اشاعتیں

February, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے

ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے
یہاں اسلام کا پرچم کبھی جھکنے نہیں دیں گے

يہ ارض پاك ہے مسكن فدايان محمدﷺ كا 
كوئى قانون باطل كا يہاں چلنے نہیں دیں گے

ہزاروں سازشيں کر لو اے مغرب کے پرستارو
شہیدوں کی وراثت کو کبھی لٹنے نہیں دیں گے

دلوں سے دین كى الفت مٹائى جا نہیں سكتى 
محبت غير كى سينوں ميں ہم بسنے نہیں ديں گے 

ہم اپنے دیس کی پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے
یہاں اسلام کا پرچم کبھی جھکنے نہیں دیں گے
شاعر:نامعلوم

الہی طاقت ایمان پھر ہم کو عطا کر دے

الہی طاقت ایمان پھر ہم کو عطا کر دے
خداوندا ہمیں رازِ خودی سے آشنا کر دے

کبھی بادِ مخالف سے نہ دل برداشتہ ہوں ہم
جو ٹکرا جائے طوفانوں سے وہ ہمت عطا کر دے 

گھری ہے کشتیِ اسلام طوفانوں کی گردش میں
ہمیں پھر ناخدا فاروق اعظم رض سا عطا کر دے 

عطا کر حضرت صدیق رض سا قلب و جگر ہم کو
خدایا ہم کو تو عثمان رض جیسا پارسا کر دے

بہار آئے الہی گلشن اسلام میں ایسی
گل و بلبل کو جو یا رب خزاں نا آشنا کر دے 

-شاعر----- مولانا محمد داود راز دہلوی رحمہ اللہ تعالی -----------

حلیہ مطہرہ بزبان ام معبد رضی اللہ عنہا

نبي كريم حضرت محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے حليہ مباركہ کے سلسلے ميں مروى حديث ام معبد رضي اللہ عنہا، طالبان علم كے نزديك معروف ہے۔ محترم عليم ناصرى حفظہ اللہ نے اپنی رزميہ مسدس "بدر نامہ" ميں اس كو بہت خوب صورتى سے نظم كيا ہے۔


" بولى عفيفہ مادرِ معبد كہ كيا كہوں؟
حيران ہوں كيسے اس ﷺ كا سراپا بياں كروں ؟
اوصاف اس حبيب ﷺ كے ميں كس طرح گنوں ؟
اس كے حسيں وجود كو تشبيہ كس سے دوں ؟

وہ پیكرِ جميل سراپا جمال ہے !
ميرى زباں سے اس كى ستائش محال ہے !

پاكيزہ رو، كشادہ جبيں، چشم سرمگیں
گردن بلند، پتلياں روشن، قد حسيں
شيريں كلام، جادو بياں، نطق انگبين
پیوستہ ابرو، غاليہ مو، زلف عنبريں

دل بستگی ليے ہوئے خاموش و پروقار 
آواز پر جلال و ہمہ تمكنت شعار!

ديکھیں جو دور سے تو وہ زيبا دكھائى دے !
بولے تو كھینچتا ہوا دل كو سنائى دے ! 
گفتار موتيوں كى لڑى سى سجھائى دے
مظلوم اس كے پاس پنہ كى دہائى دے 

اس كے رفيق سنتے تو ہیں بولتے نہیں
فرمان پر زبان كبھی كھولتے نہیں"

شاعر: علیم ناصری
اقتباس از : بدر نامہ ، رزميہ مسدس ص 74