودھری ظفر اللہ خان (قاديانى ) بھی اس عدالت كے جج تھے۔ ہم نے ديكھا كہ وہ قيمے كى گولياں سِرکے اور رائى كى چٹنی ميں ڈبو ڈبو كر مزے سے نوش فرما رہے ہیں۔ ميں نے عفت سے كہا: آج تو چودھرى صاحب ہمارے ميزبان ہیں، اس ليے قیمہ بھی ٹھیک ہی منگوايا ہو گا۔ وہ بولى : ذرا ٹھہرو، پہلے پوچھ لينا چاہیے۔ ہم دونوں چودھری صاحب كے پاس گئے۔سلام كر كے عفت نے پوچھا : چودھرى صاحب یہ تو آپ كى ريسپشن ہے۔قيمہ تو ضرور آپ كى ہدايت كے مطابق منگوايا گيا ہو گا؟ جواب ديا: ريسپشن كى انتظاميہ كا محكمہ الگ ہے۔ قيمہ اچھا ہی لائے ہوں گے ۔لو يہ كباب چکھ كر ديكھو۔ عقت نے...