اشاعتیں

سرطور کوئی جائے اسے آپ کیا کہیں گے

سرِ طور کوئی جائے اسے آپ کیا کہیں گے ؟  جسے خود خدا بلائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو ہوا کا رخ بدل دے ہمیں دعوتِ عمل دے  جو شعور کو جگائے اسے آپ کیا کہیں گے  شب وروز دشمنوں کو جو دعاوں سے نوازے  جو ستم پہ مسکرائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو کرے کلام رب سے وہ لقب کلیم پائے  جو کلامِ رب سنائے اسے آپ کیا کہیں گے  جو مریض کو شفا دے اسے کہتے ہیں مسیحا  جو مسیحا کو بچائے اس آپ کیا کہیں گے  جو خطا معاف کردے وہ خدائے لم یزل ہے جو خطائیں بخشوائے اسے آپ کیا کہیں گے  وہ خدا ہے خلق جس نے کیا گلشن دو عالم  جو بہار بن کے آئے اسے آپ کیا کہیں گے  کوئی اس کی عظمتوں کی نہ مثال ہے نہ ہو گی  جو خدا سے مل کے آئے اسے آپ کیا کہیں گے  جو قمر کو توڑتا ہو جو دلوں کو جوڑتا ہو  جو یہ معجزے دکھائے اسے آپ کیا کہیں گے  وہ ہے کون مہربانی جو کرے کسی کسی پر  وہ جو سب کے کام آئے اسے آپ کیا کہیں گے  جو خدا سے دور کر دے اسے کیا کہیں گے اعجاز  ہمیں رب سے جو ملائے اسے آپ کیا کہیں گے  اعجاز رحمانی...

قرآں کی تلاوت کا مزا اور ہی کچھ ہے ​

قرآں کی تلاوت کا مزا اور ہی کچھ ہے ​ کیفیتِ تسلیم و رضا اور ہی کچھ ہے ​ دنیا میں بظاہر ہیں دئیے کتنے ہی رَوشن ​ پر رُشدو ہدایت کا دِیا اور ہی کچھ ہے ​ جسمانی و روحانی مرض اس سے ہیں جاتے ​ اے صاحبو قرآں کی دوا اور ہی کچھ ہے ​ کانوں کو بھلا لگتا ہے ہر حُسنِ تکلم ​ قرآن کو پڑھنے کی ادا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن کی شِیرینی ہے شیرینی حقیقی ​ شیرینی قرآں کا مزا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن ہے اِک رختِ سفر راہِ وفا کا ​ سب راہوں میں اِک راہِ وفا اور ہی کچھ ہے ​ قرآن جہاں بھر کی کتابوں سے جدا ہے ​ رُتبے میں یہ اِک نورِ خدا اور ہی کچھ ہے شاعر: نامعلوم

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا دل میں آیات اترتیں تو اجالا ہوتا  نفرت و بغض کو سینوں میں نہ پالا ہوتا اپنے ہاتھوں سے نہ یوں خود کو مٹایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا بن کے دستور حیات آیا جو انساں کے لیے نسخہ کیمیا ہر درد کے درماں کے لیے  رب کے احکام سے دامن نہ چرایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا تھاما قرآں تو کیے قیصر و کسری نابود  اس سے منہ پھیر کے خطرے میں ہے امت کا وجود درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا  یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا ​
پیمبروں کی ہر ایک عظمت ہوئی ہے بے شک تمام ان پر  سلام ان پر درود ان پر درود ان پر سلام ان پر  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ ان پہ سدا درود بھیج اور اسے کبھی نہ گن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ ان پہ درود بھیج کر ملتا ہے جو سکون دل  مجھ کو کبھی نہ مل سکا عمر میں وہ درود بِن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ میری یہی ہے آرزو میری زبان پر رہے  لمحہ بہ لمحہ روز وماہ اور تمام سال و سِن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ دل کے سکون لیے جتنا بھی پڑھ سکو پڑھو  پیشتر اس کے جس گھڑی جسم سے جان جائے چھن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ جب سے رسول پاک پر بھیج رہا ہوں میں درود  بزمی مرا خدا گواہ میرا یہ دل ہے مطمئن  صل علی محمدٍ صل علی محمدٍ شاعر : خالد بزمی

