اشاعتیں

June, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خدا خاموش کب ہے؟ ​

خدا خاموش کب ہے؟ ​ از​ ڈاکٹر صابر آفاقی​ ندا فاضلی کی نظم " خدا خاموش ہے" کے جواب میں ​

ندا صاحب خداخاموش کب ہے؟  ندا دیتا رہا پہلے ندا دیتا ہے وہ اب بھی  صدا دیتا ہے وہ اب بھی  خدا خاموش کب ہے خدا تو بولتا ہے پر ہمارے کان بہرے ہیں  کہ آوازیں نہیں سنتے  یہ ہم ہیں جو  یہاں خاموش رہتے ہیں یہ ہم ہیں جو سدا مدہوش رہتے ہیں  جو سب نغموں کا، حرفوں کا، جو سب لفظوں کا خالق ہے اسے خاموش کہتے ہو؟ سبھی نغمے اسی کے ہیں زبانیں ساری اس کی ہیں بنوں میں ساری مہکاریں، سبھی چہکاریں اس کی ہیں اسے خاموش کہتے ہو
(۲) خدا کے کام تھے جتنے  وہ اس نے کر دیے سارے کہ پھیلائی زمیں اس نے درختوں کو اگایا ہے پہاڑوں کو قرینے سے لگایا ہے ستارے جڑ دئیے اس نے  یہ سارے کردئیے روشن ہواؤں کو چلایا ہے پرندوں کو عطا کی نغمگی اس نے لبوں کو مسکراہٹ دی  سڑک پر "ڈولتی پرچھائیوں" کو زندگی دے دی  یہ سارے کام تھے اس کے  سو اس نے کر دئیے سارے
(۳) بشر کے کام تھے جتنے  نہیں اک بھی ہوا اس سے  نہ نفرت دور کی اس نے نہ محفل نور کی اس نے نہ جنگوں کو مٹایا ہے نہ فوجوں کو گھٹایا ہے نہ سینے سے اچھوتوں کو لگایا ہے نہ عورت کو ح…

ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام

کیا نمرود نے بابل میں جب دعوی خدائی کا​ جہاں میں عام شیوہ ہو گیا جب خود ستائی کا​ ​ اندھیرا ہی اندھیرا کفر نے ہر سمت پھیلایا​ تو ابراہیم کو اللہ نے مبعوث فرمایا​ ​ مٹا ڈالے بتوں کو توڑ کر اوہام مرسل نے​ دیا بندوں کو پھر اللہ کا پیغام مرسل نے​ ​ کیا شیطان کو رسوا عدوِ جان و دیں کہہ کر​ کیا سینوں کو روشن لا احب الآفلیں کہہ کر​ ​ مگر نمرود کو بھائیں نہ یہ باتیں بھلائی کی​ کہ مسند چھوڑنی پڑتی تھی کافر کو خدائی کی​ ​ ہوا یہ بندۂ شیطان، خلیل اللہ کا دشمن​ چراغِ حق بجھانے کو کیا آتش کدہ روشن​ ​ خلیل اللہ کو اس نے بھڑکتی نار میں ڈالا​ مگر اللہ نے نمرود کا منھ کر دیا کالا​ ​ بروئے کار آیا آج پھر وہ نورِ پیشانی​ ہوئی آگ ایک پل میں کوثر و تسنیم کا پانی​ ​ شاعر: ابوالاثر حفیظ جالندھری

سرمایۂ جاں ہیں شہ ِابرار کی باتیں

سرمایۂ جاں ہیں شہ ِابرارﷺ کی باتیں
کس درجہ سکوں دیتی ہیں سرکارﷺ کی باتیں

ہاں کیسے ہیں وہ کوچہ و بازار وہ گلیاں
کچھ اور کرو شہرِ پُرانوار کی باتیں

ہاں کیسے برستا ہے وہاں نور کا بادل
کچھ اور کرو گنبدِ ضو بار کی باتیں

واں کیسے غبارِ دل وجاں دُھلتا ہے زائر
کچھ اور کرو ابرِ گہر بار کی باتیں

ہاں کیسے وہاں چلتی ہیں تھم تھم کے ہوائیں
کچھ او ر مچلتی ہوئی مہکار کی باتیں

جی چاہے کہ ہر آن سنوں ذکرِ پیمبرﷺ
ہوتی رہیں کونین کے سردارﷺ کی باتیں

شاعر: بشیر منذر 

چاکلیٹ بمقابلہ غیرت ایمان یا علم بمقابلہ جہل

بسم اللہ الرحمن الرحیم  ​
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
گزشتہ چند ہفتوں سے خبر گردش میں ہے کہ ملائیشیا میں کیڈ بری کمپنی کی ڈیری ملک نامی چاکلیٹ بار میں حرام اجزا پائے گئے ہیں ۔ اس خبر کے بعد ملائیشیا ایک بڑے سٹور نے جس کی ملائیشیا میں پانچ سو سے زیادہ شاخیں ہیں ، اپنے سٹورز پر ڈیری ملک چاکلیٹ رکھنا منع کر کے عوام سے  بائیکاٹ کی درخواست کر دی ۔ 
اس سارے معاملے کے بعد ملائشیا کی اسلامی اتھارٹی Jakim نے ڈیری ملک چاکلیٹ کے نمونے جمع کر کے ٹیسٹ کروائے اور جون کی ابتدا میں اعلان کیا کہ ان میں کوئی حرام جزء نہیں پایا گیا ۔ 
Malaysia's Department of Islamic Development, or JAKIM, reportedly said in a statement that they tested 11 samples of Cadbury Dairy Milk Hazelnut, Cadbury Dairy Milk Roast Almond and other products from the company's factory but none of them tested positive for pork. ملائشیا میں یہ تنازعہ جاری تھا جب سعودی حکام نے بھی وضاحت کی کہ ان کے ملک میں بکنے والی ڈیری ملک چاکلیٹ بار ملائشیا سے بن کر نہیں آتی بلکہ برطانیہ سےدرآمد{ امپورٹ} ہوتی ہے ، اس کے ساتھ وہ ملائشیا کے حکا…

تیرے اِیما پہ ہے موقوف ارادہ میرا

حمد تیرے اِیما پہ ہے موقوف ارادہ میرا
تیرے محبوبؐ کا دِیں منزل و جادہ میرا

میرے سانسوں سے تیرے نام کی خوش بو آئے
حمد و مدحت میں کٹے وقت زیادہ میرا

میرے باطن کو بھی اُجلا میرے مولا کر دے
جس طرح صاف ہے ظاہر کا لبادہ میرا

مخزنِ غیب سے وافر ہو میسر روزی
بہرِ ایثار و سخا دِل ہو کشادہ میرا

اپنا عرفاں بھی عطا تونے کیا ہے ورنہ
سنگ پاروں پہ فِدا تھا دلِ سادہ میرا

تُو ہی جانے میری ذات کا مصرف کیا ہے
میری نظروں سے تو اوجھل ہے افادہ میرا

یہ بھی ایقانِ کرم کی ہے علامت راسخ
دل گناہوں میں جو کرتا ہے اعادہ میرا
​ شاعر: راسخ عرفانی
از: ارمغانِ حرم
انتخاب و طباعت ناچیز