اشاعتیں

June, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہر اك لب پہ ہے گفتگوئے محمد

ہر اك لب پہ ہے گفتگوئے محمد ﷺ 
ہر اك دل ميں ہےآرزوئے محمد ﷺ 

فرشتوں ميں پائى نہ انساں ميں ديكھی
جہاں سے نرالى ہے خوئے محمد ﷺ

گرفتار جن كى ہے جان دوعالم 
وہ ہیں گيسوئے مشكبوئے محمد ﷺ 

يہ دل چاہتا ہے وہ لب چوم لوں ميں
كہ جس لب پہ ہو گفتگوئے محمدﷺ 

برسنے لگی مجھ پہ رحمت خدا كى 
چلا جھوم كر جب ميں سوئے محمد ﷺ 

ہو ميدان محشر كہ فردوس اعلى 
رہوں ہر گھڑی روبروئے محمد ﷺ 

مسلمان سب كٹ مريں غم نہیں ہے
نہ جائے مگر آبروئے محمد ﷺ 

ہو مسكن مرا يا الہى مدينہ
ہو مدفن مرا خاك كوئے محمد ﷺ 

خدا كى قسم شك نہیں اس ميں عاجز 
رہ خلد ہے رہ كوئے محمد ﷺ 
شاعر: عبدالرحمن عاجز مالیرکوٹلوی

تم آنچل کو لہرا دینا

انتساب: اپنی بیٹیوں اور سارى دنيا كى نئى نسل كے نام 
از : سليم كوثر 

وہ سارے سمے جو بيت گئے 
كيا ہار گئے كيا جيت گئے
جتنے دكھ سكھ كے ريلے تھے
ہم سب نے مل كر جھيلے تھے
اب شايد كچھ بھی ياد نہیں 
كبھی وقت ملا تو سوچیں گے
آپس كے پيار گھروندوں كو 
گڑیوں كے کھیل كھلونوں كو 
گیتوں سے مہكتى كيارى كو 
آنگن کے پھل پھلوارى كو 
دھرتى پر امن كى خواہش كو 
موسم كى پہلى بارش كو 
كن ہاتھوں نے بے حال كيا 
كن قدموں سے پامال ہوئے
وہ سارے سمے جو بيت گئے 
مل جل كر كتنے سال ہوئے 
يہ سال مہینے دن گھڑیاں
ہم سب سے آگے نكل گئے
ہم جيون رتھ ميں جڑے ہوئے
كبھی سنبھل گئے کبھی پھسل گئے
دامن ميں صبر كى مايا ہے 
کچھ آس اميد كى چھايا ہے 
ہر راہ ميں كانٹے پڑے ہوئے 
ہر موڑ پہ دکھ ہیں کھڑے ہوئے
تم بڑے ہوئے ، تم بڑے ہوئے 
اب لورى پاس نہیں رہتی 
تمہیں نيند كى آس نہیں رہتی
ميرى بات سنو ، 
ميرى بات سنو 
جب ہاں انكار ميں لپٹی ہو
تصوير غبار ميں لپٹی ہو
کہیں رشتے ٹوٹنے والے ہوں
یا اپنے چھوٹنے والے ہوں
جب ہر جانب ديواريں ہوں
اور پاؤں پڑی دستاريں ہوں
جب سچی بات پہ ہاتھ اٹھیں
پھر اٹھنے والے ہاتھ کٹیں
جب جھوٹ سے اصل بدل جائے 
انصاف كى شكل بدل جائے
جب امن كى راہ نہ ملتى ہو 
ا…

ہم کیسے مسلمان ہیں کیسے مسلمان

ہے خوف خدا دل ميں نہ تو غيرت ايمان 
ہم کیسے مسلمانہیں ہم کیسے مسلمان ؟
دنيا كى ہميں فكر ہے عقبى كا نہیں دھيان 
ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟

ہم صرف سنا كرتے ہیں مسجد كى اذانيں 
ہوتى ہی نہیں ہم سے ادا پانچ نمازيں
آباد ہمارے ہیں مكان ، مسجديں ويران 
ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟

مايوس نظر آتے ہیں مسجد كے منارے
آتا ہی نہیں كوئى مؤذن كے پكارے
منبر پر ہے خاموشى تو محراب ہیں سنسان 
ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟

دنيا كى خرافات ميں مغرور ہوئے ہیں
ہم لوگ تلاوت سے بہت دور ہوئے ہیں
گھر گھر نظر آتے ہیں طاقوں ميں قرآن 
ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟

ہونٹوں پہ نہیں اب ہیں دين كے ترانے 
ذہنوں ميں گونجتے ہیں فقط فلموں كے گانے
شيطان كے پابند ہوئے آج مسلمان 
ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟

كيا سنتسركار (ص) ہميں ياد نہیں ہے؟
اصحاب كا كردار ہميں ياد نہیں ہے؟
اب دل ميں كہاں جذبہ ء فاروق وعثمان؟
ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟

رسم و رواج ميں سب انسان ہیں ڈوبے
دولت كى فراونى ميں اللہ كو بھولے 
افسوس نہیں آج یہ ہیں سركاركے فرمان 
ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟
---- شاعر: نامعلوم----
ٹرانسكرپشن: ناچیز

ہم مسلماں ہیں اک جسم اور ایک جاں

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مومنوں کی مثال آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے میں، رحم کرنے میں اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور شفقت کرنے میں ایک جسمکی طرح ہے، جب اس کا ایک عضو درد کرتا ہے تو  باقی سارا جسم اس کی وجہ سے شب بیداری اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔'' (متفق علیہ)



ہم مسلماں ہیں اک جسم اور ایک جاں
سارے عالم كو يہ بات بتلائيں گے
مبتلائے بلا ہوں مسلماں كہیں
دل ہمارے پريشان ہو جائيں گے

مذہبی رابطے كا ہے يہ معجزہ
وہ مسلمانمشرق يا مغرب كا ہو 
سب كے احساس وافكار وارمان بھی
ايك جيسے جہاں كو نظر آئيں گے 

ہم مسلماں ہیں اک جسم اور ایک جاں
سارے عالم كو يہ بات بتلائيں گے
مبتلائے بلا ہوں مسلماں كہیں
دل ہمارے پريشان ہو جائيں گے

اك خدا، ايك كعبہ ہے قرآن ايك 
كلمہ حق سے اپنی ہے پہچان ايك 
خاتم الانبياء اپنے سردار ہیں
كيسے ممكن ہے پھر ہم بكھر جائيں گے؟ 
ہم مسلماں ہیں اک جسم اور ایک جاں
سارے عالم كو يہ بات بتلائيں گے


_____ شاعر: صابر على پورى________
ٹرانسكرپشن: ناچیز 
سنيے: http://www.youtube.com/watch?v=ZrcsVpv0IWM