مرد مسلمان کا ذوق سماعت

سماجی ذرائع ابلاغ میں دین اسلام کے متعلق مطالعے اور علم کی کمی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ بعض بظاہر دین دار لوگ اس آسان سے سوال کا جواب بھی نہیں جانتے کہ کیا عورت کی آواز  مطلقا پردہ ہے؟ صنف مخالف سے  نامناسب گفتگو مرد ہو یا عورت، سب کے لیے ممنوع ہے لیکن کچھ مردوں کے اسلام میں اپنے لیے ہر چیز حلال ہوتی ہے البتہ خواتین کو ان کی حدود بتانا ان کا مذہبی فریضہ ہوتا ہے۔  سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ  مرد، عورت کے لیے آواز کے پردے کی بہت تشریحات کرتے ہیں لیکن خود رنگین سکرینوں پر سجی بنی عورتوں کی آوازیں ذوق و شوق سے سنتے وقت انہیں یاد نہیں آتا کہ اس عورت کی آواز کا ان سے پردہ ہے ؟ مارننگ شوز، اشتہارات، خبریں ، فونز میں ریکارڈڈ مسیجز ہر چیز میں اسی عورت کی آواز بے پردہ ہے اور مرد مسلمان کے ذوق سماعت کی خوب خوب تسکین ہو رہی ہے! مجھے معلوم نہیں مسلمان مردوں کے ذوق تبلیغ اور ذوق عمل میں اتنا تفاوت کیوں ہے؟

مسئلہ عورت کی بے حیائی اور قرب قیامت کی نشانیوں کا

 آپ کو مسلمانوں میں ایسےایسے دین دار  لوگ ملیں گے جن کے نزدیک عورت کتاب تصنیف کر کے اس پر بطور مصنفہ اپنا نام چھپوائے تو ان کے نزدیک یہ ’’کھلی بے حیائی ‘‘ہے ۔ بلکہ بعض کے نزدیک یہ قرب قیامت کی نشانی بھی ہو سکتی ہے کہ "عورت ہو کر"کتاب لکھی جائے، لیکن اگر آپ قرب قیامت کی اس ہول ناک  نشانی کا مستند حوالہ پوچھ لیں تو وہ غضب ناک ہو کر آپ کو فورا مغربی مساوات سے متاثر قرار دے دیں گے۔

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

تم لڑکی ہو میں مرد ہوں ​ تصویر بنانا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ وڈیو بنانا بنوانا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ پینٹ پہننا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ آواز بلند کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ اپنی رائے دینا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ نوکری کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ شادی سے قبل محبت کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ فلم دیکھنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ موبائل رکھنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ نیٹ استعمال کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ دعوت وتبلیغ تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال ​ معاف کیجیے گا ​ گناہ گناہ ہے مرد کرے یا عورت ​ نیکی نیکی ہے خواہ مرد کرے یا عورت ​ عورت ہونے سے گناہ کا عذاب بڑھ نہیں جاتا ​ نہ مرد ہونے سے گناہ کا عذاب کم ہوتا ہے ​ مسلم مرد و عورت کے لیے حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا مسلم مرد و عورت کے لیے حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا ​ اگر آپ کی بہن یا بیٹی ​ آپ کے ایجاد کردہ اصول نہیں مانتی تو وہ اسلام کی باغی نہیں ​ آپ کی انا کی باغی ہے ​ اسے اسلام سے بغاوت کی سزا مت سنائیں...

صحابہ کرام : وارثین کتاب میں صف اول کے لوگ

صحابہ کرام : وارثین کتاب میں صف اول کے لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم ​ سورۃ فاطر میں اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :  وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّ ـ هَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ‌ بَصِيرٌ‌ ﴿ ٣١ ﴾ ثُمَّ أَوْرَ‌ثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ   ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ   وَمِنْهُم   مُّقْتَصِدٌ   وَمِنْهُمْ   سَابِقٌ بِالْخَيْرَ‌اتِ   بِإِذْنِ اللَّ ـ هِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ‌ ﴿ ٣٢ ﴾ ترجمہ : ’’جو کتاب ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجی ہے وہ سراسر برحق ہے ۔ وہ اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ، بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں کے حال سے باخبر اور دیکھنے والا ہے ۔ ( ۳۲ ) (پھر پچھلی قوموں کے بعد) ہم نے اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو کتاب الہی (قرآن) کا وارث ٹھہرایا جنہیں ہم نے اپنی خدمت کے لیے اختیار کر لیا (یعنی مسلمانوں کو ) پس ان میں سے  ایک گروہ تو ان کا ہے جو اپنے نفوس پر ترک اعمالِ حسنہ و ارتکاب معاص...

