اشاعتیں

January, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

تم لڑکی ہو میں مرد ہوں​ تصویر بنانا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ وڈیو بنانا بنوانا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ پینٹ پہننا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ آواز بلند کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ اپنی رائے دینا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ نوکری کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ شادی سے قبل محبت کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ فلم دیکھنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ موبائل رکھنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ نیٹ استعمال کرنا تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ دعوت وتبلیغ تمہارے لیے حرام میرے لیے حلال​ معاف کیجیے گا​ گناہ گناہ ہے مرد کرے یا عورت​ نیکی نیکی ہے خواہ مرد کرے یا عورت​ عورت ہونے سے گناہ کا عذاب بڑھ نہیں جاتا​ نہ مرد ہونے سے گناہ کا عذاب کم ہوتا ہے​ مسلم مرد و عورت کے لیے حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا مسلم مرد و عورت کے لیے حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا​ اگر آپ کی بہن یا بیٹی

صحابہ کرام : وارثین کتاب میں صف اول کے لوگ

صحابہ کرام : وارثین کتاب میں صف اول کے لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم​
سورۃ فاطر میں اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے : 
وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ‌ بَصِيرٌ‌ ﴿٣١﴾ ثُمَّ أَوْرَ‌ثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْظَالِمٌ لِّنَفْسِهِوَمِنْهُممُّقْتَصِدٌوَمِنْهُمْسَابِقٌ بِالْخَيْرَ‌اتِبِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ‌ ﴿٣٢﴾
ترجمہ : ’’جو کتاب ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجی ہے وہ سراسر برحق ہے ۔ وہ اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ، بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں کے حال سے باخبر اور دیکھنے والا ہے ۔ (۳۲)
(پھر پچھلی قوموں کے بعد) ہم نے اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو کتاب الہی (قرآن) کا وارث ٹھہرایا جنہیں ہم نے اپنی خدمت کے لیے اختیار کر لیا (یعنی مسلمانوں کو ) پس ان میں سے 
ایک گروہ تو ان کا ہے جو اپنے نفوس پر ترک اعمالِ حسنہ و ارتکاب معاصی سے ظلم کر رہے ہیں ، 
دوسرا ان کا جنہوں نے معاصی کو ترک اور اعمال حسنہ کو اختیار کیا ہے ، خدا پرستی…

روشنی چاہیے کس مول ملے گی صاحب؟

روشنی چاہیے کس مول ملے گی صاحب؟
نقدِ جاں ہے مرے پلو میں، چلے گی صاحب ؟ 

اے طلب گارِ وفا، یہ ہے اصولِ بازار
جنس کم ہو گی، تو قیمت تو چڑھے گی صاحب 

زندگی بھر کی مشقت کا صلہ، ایک سوال
اب یہ گاڑی کبھی پٹڑی پہ چڑھے گی صاحب ؟

دل کے تالاب کے ٹھہرے ہوئے سناٹوں میں 
سنگ پھینکو گے تو ہلچل تو مچے گی صاحب

زندگی کیا، کسی مزدور کی بیگار ہوئی 
اور اسی طرح سے باقی بھی کٹے گی صاحب

اب افسانے کا یہ انجام نہیں بدلے گا 
اب یہی فلم ہر اک بار چلے گی صاحب

تم چلے جاؤ گے تو بھی یہی منظر ہوں گے 
بس یہ دنیا مری دنیا نہ رہے گی صاحب 

مسترد دل کی تلافی نہیں ہوتی کچھ بھی 
بن بھی جائے گی تو نہ اب بات بنے گی صاحب

میری خدمت، مری عزت کے مقابل رکھو
پورا تولو گے، تبھی بات بنے گی صاحب

سانپ تو آئیں گے اس گھونسلے کی سمت مگر
چڑیا مر کر بھی نہ انڈوں سے ہٹے گی صاحب 

یہ تو معلوم ہے ڈھل جائے گی یہ رات رضی 
کتنی قربانی مگر لے کے ڈھلے گی صاحب ؟

​شاعر پروفیسر ڈاکٹر سید رضی محمد

کسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دے مجھ کو

کسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دے مجھ کو  ہزار غم دے مگر ان کا توڑ دے مجھ کو 
کہیں نہ اور کوئی توڑ پھوڑ دے مجھ کو  کسی کڑی کا میں حصہ ہوں ، جوڑ دے مجھ کو 
میں وہ سکوت ہوں جو مدتوں نہیں ٹوٹا  صدائے حشر اٹھے ، اٹھ کے توڑ دے مجھ کو 
کیا ہے منصب دریا پہ جب مجھے فائز  سلگتے دشت کی جانب بھی موڑ دے مجھ کو 
مرے مزاج کو سختی نہ راس آئے گی  جو موڑنا ہے سلیقے سے موڑ دے مجھ کو 
غبارِ قلب کا چھٹنا بہت ضروری ہے  کبھی سسکتا ہوا بھی تو چھوڑ دے مجھ کو 
کوئی تو اتنا ہنسے سسکیوں کے بیچ فراغ کہ اس کے کرب کی شدت جھنجھوڑ دے مجھ کو 

فراغ روہوی

جی رہے ہیں اسی محبت میں

جی رہے ہیں اسی محبت میں
جو گنی جائے گی عبادت میں

دشمنوں پر بھی ہے کرم ان ﷺ کا
وہ ہیں بے مثل اپنی رحمت میں

نفرتوں کا وہاں گزر ہی نہیں
ہم ہیں جس بارگاہ الفت میں

اک عجب سرخوشی میں رہتے ہیں
ہم ثنا خوان ان ﷺ کی مدحت میں

ورنہ ہم کیا ہماری ہستی کیا
ساری عظمت ہے ان ﷺ سے نسبت میں

اس محبت نے جڑ دئیے گویا
چاند تارے ہماری قسمت میں

​شاعرہ: نورین طلعت عروبہ

سوشل میڈیا اور اخلاقی اقدار

سوشل سائٹس سے وابستگی کے دوران جو سوالات میرے ذہن میں شدت سے سر اٹھاتے ہیں ان میں سے ایک اپنے معاشرے کی اخلاقی اقدار کے متعلق ہے ۔ 
میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ انسانوں پر ذاتی تبصرے کا حق ہمیں کس نے دیا ہے ۔ خواہ وہ انسان کوئی بہت بری شہرت کا حامل سیاست دان ہو؟ مجھے اس سچ کے اظہار کے لیے معاف فرمائیے کہ سیاست دان بھی انسان ہوتے ہیں۔ 
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیے گئے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : مسلمان کی جان، مال، عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے سوائے اسلام کے حق کے ۔ 
کیا کسی انسان کے بری شہرت کا حامل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کی عزت ہم پر حلال ہو گئی ہے ؟ کوئی عورت خواہ شو بز سے تعلق رکھتی ہے اور کتنی ہی بری شہرت رکھتی ہے پھر بھی میرے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ اس کے متعلق بلاثبوت کوئی بات کر دوں؟ ہمیں کیسے یقین ہے کہ ہم جو جی میں آئے اس کے بارے میں کہہ ڈالیں ، ہم سے کوئی حساب نہ ہو گا؟ یوں لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاست دان ، ایکٹر ، کھلاڑی، علماء، مشہور یا غیر معروف انسانوں کے متعلق ہم سب کچھ بلا ثبوت کہنے کی آزادی رکھتے ہیں ۔ اور اگر سیاست دان عورت …