اشاعتیں

June, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وفا اور حکمت

قرآن مجید کی ایک خوب صورت آیت ہے : اپنے رب کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے دعوت دو۔ 
اس آیت کی من مانی تفسیر میں لوگ مداہنت کو بھی حکمت بتانے لگتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ حکمت ہے کیا ؟ حکمت کے لیے اب تک کوئی پیمانہ ایجاد نہیں ہوا ہے کہ کسی کے قول و فعل کو تول کر بتا دیا جائے اس میں اتنے اونس حکمت کم تھی یا زیادہ ۔ 
حکمت کے خود ساختہ پیمانوں کی بجائے اگر قرآن و سنت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے دین کے لیے غصہ کرنا عین حکمت ہے ۔ دین کہتا ہے جو جتنی طاقت رکھتا ہو اسے برائی سے روکنے میں استعمال کرے ، زبان ہے تو زبان سے، توانا ہے تو ہاتھ سے ، اور صاحب منصب ہے تو اختیار سے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت غیور ، توانا و صاحب حیثیت آدمی تھے ، ان کی دینی غیرت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : عمر جس راستے پر چلتا ہے ان کی ہیبت سے شیطان اس راستے کو چھوڑ کر نکل بھاگتا ہے ۔ 
میرے خیال میں اگر کسی جگہ اللہ کے دین کا، مقدس و پاک باز ہستیوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور وہاں موجود دین دار لوگ خاموش ہیں تو وہ دو ہی ہو سکتے ہیں :
یا تو احمق جنہیں سمجھ ہی نہ آسکا کہ ان کے دینی ع…

باعثِ رحمت ذکر ہے ان ﷺ کا اسمِ گرامی راحتِ جاں

ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں

ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں
قولِ نبیﷺ دلیلِ قرآن بن گئے ہیں

تعلیمِ مصطفی ﷺنے ایسا شعور بخشا
جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں

آدم سے تا بہ عیسی ، عیسی سے مصطفی ﷺتک
اس داستاں کے کتنے عنواں بن گئے ہیں

اسلام چاہتا ہے اس واسطے اخوت
جب مل گئے ہیں قطرے طوفان بن گئے ہیں

اخلاقِ مصطفی ﷺہیں کردار کی کسوٹی
اقوالِ مصطفی ﷺسے میزان بن گئے ہیں

کیا حشر اپنا ہو گا اعجاز روز محشر
ہر بات جان کر ہم انجان بن گئے ہیں
​ شاعر: اعجاز رحمانی

شاعر: اعجاز رحمانی