روشنی چاہیے کس مول ملے گی صاحب؟

روشنی چاہیے کس مول ملے گی صاحب؟ نقدِ جاں ہے مرے پلو میں، چلے گی صاحب ؟  اے طلب گارِ وفا، یہ ہے اصولِ بازار جنس کم ہو گی، تو قیمت تو چڑھے گی صاحب  زندگی بھر کی مشقت کا صلہ، ایک سوال اب یہ گاڑی کبھی پٹڑی پہ چڑھے گی صاحب ؟ دل کے تالاب کے ٹھہرے ہوئے سناٹوں میں  سنگ پھینکو گے تو ہلچل تو مچے گی صاحب زندگی کیا، کسی مزدور کی بیگار ہوئی  اور اسی طرح سے باقی بھی کٹے گی صاحب اب افسانے کا یہ انجام نہیں بدلے گا  اب یہی فلم ہر اک بار چلے گی صاحب تم چلے جاؤ گے تو بھی یہی منظر ہوں گے  بس یہ دنیا مری دنیا نہ رہے گی صاحب  مسترد دل کی تلافی نہیں ہوتی کچھ بھی  بن بھی جائے گی تو نہ اب بات بنے گی صاحب میری خدمت، مری عزت کے مقابل رکھو پورا تولو گے، تبھی بات بنے گی صاحب سانپ تو آئیں گے اس گھونسلے کی سمت مگر چڑیا مر کر بھی نہ انڈوں سے ہٹے گی صاحب  یہ تو معلوم ہے ڈھل جائے گی یہ رات رضی  کتنی قربانی مگر لے کے ڈھلے گی صاحب ؟ ​شاعر پروفیسر ڈاکٹر سید رضی محمد

کسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دے مجھ کو

کسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دے مجھ کو  ہزار غم دے مگر ان کا توڑ دے مجھ کو  کہیں نہ اور کوئی توڑ پھوڑ دے مجھ کو  کسی کڑی کا میں حصہ ہوں ، جوڑ دے مجھ کو  میں وہ سکوت ہوں جو مدتوں نہیں ٹوٹا  صدائے حشر اٹھے ، اٹھ کے توڑ دے مجھ کو  کیا ہے منصب دریا پہ جب مجھے فائز  سلگتے دشت کی جانب بھی موڑ دے مجھ کو  مرے مزاج کو سختی نہ راس آئے گی  جو موڑنا ہے سلیقے سے موڑ دے مجھ کو  غبارِ قلب کا چھٹنا بہت ضروری ہے  کبھی سسکتا ہوا بھی تو چھوڑ دے مجھ کو  کوئی تو اتنا ہنسے سسکیوں کے بیچ فراغ کہ اس کے کرب کی شدت جھنجھوڑ دے مجھ کو  ​ فراغ روہوی

جی رہے ہیں اسی محبت میں

جی رہے ہیں اسی محبت میں جو گنی جائے گی عبادت میں دشمنوں پر بھی ہے کرم ان ﷺ کا وہ ہیں بے مثل اپنی رحمت میں نفرتوں کا وہاں گزر ہی نہیں ہم ہیں جس بارگاہ الفت میں اک عجب سرخوشی میں رہتے ہیں ہم ثنا خوان ان ﷺ کی مدحت میں ورنہ ہم کیا ہماری ہستی کیا ساری عظمت ہے ان ﷺ سے نسبت میں اس محبت نے جڑ دئیے گویا چاند تارے ہماری قسمت میں ​شاعرہ: نورین طلعت عروبہ 

سوشل میڈیا اور اخلاقی اقدار

سوشل سائٹس سے وابستگی کے دوران جو سوالات میرے ذہن میں شدت سے سر اٹھاتے ہیں ان میں سے ایک اپنے معاشرے کی اخلاقی اقدار کے متعلق ہے ۔  میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ انسانوں پر ذاتی تبصرے کا حق ہمیں کس نے دیا ہے ۔ خواہ وہ انسان کوئی بہت بری شہرت کا حامل سیاست دان ہو؟ مجھے اس سچ کے اظہار کے لیے معاف فرمائیے کہ سیاست دان بھی انسان ہوتے ہیں۔  ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیے گئے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : مسلمان کی جان، مال، عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے سوائے اسلام کے حق کے ۔  کیا کسی انسان کے بری شہرت کا حامل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کی عزت ہم پر حلال ہو گئی ہے ؟ کوئی عورت خواہ شو بز سے تعلق رکھتی ہے اور کتنی ہی بری شہرت رکھتی ہے پھر بھی میرے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ اس کے متعلق بلاثبوت کوئی بات کر دوں؟ ہمیں کیسے یقین ہے کہ ہم جو جی میں آئے اس کے بارے میں کہہ ڈالیں ، ہم سے کوئی حساب نہ ہو گا؟ یوں لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاست دان ، ایکٹر ، کھلاڑی، علماء، مشہور یا غیر معروف انسانوں کے متعلق ہم سب کچھ بلا ثبوت کہنے کی آزادی رکھتے ہیں ۔ اور ا...

