اشاعتیں

June, 2016 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

رمضان میں خواتین عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  ہر سال رمضان میں  یہ سوال سامنے آتا ہے کہ: "خواتین رمضان میں عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟" پہلے  یہ سوچ لیا جائے کہ کیا کرنا ہے پھر وقت کا حساب لگا کر جدول بنا لیا جائے ۔ جب آپ کسی کام کا وقت مقرر کر لیتے ہیں اور پورے عزم سے عمل کرتے ہیں تو وہ  بآسانی ہو جاتا ہے ۔ رمضان میں باقی معمولات وہیں رہتے ہیں صرف دن میں روزہ اور رات میں قیام اللیل کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر لڑکیاں روزہ تو رکھتی ہیں لیکن نجانے کیوں قیام اللیل کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔ 
 میرے خیال میں رمضان میں خواتین کو صرف دو گھنٹے عبادت کے لیے نکالنے ہیں ۔  جیسا کہ پہلے گزر چکا، رمضان کی اہم ترین عبادت ہے روزہ اور قیام اللیل ، جو اس کو ایمان واجر کی امید کے ساتھ کرے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، اور روزے کے اجر کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہے کہ وہ صرف میرے لیے ہے تو اس کی جزا بھی میں دوں گا جو اللہ سبحانہ و تعالی کی شان کے مطابق ہو گی ۔ 1- روزہروزہ صرف اللہ کو معلوم ہے کہ آپ کا روزہ ہے ۔ اسی لیے اس کا اجر بھی اللہ تعالی نے اپنے پیارے بندوں سے چھپا لیا ہے وہ کیا ہو گا کتنا ہو گا اسے معلوم ہے…

شعبان کے آخر میں استقبال رمضان کا روزہ رکھنا

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَ يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ.   "تم میں سے کوئی بھی رمضان سے ایک یا دو دن قبل روزہ نہ رکھے الا کہ اگر کوئی شخص کسی دن کا روزہ رکھتا ہو تو وہ اس دن کا روزہ رکھ لے" ۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب لا یتقدم رمضان بصوم یوم ولایومین1914)
یعنی مثلا اگر کوئی شخص سوموار اور جمعرات کا روزہ باقاعدگی سے رکھتا ہے اور سوموار یا جمعرات کا دن رمضان سے متصل ایک دن قبل آجائے تو ایسے شخص کے لیے یہ روزہ رکھنا جائز ہے ۔ لیکن رمضان کے استقبال کی غرض سے شعبان کے آخری ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا ممنوع ہے۔