اشاعتیں

June, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مرد مسلمان کا ذوق نظر

سنا کرتے تھے کہ بھلے زمانوں کے مسلمان مردکسی کافرعورتکو بھی مصیبت میں دیکھتے تو اس کو چادرسے ڈھانپ دیتے تھے۔ اب  مرد مسلمنے بہت ترقی کر لی ہے۔ ٹی وی، موبائل، کمپیوٹر، ٹیبلٹ کی رنگین سکرینوں پر ہر قسم کی عورتدیکھنے کو میسر ہے، کالی ، گوری، زرد، موٹی، پتلی، لمبی، ٹھگنی، لیکن پھر بھی اس کا نظربازی کا شوق پورا ہو کر نہیں دے رہا۔ فلمی اداکارہ اور عام عورت کی تمیز مٹ گئی ہے۔ مسلمممالک میں کسی دھماکے کے بعد پریشان حال زخمی عوتوں کی  تصویریں ہوں یا کالج کی معصوم لڑکیوں کا گروپ فوٹو، ہر عمر ہر نسل کی صنف مخالف مسلم نوجوانوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔ ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے انہوں نے تصویربنوائی کیوں؟ یہ  خیال شاید ہی آئے کہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے جہاں اپنی نظروں کا حساب دینا ہے صنف مخالف کےلباسکا نہیں۔
آج کل برما(اراکان) کی آفت زدہ، اور بے حال خواتین کی نیم برہنہوڈیوز بہت تیزی سے شئیر ہو رہی ہیں۔ یہ مظلوم کی حمایت کا نیا انداز ہے۔ سچ ہےہوسبڑھتی جائے تو بے قابو ہو جاتی ہے۔ اس کتے کی طرح جس کی زبان ہر وقت باہر لٹکی رہتی ہے۔
میں صرف ایک بات سوچتی ہوں اور کانپ جاتی ہوں کہ اگر ان برمی مسلم بہنوں…