تم آنچل کو لہرا دینا
انتساب: اپنی بیٹیوں اور سارى دنيا كى نئى نسل كے نام از : سليم كوثر وہ سارے سمے جو بيت گئے كيا ہار گئے كيا جيت گئے جتنے دكھ سكھ كے ريلے تھے ہم سب نے مل كر جھيلے تھے اب شايد كچھ بھی ياد نہیں كبھی وقت ملا تو سوچیں گے آپس كے پيار گھروندوں كو گڑیوں كے کھیل كھلونوں كو گیتوں سے مہكتى كيارى كو آنگن کے پھل پھلوارى كو دھرتى پر امن كى خواہش كو موسم كى پہلى بارش كو كن ہاتھوں نے بے حال كيا كن قدموں سے پامال ہوئے وہ سارے سمے جو بيت گئے مل جل كر كتنے سال ہوئے يہ سال مہینے دن گھڑیاں ہم سب سے آگے نكل گئے ہم جيون رتھ ميں جڑے ہوئے كبھی سنبھل گئے کبھی پھسل گئے دامن ميں صبر كى مايا ہے کچھ آس اميد كى چھايا ہے ہر راہ ميں كانٹے پڑے ہوئے ہر موڑ پہ دکھ ہیں کھڑے ہوئے تم بڑے ہوئے ، تم بڑے ہوئے اب لورى پاس نہیں رہتی تمہیں نيند كى آس نہیں رہتی ميرى بات سنو ، ميرى بات سنو جب ہاں انكار ميں لپٹی ہو تصوير غبار ميں لپٹی ہو کہیں رشتے ٹوٹنے والے ہوں یا اپنے چھوٹنے والے...