اشاعتیں

February, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

کچھ دن پہلے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر برطانوی چینل فور کی ایک صحافیکیتھی نیو مین نے ٹویٹ کیا کہ وہ برطانیہکی ایک مسجد Streatham mosqueکی جانب سے'Visit My Mosque Day' منانے کا سن کر مسجدگئیں،  لیکن بقول ان کے انہیں  دروازے سے ہی باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ مزیدلکھا کہ میں اچھی طرح لباس پہنے اور سر ڈھانپے ہوئے تھی، میں نے جوتے اتار دیے تھے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ Well I just visited Streatham mosque for #VisitMyMosque day and was surprised to find myself ushered out of the door...
I was respectfully dressed, head covering and no shoes but a man ushered me back onto the street. I said I was there for #VisitMyMosque mf
But it made no difference
اس ٹویٹ کو عوام اور پھر برطانوی ذرائع ابلاغ نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور گارڈین، ڈیلی میل، ہفنگٹن پوسٹ اور انڈیپینڈنٹ سمیت کئی ذرائع ابلاغ نے مسجد کے متعلق خبرمرچ مسالا لگا کر نشر کردیں جس میں مسجد کو عورت کے خلاف تک کہا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسجد کی انتظامیہ کو دھمکی آمیز پیغامات ملے، معاملہ پولیس تک پہنچا تو واقعے کی سی سی ٹی وی وڈیو نکالی گئی…