جہان نو کی بنیاد اس طرح تعمیر کر جاؤ

جہانِ نو کی بنیاد اس طرح تعمیر کر جاؤ کہ اپنا نام پہلی اینٹ پر تحریر کر جاؤ تمہارے شعر اگر تلوار بن سکتے نہیں تم سے  تو اپنے فن کو اپنے پاؤں کی زنجیر کر جاؤ فقط سانسوں کی گنتی ہی کو جینا تو نہیں کہتے  کوئی اک واقعہ تو قابل تحریر کر جاؤ محبت میں وفا کے لفظ کا مفہوم مشکل ہے  مبادا تم کوئی آسان سی تعبیر کر جاؤ ​ شاعر: ضمیر جعفری 

یہ کس نے تیرہ شبی میں چراغ دکھلایا

یہ کس نے تیرہ شبی میں چراغ دکھلایا یہ کون نور کی مشعل لیے ہوئے آیا یہ کس نے ظلم کی آنکھوں میں ڈال دی آنکھیں یہ کون جبر کے طوفاں سے آ کے ٹکرایا قدم قدم پہ ہوا کون ظلم سے دو چار یہ کس نے زخم سہے زندگی کا غم کھایا ستم کے بدلے ہمیشہ دعائیں دی کس نے ؟َ یہ کس کی بخشش و رحمت سے کفر شرمایا حواس کھوئے ہوئے آبروؔ زمانہ تھا جو آپ ﷺ آئے تو انسانیت کو ہوش آیا شاعر:شعیب آبروؔ

چلے نہ اِیمان اک قدم بھی اگر ترا ہم سفر نہ ٹھہرے

چلے نہ اِیمان اک قدم بھی اگر ترا ﷺ ہم سفر نہ ٹھہرے تِرا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے حقیقتِ بندگی کی راہیں مدینہ طیبہ سے گزریں  ملے نہ اس شخص کو خدا بھی جو تیریؐ دہلیز پر نہ ٹھہرے کھلی ہوں آنکھیں کہ نیند والی ، نہ جائے کوئی بھی سانس خالی درود جاری رہے لبوں پر ، یہ سلسِلہ لمحہ بھر نہ ٹھہرے میں تجھؐ کو چاہوں اور اتنا چاہوں کہ سب کہیں تیراؐ نقشِ پا ہوں  ترے نشانِ قدم کے آگے کوئی حسِیں رہگزر نہ ٹھہرے یہ میرے آنسُو خِراج میرا ، مِرا تڑپنا عِلاج میرا َمَرَض مِرا اُس مَقام پر ہے جہاں کوئی چارہ گر نہ ٹھہرے شاعر: مظفرؔ وارثی 

مرد ہو کر!

تصویر
ہمارے معاشرے میں مردانگی کے عجیب معیار مقرر ہیں نجانے یہ کہاں سے مستعار لیے گئے ہیں لیکن یہ جانے مانے قوانین بن چکے ہیں ہم اکثر اس قسم کے جملے سنتے ہیں ’’ تم  مرد  ہو کر عورتوں کی طرح رو رہے ہو ‘‘ ’’ تو مرد ہو کر ڈر رہا ہے یار ‘‘ ’’ارے تم مرد ہو کر خود کھانا پکاتے ہو ‘‘ میں اکثر سوچتی ہوں کاش  مرانگی کے مروجہ معیار کے متعلق کسی روز ایسا جملہ بھی سننے کو ملے ’’ تم مرد ہو کر عورتوں کی طرح گھر میں  نماز  پڑھتے ہو یار ؟ چلو اٹھو  مسجد  چلیں ۔ ‘‘ ذرا سا غور کریں تو معلوم ہو گا جو باتیں دین میں کوئی عیب نہیں وہ ہمارے معاشرے میں باعثِ عار ہیں ۔۔۔ اور جو باتیں دین میں کبیرہ گناہ ہیں وہ ہمارے معاشرے کے عرف میں انتہائی عام سی عادتیں بن گئی ہیں ۔۔۔ ہم آج بھی ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل سے صدیوں کے فاصلے پر ہیں ۔۔۔ اور لگتا تو یہی ہے کہ ہمارا یہ فاصلہ گھٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ۔۔۔

سارے لفظوں میں ایک لفظ یکتا بہت اور پیارا بہت

سارے لفظوں میں ایک لفظ یکتا بہت اور پیارا بہت سارے ناموں میں اک نام ﷺ سوہنا بہت اور ہمارا بہت اس کی شاخوں پہ آ کر زمانوں کے موسم بسیرا کریں اک شجر ﷺ جس کے دامن کا سایا بہت اور گھنیرا بہت ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں اس زمیں آسماں کی حدیں ایک آواز دیتی ہے پہرا بہت اور گہرا بہت  جس دیے کی توانائی ارض و سما کی حرارت بنی اس دیے ﷺ کا ہمیں بھی حوالہ بہت اور اجالا بہت میری بینائی اور مرے ذہن سے محو ہوتا نہیں میں نے روئے محمد ﷺ کو سوچا بہت اور چاہا بہت  میرے ہاتھوں اور ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں  میں نے اسم محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت  شاعر: سلیمؔ کوثر

اخلاق کے اِیوان کی تعمیر ہے روزہ

روزہ اخلاق کے اِیوان کی تعمیر ہے روزہ بنیاد ِخرافات کی تدمیر ہے روزہ جس میں نہ ریا ہے نہ کوئی مکر نہ دھوکا اس حسنِ عبادت کی یہ تصویر ہے روزہ شیطان تو انسان کا دشمن ہے پرانا شیطان کا زندان ہے زنجیر ہے روزہ وہ روح کا ہو یا کہ مرض ہو وہ جسَد کا ہر ایک مرض کے لیے اکسیر ہے روزہ جو دل کہ مچلتا ہے گناہوں پہ ہمیشہ اس دل کے لیے نسخۂ تسخیر ہے روزہ روزہ سے ضیا ملتی ہے قلب اور نظر کو مومن کے لیے چشمۂ تنویر ہے روزہ  کافی ہے وہ روزے کے فضائل کی ضمانت جس شان سے قرآن میں تحریر ہے روزہ جس نفس کی اصلاح کا امکان نہ ہو عاجز اس نفس کی اصلاح کی تدبیر ہے روزہ عبدالرحمن عاجز مالیر کوٹلوی

جو ان کی سیرت میں ڈھل گیا ہے دلیل و برہان ہو گیا ہے

وہ ﷺ آ گئے ہیں تو زندگی کا نظام آسان ہو گیا ہے انہی کے صدقے میں آدمی آپ اپنی پہچان ہو گیا ہے جو ان کی سیرت میں ڈھل گیا ہے دلیل و برہان ہو گیا ہے علیؓ و عثمانؓ بن گیا ہے بلالؓ و سلمانؓ ہو گیا ہے برس گئے ہیں وہ زندگی پر حقیقتوں کا سحاب بن کر ہم اپنی ہستی سمجھ گئے ہیں خدا کا عرفان ہو گیا ہے نہ کوئی کالا رہا نہ گورا نہ کوئی ادنی رہا نہ اعلی اضافتوں سے بلند و بالا وجودِ انسان ہو گیا ہے جو ان سے منسوب ہو گئی ہے وہ بات ایمان بن گئی ہے جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے وہ لفظ قرآن ہو گیا ہے شاعر: حکیم سید محمود احمد سرو سہارنپوری  انتخاب از ’’ ثنائے خواجہ ﷺ ‘‘

آخری آرزو​

آخری آرزو ​ شورش کاشمیری بپاسِ خاطرِ احباب کس عنوان پر لکھوں؟ کہاں تک داستانِ دردِ دل، دردِ جگر لکھوں ؟ بہت دن گم شدہ یادوں کا میں نے تذکرہ لکھا کہاں تک نظم میں افسانہ ء شام و سحر لکھوں؟ مقدر کا نوشتہ تھا دل مرحوم کا ماتم اب اس پر اور کیا بارِ دِگر، بارِ دِگر لکھوں؟ خطابت کے بہت سے معرکے سر کر لیے میں نے  سیاسی تذکرے کب تک قلم کو توڑ کر لکھوں ؟ بحمداللہ قصائد کی زباں آتی نہیں مجھ کو  عزیزانِ گرامی قدر عرضِ مختصر لکھوں؟ بس اتنی آرزو ہے عمر کی اس آخری رو میں  خدا توفیق دے تو سیرتِ خیرالبشرﷺ لکھوں